’’اور محبت وہی انداز پرانے مانگے‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارادہ باندھ رکھا تھا کہ مولانا کے مارچ کے بارے میں اب مزید کچھ نہیں لکھنا۔ اس کے اسلام آباد پہنچ جانے تک انتظار کیا جائے۔ مزید براں مجھے پیمرا کی جانب سے جاری ہوئی ان ہدایات کے بارے میں بھی کوئی فکر لاحق نہیں جن کے ذریعے اینکرخواتین وحضرات کو صحافیانہ اخلاقیات کی مبادیات یاد دلائی گئی ہیں۔

تقریباََ دس برس تک ’’اینکری‘‘ بھی بھگتی ہے۔ آج سے عین ایک برس قبل ’’اچانک‘‘ اطلاع ملی کہ جس ادارے کی سکرین پر نمودار ہوتا تھا اسے ’’معاشی مشکلات‘‘ درپیش ہیں۔معاشی مشکلات کی تفصیلات بتائے بغیر مجھے فارغ کردیا گیا۔قناعت کی عادت ہے۔میرے لاہور کے شاہ حسین نے اپنے ایک شعر میں ربّ کا شکرادا کیا تھا کہ ’’مکھیوں‘‘ نے اس کا سارا’’گڑ‘‘ چوس لیا ہے۔وہ مطمئن ہوگیا کہ اپنے ’’گڑ‘‘ کو کھودینے کے بعد وہ مکھیوں کی ’’بھنبھناہٹ‘‘ سے آزاد ہوگیا۔غالبؔ کے بیان کردہ گوشے میں قفس کے آرام والی بات۔ لہذا پیمرا جانے اور ٹی وی سکرینوں کے ذریعے حق وصداقت کے پیغامبر ہوئے اینکرخواتین وحضرات۔ آزادیٔ صحافت کے بارے میں ویسے بھی ’’اپنا یہ حال کہ لٹ بھی چکے۔مربھی چکے اور محبت وہی اندازپرانے مانگے‘‘والا شعر یاد آجاتا ہے۔کونے میں بیٹھ کر دہی کھانے کی افادیت کا احساس ہوچکا ہے۔

نہایت دیانت داری سے یہ طے کیا تھا کہ حریم نامی اس خاتون کو اس کالم کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا جائے جو فارن آفس گئیں اور وہاں کے ایک VVIP تصور کئے ہال میں کھڑی ہوئیں۔ دو سے زیادہ دہائیاں پاکستان کی وزارتِ خارجہ جانا بطور رپورٹر میرے لئے لازمی تھا۔ وہاں سکیورٹی کے فرائض انجام دینے والے میرے چہرے سے خوب واقف ہوا کرتے تھے۔ اس کے باوجود اپنی شناخت کے مراحل سے گزرنا ہوتا تھا۔کئی بارجن صحافیوں کو باقاعدہ مدعو کیا گیا تھا ان کے ناموں پر مبنی فہرست میں میرا نام نہ ہوتا۔سکیورٹی والوں کو یقین دلاتا کہ مجھے ایک نہیں کئی فون کرکے بریفنگ کے لئے بلایا گیا ہے۔متعلقہ افسر کی تلاش ہوتی۔ وہ بھاگتا ہوا مرکزی دروازے پر آتا۔ ’’سوری سوری‘‘ کہتے ہوئے اندر لے جاتا۔

ہم صحافیوں کو فقط گرائونڈ فلور تک محدود رکھا جاتا۔ فارن آفس کی لفٹ کے ذریعے چوتھے فلور تک پہنچنے کی سعادت دس یا پندرہ سے زیادہ مرتبہ نصیب نہیں ہوئی۔ اس فلور پر وزیر خارجہ کا دفتر ہوتا ہے۔عجب اتفاق یہ بھی ہوا کہ 1990 کی دہائی سے 2013 تک جتنے بھی وزرائے خارجہ رہے ان کے ساتھ ذاتی دوستی رہی۔خورشید قصوری صاحب کے ساتھ گھر کے فرد جیسا معاملہ رہا۔ موجودہ وزیر خارجہ سے بھی قدیمی شناسائی ہے۔ انہیں ’’دوست‘‘ پکارنے کا مگر حوصلہ نہیں۔خاندانی مخدوم ہیں۔ان کی شفقت کو دوستی شمار کرنا بے وقوفی ہے۔

بہرحال حریم نامی خاتون نے وزارتِ خارجہ کے ایک VVIP ہال میں جاکر موبائل فون کے ذریعے ایک ویڈیو بنائی۔اسے Tiktok والی App پر چڑھادیا۔بلّے بلّے ہوگئی۔ ہمارے سنجیدہ افراد مگر ناراض ہوگئے۔ سوال اُٹھے کہ مذکورہ خاتون کو ایک باوقار ادارے میں جاکر ’’عامیانہ‘‘ نوعیت کی وڈیو بنانے کی اجازت کیوں ملی۔کئی افراد نے Security Breach کی دہائی بھی مچادی۔خاتون کے خلاف سخت انضباطی کارروائی کے تقاضے شروع ہوگئے۔

میں اس خاتون کے دفاع میں یہ دلیل دینا چاہتا ہوں کہ اس کی بنائی وڈیو پاکستان کے Soft Image کے فروغ میں بہت کام آسکتی ہے۔اس کے ذریعے ہم دنیا کو بتاسکتے ہیں کہ ایک زمانے میں دہشت گردی کے خوف سے سکیورٹی کے حصار میں گھرا تصور ہوتا پاکستان اب ایک کھلاڈلامعاشرہ ہے۔یہاں کا ماحول بہت Relax ہے۔ایک عام خاتون فارن آفس میں جاکر ایک ایسی وڈیو بناسکتی ہے جو ہمارے ’’کھلے ڈلے‘‘ ماحول کا بین ثبوت ہے۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری صاحبہ کے ایک ٹویٹ نے لیکن میری توجہ منتشر کردی ہے۔اس ٹویٹ کے ذریعے ڈاکٹر صاحبہ نے یاد دلایا ہے کہ ان کے پاس علم سیاسیات کی ڈگری نہیں ہے۔انسانی حقوق کو بھی ایک طالب علم کی طرح انہوں نے کسی یونیورسٹی سے نہیں سیکھا۔ وہ مگر سیاست دان ہیں۔قومی اسمبلی کی دوسری بار رکن منتخب ہوئی ہیں۔عمران خان صاحب کی کابینہ میں وزیر برائے انسانی حقوق ہیں۔سوال اٹھتا ہے کہ پیمرا کی تازہ ترین ہدایات کی روشنی میں وہ بطور ’’ماہر‘‘ کسی ٹی وی سکرین پر آکر سیاست یا انسانی حقوق کے بارے میں گفتگو کا حق رکھتی ہیں یا نہیں۔

ایمان داری کی بات ہے کہ مجھے ڈاکٹر شیریں مزاری صاحبہ کے ٹویٹ نے حیران کردیا۔ وہ کابینہ کی ایک معزز اور بلندآہنگ رکن ہیں۔ عمومی رویہ ان کا ہمیشہ بہت دبنگ رہا۔ٹویٹ لکھنے کے بجائے انہیں پاکستان کے ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ یعنی وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب سے فوری رابطہ کرنا چاہیے تھا۔ جو سوالات انہوں نے ٹویٹ کے ذریعے اٹھائے وہ ان کے روبرو اٹھائے جانا مناسب ہوتا ۔ پارلیمانی نظام حکومت میں وفاقی حکومت کے اداروں کی جانب سے لئے تمام تر اقدامات کابینہ کی اجتماعی ذمہ داری ہوتے ہیں۔

پیمرا یقینا بہت ہی خودمختار اور آزاد ہے مگر وہ بالآخر ایک وفاقی ادارہ ہے۔اسے چلانے کے لئے جو اخراجات مختص ہوتے ہیں وہ سالانہ بجٹ سے ادا ہوتے ہیں۔اس بجٹ کی منظوری قومی اسمبلی سے ہوتی ہے۔سنا ہے اس ایوان میں میرے اور آپ کے ووٹوں سے منتخب ہوئے افراد براجمان ہیں۔یہ افراد حکومتی اداروں کو چلانے کے لئے جو رقوم مختص کرتے ہیں وہ میرے اور آپ کے دئیے ٹیکسوں سے ادا ہوتے ہیں۔وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کا یہ حق اور ذمہ دار ی ہے کہ وہ نگاہ رکھیں کہ ان کے ’’ماتحت‘‘ اداروں سے کیا ہدایات جاری ہوئی ہیں۔

اگر کچھ ہدایات ’’مناسب‘‘ تصور نہ ہوں تو وزیر اعظم کابینہ کا اجلاس بلواکر انہیں Withdraw کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ان کے وزیر کو ٹویٹ کے ذریعے ’’نامناسب‘‘ تصور ہوئی ہدایات سے لاتعلقی کے اظہار سے گریز کرنا چاہیے تھا۔اجتماعی ذمہ داری لینے کو آمادہ نہیں تو ایک لفظ ہوتا ہے۔’’استعفیٰ‘‘۔ وہ لکھنے کے بعد جو من میں آئے ٹویٹ کریں۔

Experts یا ماہرین کا ذکر چلا ہے تو یہ بھی یاددلانا ضروری ہے کہ ووٹ کا استعمال بھی وسیع تر تناظر میں ’’رائے کا اظہار‘‘ ہے۔عمرا ن خان صاحب وزیر اعظم کے منصب پر ان دنوں اس لئے براجمان ہیں کیونکہ جولائی 2018کے انتخابات کے دوران ہمارے رائے دہندگان کی اکثریت نے ان کی جماعت کے حق میں ووٹ ڈالا۔تحریک انصاف کے ووٹ دینے والے تمام خواتین وحضرات ہارورڈ یا آکسفورڈ جیسی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نہیں ہوئے تھے۔ہمارے ہاں موجود شرح تعلیم کی نمائندگی کرتے ہیں۔

فرض کریں ایک اینکر مائیک لے کر بازار میں چلا جائے۔وہ لوگوں سے معاشی حالات کی بابت تاثرات پوچھے تو اکثریت مہنگائی کا رونا روئے گی۔ کسادبازاری کے بارے میں پریشانی کا اظہار کرے گی۔کیمرے پرریکارڈ ہوئے ان تاثرات کو پیشہ وارانہ زبان میں Sotsکہا جاتا ہے۔یہ خلقِ خدا کی آواز شمار ہوتے ہیں جنہیں ہمارے ہاں ’’نقارئہ خدا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ خلقِ خدا کی یہ آواز سکرین پر دکھائی جاسکتی ہے یا نہیں۔موجودہ حالات میں غالباََ اس کا جواب نفی میں ہے۔

معاشی حالات پر فقط Experts کو بات کرنا ہوگی۔ ہماری وزارتِ خزانہ کے مدارالمہام ان دنوں اللہ کے کرم سے حفیظ شیخ صاحب ہیں۔انہوں نے معاشیات میں PHD کررکھی ہے۔ماہرمعیشت ہیں۔ IMF کوان کی مہارت پر کامل اعتماد ہے۔عمران خان صاحب ان کی ’’مہارت‘‘ سے مرعوب ہوکر اپنی جماعت کے ایک بانی رکن اسدعمر کو فارغ کرنے پر مجبور ہوئے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ صاحب مگر شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک ٹی وی سکرینوں کو میسر نہیں ہوسکتے۔دفتری اوقات کے بعد انہیں گالف بھی کھیلنا ہوتی ہے۔ اس کا وقت نہ ہو تو گھر میں جدید مشینوں کے استعمال سے اس کھیل کی پریکٹس کرتے ہیں۔ وہ میسر نہ ہوں تو اینکرخواتین وحضرات ڈاکٹر حفیظ پاشا صاحب سے رجوع کرنے کو مجبور ہوجائیں گے۔پاشا صاحب بھی Expertہیں۔معاشیات میں PHDکررکھا ہے۔ہماری معیشت کو مگر وہ زبوں حال قرار دئیے چلے جارے ہیں۔ان کی ’’ماہرانہ رائے‘‘ معیشت کے بارے میں Feel Goodماحول پیدا نہیں کرے گی۔ بہتر یہی ہے کہ محترمہ حریم سے درخواست کی جائے کہ وہ معیشت کے بارے میں بھی چند وڈیوز بنائیں۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •