بیوی کا دل کیسے جیتا جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ میرے سامنے بیٹھی رندھی آواز میں بول رہی تھی“ ”ڈاکٹر! میرا دل چاہتا ہے میں خود کشی کر لوں“

”کیوں بھئی، کیا ہوا“

” شادی کے بعد میری ساس نندوں نے ایک دن مجھے سانس نہیں لینے دیا۔ دن رات کام ہے اور طعن و تشنیع۔ شوہر کو صرف ان کی بات سمجھ آتی ہے۔ دن کو میرے لئے وہ اجنبی ہوتا ہے بات بہ بات جھگڑتا ہوا اور اپنی ماں بہنوں کی شکایات پہ میری جواب طلبی کرتا ہوا، اور رات کے اندھیرے میں اپنی خواہشات کی طلب کی، مانگ میں بے قرار۔

لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صبح کو زخمی کیا گیا من، رات کو محبت کی رم جھم میں ڈوب جائے۔ پھر یہ سب ایک فرض بن جاتا ہے ڈاکٹر، ایک ناگوار فریضہ اور شوہر چڑ کے کہتے ہیں کہ میں پتھر ہوں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم لڑکیاں خوشی خوشی سولی کیوں چڑھ جاتی ہیں ”

ہمارے آج کے کالم کا گہرا ناتا ہے کچھ باتوں سے، کچھ احساسات سے، کچھ کمنٹس سے جو ہم نے پچھلے کالم (جاہلوں کی دعا۔ خدا بیٹی کے نصیب اچھے کرے ) کے بعد پائے۔

ابھی ہم ان سب کی روشنی میں کچھ لکھنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ ہفتہ واری کلینک میں دو مریضوں سے ملاقات ہو گئی اور ہماری سوچ میں کچھ اور چراغ جل اٹھے، کچھ اور در وا ہو گئے۔

ڈاکٹر اگر ہمدرد ہو تو مریض بیماری کے ساتھ اپنے اندر کا حال بھی بیان کر دیتا ہے۔ نتیجتاً وہ گتھیاں سلجھانے کے لئے مل جاتی ہیں جن کا تانا بانا ہمارے گھروں کی بدصورت سیاست سے جڑا ہے، طاقت اور اختیار کی سیاست!

پہلی مریض انتہائی مضمحل دکھتی تھی، اداس آنکھیں اور پرکشش چہرہ۔ وہ بہت سی ایسی تکلیفوں کے ساتھ آئی تھی جو ذہنی اعصاب سے جڑی تھیں۔ ہم ماہر نفسیات تو نہیں لیکن دل کی کہانی سننے پہ یقین رکھتے ہیں۔ ہمارے تھوڑاسا کریدنے پہ وہ پھٹ پڑی تھی اور خودکشی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اور ہم نے سوچا تھا، اوہ خدایا! پھر وہی پدرسری معاشرے کی ازلی دیمک زدہ کہانی!

”میم، کیا اگلا مریض بھیج دوں“ میری اٹینڈنٹ نے پوچھا تھا؟

اور اگلا جوڑا جو داخل ہوا، یوں محسوس ہوا کہ باد نسیم کے جھونکے سے بیمار کو بے وجہ قرار آ گیا۔ پہلی مریض سے مل کے جو اداسی چھائی تھی، اس کا مداوا ہو گیا۔

نوجوان، بے انتہا پرکشش، فرحان چہرے، ہنستی آنکھیں، کھلکھلاتے لب، کلینک میں شادمانی رقص کر رہی تھی۔ ہم کافی حیران تھے کہ اپنے ملک سے تعلق رکھنے والا ایسا جوڑا کم ہی دیکھنے میں ملتا ہے۔

شادی کو ایک برس گزر چکا تھا اور اب خوشخبری ٹھہر چکی تھی۔ دونوں بات بے بات ہنستے تھے۔ دولہا میاں بہت جملہ باز تھے اور دلہن بہت پرجوش۔ دولہا میاں کو اپنی کہانی کہنے کا شوق تھا اور ہمیں سننے کا سو ہمارے چھیڑنے کی دیر تھی۔

”میں دس سال سے ملک سے باہر ہوں اور اپنے خاندان کو مالی طور پہ سپورٹ کر رہا ہوں۔ گزشتہ پانچ سال سے عقد کی خواہش تھی سوشگھر والوں سے بارہا درخواست کی۔ میری والدہ اور بہنوں نے سینکڑوں لڑکیاں دیکھ ڈالیں۔ میری کوئی خاص پسند نہیں تھی لیکن ان کے معیار پہ کوئی پورا ہی نہیں اترتا تھا۔ ہر لڑکی میں کوئی نہ کوئی نقص نکال دیا جاتا۔ میں تھک چکا تھا، مجھے یوں محسوس ہوتا کہ وہ سب اس سلسلے میں زیادہ پرجوش نہیں ہیں۔

ان کے ہاں جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو میں نے کچھ اور ٹھانی۔ میں نے کسی طرح نمبر لے کے ان کے والدین سے خود بات کی، انہیں اپنے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ درخواست کی کہ جو بھی تحقیق کرنا چاہتے ہیں کر لیجئیے اور اگر میں معیار پہ پورا اتروں تو مجھے قبول کر لیجیے۔ ان کے خاندان کو کچھ تامل تھا کہ عموما ایسا ہوتا نہیں۔

میں نے انہیں وڈیو کالز کیں، اپنا گھر دکھایا، اپنی تنخواہ کی تفصیل بھیجی، اپنی جاب کے متعلق بتائی، اپنی عادتیں بتائیں۔ اپنی خواہشات کا اظہار کیا، میں ان کی بیٹی کے تحفظ کے لئے کیا کر سکتا ہوں بتایا اور یہ بھی کہا کہ ان باتوں کا میرے والدین کو علم نہ ہو تو بہتر ہے۔

ان کے والدین کو میری صاف گوئی بے حد بھائی لیکن پھر بھی وہ تذبذب کا شکار تھے۔ میں نے گھر کے ایک ایک فرد سے بات کی اور بالآخر انہیں میری سچائی پہ اعتبار آ ہی گیا۔ ایک درخواست اور کی کہ میں والدین کو رشتہ لینے بھیجوں گا اور آپ لوگ فوراً قبول کر لیجیے گا۔ مزید یہ کہ مجھے عقد بھی جلد کرنا ہے تاکہ کوئی رخنہ اندازی نہ ہو سکے۔

اب دلہن کی باری تھی ”ہمیں ان کی باتیں بہت عجیب محسوس ہوئیں، لیکن لفظوں میں صداقت بولتی تھی۔ سو ہم سب نے ان پہ اعتبار کا فیصلہ کیا اور وقت نے ثابت کیا کہ ہمارے دل نے غلط نہیں سوچا تھا۔ ڈاکٹر میں آپ کو بتاؤں، میں پہلی دفعہ ان سے شب زفاف پہ ملی اور ملتے ان کی محبت میں گرفتار ہو گئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •