مولانا کا آزادی مارچ: جسے مات ہو، وہ گھر جائے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئیے ذرا آج کے دن مولانا فضل الرحمٰن کے لانگ مارچ سے قبل کے حالات کا اک طائرانہ جائزہ لیتے ہیں۔ یہ جائزہ احباب کو آج کے دن کی صورتحال سمجھنے میں مدد دے گا۔

پاکستان میں سیٹھ میڈیا پر پاکستانی شہریوں اور بالخصوص پاکستانی سیاستدانوں کو ڈی-ہیومینائز، یعنی ان کو اوسط انسان کے درجے سے کمتر “مخلوق” دکھانا، کرنے کا عمل پرانا ہے۔ یہ کام پہلے جب صرف پی ٹی وی تھا، کچھ کم درجے کا تھا۔ مگر سیٹھ میڈیا کی آمد کے بعد کیمرہ اور مائیک، اکثریتی حالت تعظیمی سجدہ میں ہی پائے گئے۔ پہلے صحافی ہوتے تھے، ٹی وی نے اینکر متعارف کروا دئیے جو اپنے کہے اور دکھائے کا کوئی وزن نہیں اٹھاتے بلکہ مسلسل اور تواتر سے جھوٹ بول بول کر عوام کے شعور کی مسلسل توہین کیے چلے جاتے ہیں۔ ثبوت کے لیے آپ بس یہی دیکھ لیجیے کہ عمران نیازی صاحب کے تبدیلی انقلاب کے ہراول دستے میں شامل تقریبا تمام کے تمام اینکرز آج کل کیا ارشادات فرما رہے ہیں۔ بیلی پور کے اک جانثار تو خود پر لعنت بھی بھیج چکے ہیں۔ خود پر لعنت بھیجنے کے اس عمل سے، میں بھرپور اتفاق کرتا ہوں۔

آئیے، ذرا ماضی قریب کو دیکھتے ہیں کہ جس کا آج کے حالات کے ساتھ بھرپور تعلق ہے۔

اپریل 2016 میں پانامہ لیکس کا شور بلند ہوتا ہے۔ اس میں 436 پاکستانی بھی پائے جاتے ہیں۔ آپ کو میاں نواز شریف کے علاوہ کسی دوسرے کے خلاف کسی عدالتی ایکشن کا معلوم ہے تو بتا دیجیے۔ اور لطف یہ ہے کہ پانامہ کی بنیاد پر بنائے جانے والے مقدمے کا فیصلہ اقامہ پر ہوتا ہے۔ اس سارے عرصے میں مگر عدالتی کارروائی اور سیٹھ میڈیا کی سرگرمی کا مکمل اور بھرپور فوکس صرف اور صرف میاں نواز شریف کی شخصیت رہتی ہے۔

مسلم لیگ نواز پر مسلسل ضربیں لگائی جاتی ہیں۔ پارٹی سربراہ کی عدالتی سزا کو بنیاد بنا کر سینٹ کے الیکشنز سے صرف تین دن قبل، پوری جماعت سے انتخابی نشان چھین لیا جاتا ہے۔ ریاست کے ادارے اب اتنے درپردہ بھی نہیں رہے کہ انتخاب سے قبل ایک ایم پی اے کی چھترول کی جاتی ہے تو وہ موبائل ویڈیو ریکارڈ کرواتا ہے اور بعد میں اسے “محکمہ زراعت” پر ڈال دیتا ہے۔ لطف تو یہ ہے کہ محمکہ زراعت پنجاب اس پر اپنا بیان بھی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ایسی “خدمت” ہم فراہم نہیں کرتے۔ لطف یہ ہے اس وقت حکومت بھی پی ایم ایل این کی ہی ہوتی ہے۔

الیکشن ہوتے ہیں۔ تقریبا سترہ لاکھ ووٹ ریجیکٹ ہو جاتے ہیں۔ ریجیکٹ ہونے والے ووٹ، پاکستان تحریک انصاف کو تقریبا دو درجن نشستیں جتوانے والی ٹوٹل لِیڈ کے ووٹوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ معمولی اکثریت کی بنیاد پر تحریک انصاف کی حکومت بنا دی جاتی ہے اور ہدایات جاری ہوتی ہیں کہ چھ ماہ مثبت رپورٹنگ کی جائے۔ ڈیڑھ سال ہونے کو آچکا ہے، مثبت رپورٹنگ کی خاطر، پیمرا نت نئے نوٹیفیکیشنز نکالنے کی فیکٹری بن چکا ہے اور میڈیا مسلسل حالت رکوع میں ہے۔

اس دوران اپوزیشن کے سیاستدانوں کی مسلسل تذلیل کی جاتی ہے اور اس کارِثواب میں سیٹھ میڈیا کے تقریبا 90 فیصدی اینکر پیش پیش رہتے ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں کے انٹرویوز کٹ کر دئیے جاتے ہیں۔ وہ اگر عدلیہ اور فوج پر بات کرنا چاہئیں تو ان الفاظ پر میڈیا پر پہلے “ٹوں ٹوں” کی آوازیں آتی تھیں، اب سارے پروگرام ہی اڑا دئیے جاتے ہیں۔

کہنے دیجیے کہ اس ساری خرابی کی بنیاد میں پیپلز پارٹی کا بہت بنیادی کردار ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں حکومت ختم کروا کر اس ڈھلان کے سفر کا آغاز فراہم کیا اور سیاست کو موم کی ناک بنانے والی مخلوق کو شہ بخشی۔ اسی جماعت نے سینیٹ کے الیکشنز میں جناب صادق سنجرانی کو چئیرمین بنوایا۔ میں نے زیادہ تحقیق نہیں کی، مگر تھوڑا معلوم کیا تو پتا چلا کہ چئیرمین سینیٹ پر عدم اعتماد کی جڑوں میں بھی بنیادی طور پر، الحمداللہ، یہی جماعت بیٹھی۔ اس سے قبل، صدارتی الیکشنز میں اس جماعت نے مولانا فضل الرحمٰن کو ووٹ نہ دیا، وگرنہ آج شاید مولانا فضل الرحمٰن پاکستان کے صدر ہوتے۔ تماشہ یہ بھی دیکھیے کہ اسی جماعت کے رہنما آج اپنے کیے ہوئے بھگتتے ہوئے اک بار پھر حریت اور دلیری کا استعارہ بنتے چلے جا رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن مضبوط اعصاب کے سیاستدان ہیں۔ وہ ہتھوڑے سے نہیں، نشتر سے وار کرنے والے سیاستدان ہیں۔ وہ سیاست کے موجودہ انتظام پر تو پہلے ہی دن سے سوال اٹھا رہے ہیں، مگر خیال ہے کہ انہیں اپنی کی جانے والی مسلسل توہین کا بھی احساس ہے اور اس احساس کو لوٹانے کے لیے انہوں نے اپنے ہوم ورک کے ساتھ جوابی وار کی ٹھانی۔

میں ذاتی طور پر احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے سے حکومتوں کو ہٹوانے یا مفلوج کرنے کے خلاف ہوں۔ حکومت کی تبدیلی صرف سیاسی اور بذریعہ پارلیمانی ووٹ ہونی چاہئیے۔ مگر یہاں اک کیچ ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ پاکستان میں جاری یہ تماشہ تو طاقت کے علاوہ، کسی دوسرے اصول، کسی دوسری بنیاد کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔

حامد میر صاحب کئی مرتبہ ٹی وی پر آن-ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ 2014 کے دھرنے کو جنرل راحیل شریف صاحب کی حمایت حاصل تھی۔ تحریک لبیک والوں نے راولپنڈی میں مسلسل تماشہ لگائے رکھا؛ اب ناموس رسالت کو خطرہ نہیں کیا؟ جسٹس قاضی فائز عیسی کا اس مقدمے پر اک بھرپور فیصلہ ہے جس کے نکات پڑھنے والے ہیں۔ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی گئی۔ احسن اقبال کو گولی ماری گئی اور اس سب کے آغاز میں بھی اک پریس کانفرنس تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ختم نبوت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

تو جناب، طاقت کے اس کھیل میں مولانا فضل الرحمٰن کو وار کرنے کا عین وہی حق حاصل ہے جو ان کے اور دیگر سیاستدانوں کے مخالفین کو حاصل رہا ہے۔ اس میں ریاستی مشینری نے بھی ڈی-ہیومینائزیشن کے پراسیس کا ساتھ دیا؛ عدالتی فیصلے میں “سسلیئن مافیا” کے الفاظ تو یاد ہونگے ناں؟

ایسی صورتحال میں مجھ جیسے، دھرنہ وغیرہ کی ذاتی مخالفت رکھنے کے باوجود، اس کے خلاف بولنے سے قاصر ہیں۔ سادہ سی بات ہے کہ جس میں جہاں دکھانے کی جتنی طاقت ہے، وہ دکھائے اور اس کھیل میں جسے مات ہو، وہ گھر جائے۔

صورتحال کل دوپہر سے شام کے وقت تک مزید واضح ہو جائے گی۔ کل کی صورتحال سے جڑے معاملات پر، کل اک بار پھر حاضری ہو گی۔ پاکستان میں طاقت پر بنیاد کرتا اک بہت عمدہ سیاسی منظرنامہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پاکستانی سیاست و تاریخ کے طالبعلم کی حیثیت سے میرے لیے اس میں سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •