آنکھوں دیکھا حال: نواز شریف کی سزا کیسے معطل ہوئی؟


خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ نوازشریف کو 7 سال کی سزا ہوئی اگر وہ نہیں رہے تو سزا کا کیا بنے گا، میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں کہا گیا دل کا دورہ پڑا اور گردوں پر بھی اثر پڑا، گولیاں اورانجیکشن نوازشریف کو دینے کی نصیحت کی گئی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو جو ادویات دی جارہی تھیں ان میں سے بعض دوائیں دیگر بیماریوں کے باعث روکنا پڑیں۔  اس موقع پر خواجہ حارث نے میڈیکل رپورٹ کے اقتسابات پیش کیے اور بتایا کہ نواز شریف کے انجائنا کی وجہ سے تمام بیماریوں کا علاج بیک وقت ممکن نہیں، 26 اکتوبر کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق نواز شریف کا دل مکمل طور پر خون پمپ نہیں کررہا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کو ایک چھت کے نیچے تمام طبی سہولیات ملنا ضروری ہیں، ہمیں ڈاکٹرز کی نیت و قابلیت پر شبہ نہیں مگر نتائج سے بورڈ خود مطمئن نہیں، اگر نوازشریف کی سزا پرعملدرآمد کرانا ہے تو اس کے لیے ان کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔  ساتھ ہی انہوں نے موقف اختیار کیا کہ نوازشریف کو ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے علاج کرانے کی اجازت ملنی چاہیے، ضمانت منسوخی کی درخواست نیب کیوں نہیں دیتا؟ نوازشریف کی حالت بہتر ہوگئی تو وہ دوبارہ قید کی سزا کاٹ سکتے ہیں۔  اس دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ سیکشن 401 میں انتظامیہ (ایگزیکٹو) نواز شریف کو ریلیف دے سکتی ہے لیکن ایگزیکٹو اپنا کام ہی نہیں کررہا۔ انہوں نے خواجہ حارث سے پوچھا کہ سیکشن 426 کے بعد سیکشن 401 کی ضرورت کیوں پیش آئی، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ سیکشن 426 میرٹ اور میڈیکل کو بیان کرتا ہے جبکہ سیکشن 401 ایگزیکٹو ریلیف دے سکتا ہے اور طبی بنیادوں پر نواز شریف کی حالت بہتر نہیں ہے، ڈاکٹرز بھی طبی امداد بہتر انداز میں دے رہے ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ 5 دن مانگنے کے باوجود نواز شریف کی حالت بہتر نہیں ہوئی، جب بیماری ہی سمجھ نہیں آرہی تو ڈاکٹرز کیسے علاج کریں گے۔  نواز شریف کے وکیل کے دلائل کے بعد ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ روسٹرم پر آئے اور موقف بیان کرنا شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا علاج یہاں نہیں ہوسکتا، ڈاکٹروں نے نصیحت کی کہ نوازشریف کا علاج بیرون ملک سے کرائیں، جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹروں نے یہ نہیں کہا کہ علاج بیرون ملک سے کرائیں۔

اس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے علاج کے لیے 6 ہفتوں کے لیے سزا معطل کی تھی، تاہم عدالت عظمی نے سزا معطلی کے وقت کچھ پیرامیٹرز طے کیے تھے، عدالت نے واضح کیا تھا کہ نواز شریف ان 6 ہفتوں کے دوران ملک سے باہر نہیں جاسکتے، ان 6 ہفتوں میں پاکستان میں اپنی مرضی کا علاج کرانے کا کہا گیا تھا۔ نیب پراسیکوٹر کے موقف پر جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ اسلام آباد میں سزا پانے والے قیدی جیل جائیں تو ان کی کسٹڈی کو کون ریگولیٹ کرے گا؟

اڈیالہ جیل بھی پنجاب میں ہے جبکہ کوٹ لکھپت جیل بھی اسی صوبے میں آتی ہے، سیکشن 401 کے تحت اگر ریلیف دینا ہو تو کون دے گا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت کے ملزم اگر سزا کاٹ رہا ہے تو وہ الگ معاملہ ہے، تاہم آپ سیکشن 401 کا بتائیں؟ ریلیف صوبائی حکومت دے گی یا وفاقی؟ اگر لاہور میں سزا ہوتی ہے تو پنجاب حکومت ریلیف دے گی لیکن اگر اسلام آباد میں نیب عدالت سزا دیتی ہے تو سیکشن 401 پر کون ریلیف دے گا؟ اسی دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ آج تک کسی نے سوچا نہیں کہ اسلام آباد میں جیل بنائیں، جلدی جلدی جیلیں بنائیں تاکہ وہ آباد ہوں۔

اس موقع پر عدالت نے معاونت کے لیے ایڈووکیٹ جنرل طارق جہانگیری کو بلایا، جس پر وہ پیش ہوئے اور بتایا کہ اسلام آباد میں کوئی جیل اور جیل مینوئل نہیں، اسلام آباد میں بھی جوسزا پاتا ہے اس کو پنجاب حکومت ہی ریلیف دیتی ہے، وفاقی دارالحکومت کے قیدیوں کو چیف کمشنر ہی ریلیف دیتا ہے۔  ایڈووکیٹ جنرل کے جواب پر جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کہ یہ بتادیں کہ نواز شریف جیل میں بیمار ہوئے تو کیا چیف کمشنر نے انہیں ہسپتال بھیجا؟

پھر تو چیف کمشنر کو بھی فریق بنانا چاہیے تھا۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ کوئی بھی آفیسر اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھاتا، اس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف اڈیالہ سے لاہور کوٹ لکھپت جیل گئے تھے، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ تو اڈیالہ جیل کیا پنجاب میں نہیں ہے۔  سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے نواز شریف کی ضمانت پر مخالفت سے انکار کردیا اور کہا کہ میں میرٹ پر نہیں جاں گا، نواز شریف کی حالت تشویش ناک ہے، اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ہم ضمانت دے دیں تو کتنے وقت کے لیے دیں، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ نواز شریف کو 6 ہفتوں کی ضمانت ملی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

بشارت راجہ

بشارت راجہ شہر اقتدار سے پچھلی ایک دہائی سے مختلف اداروں کے ساتھ بطور رپورٹر عدلیہ اور پارلیمنٹ کور کر رہے ہیں۔ یوں تو بشارت راجہ ایم فل سکالر ہیں مگر ان کا ماننا ہے کہ علم وسعت مطالعہ سے آتا ہے۔ صاحب مطالعہ کی تحریر تیغ آبدار کے جوہر دکھاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وسعت مطالعہ کے بغیر نہ لکھنے میں نکھار آتا ہے اور نہ بولنے میں سنوار اس لیے کتابیں پڑھنے کا جنون ہے۔

bisharat-siddiqui has 157 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui