آنکھوں دیکھا حال: نواز شریف کی سزا کیسے معطل ہوئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے کورٹ روم نمبر دو میں دن بارہ بجے پہنچا کمرہ عدالت میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی لیگی کارکنان اور لیڈر ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں مصروف ہیں عدالتی اہلکار بار بار اعلان کر رہا ہے کہ میاں نواز شریف کیس ڈیڑھ بجے شروع ہو گا باقی کیسز کی سماعت کے لیے جگہ خالی کر دیں مگر اُس کی ایک نہیں سنی جا رہی سوا ایک بجے پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کمرہ عدالت میں پہنچ جاتے ہیں اُن کی آمد کے ساتھ ہی احاطہ عدالت میں گو نیازی گو کے نعرے بلند ہوتے ہیں عثمان بزدار عدالت کو بتاتے ہیں کہ 72 سالوں میں پہلا وزیراعلی ہوں جو جیل جا رہا ہوں اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ جیل نہیں جا رہے بلکہ جیل وزٹ کر رہے ہیں اس پر عدالت میں قہقہہ بلند ہوا ڈیڑھ بجے کیس کی سماعت شروع ہوتی ہے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی کیس کی سماعت کرتے ہیں۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ آپ سب سے بڑے آبادی والے صوبے کے وزیراعلی ہیں، بہت سے قیدی جیلوں میں بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ درخواست گزار بھی بہت سی بیماریوں کا سامنا کر رہے ہیں، نوازشریف تو عدالت میں آگئے ہیں، کتنے لوگ ہیں جو جیلوں میں بیماریوں سے لڑ رہے ہیں، بدقسمتی سے ہمارے پاس آگاہی مہم نہیں ہے اور لوگ وکیل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔  جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیلوں میں جو لوگ بیمار ہیں ان کی فہرست تیار کریں اور سیکشن 440 کے تحت انہیں خود بھی چھوڑا جاسکتا ہے، اس پر عثمان بزدار نے کہا کہ تھوڑی سی گزارش کرنا چاہوں گا، میں خود بھی وکیل ہوں، میں جہاں بھی جاتا ہوں جیل کا دورہ کرتا ہوں، اب تک 8 جیلوں کا دورہ کر چکا ہوں، 6 سو قیدیوں کو رہا کردیا، پیرول ایکٹ بھی کیبنٹ کے سامنے ہیں، جلد کام کر رہے ہیں۔

عثمان بزدار نے بتایا کہ اپنے اختیارات کا بھی استعمال کر رہے ہیں جبکہ جیل اصلاحات بھی لارہے ہیں، جیلوں کو ٹھیک کرنے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔  ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں نواز شریف کو بہتر طبی سہولیات دی جارہی ہیں، نوازشریف کا معاملہ نیب کا تھا مگر ہم نے پھر بھی خیال رکھا اور انتہائی پروفیشنل ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلی پنجاب نے بتایا کہ پہلی دفعہ ہورہا ہے کہ کوئی وزیراعلی جیلوں کا دورہ کر رہا ہے، 72 برسوں میں کسی وزیراعلی نے جیل کا دورہ نہیں کیا، میرٹ اور قانون کے مطابق اپنے اختیارات کا استعمال کریں گے، ہم ایک پیکج لارہے ہیں، جو بہت جلد لوگوں کو نظر آئے گا، اس پر عدالت نے ان کی بات مکمل ہونے پر کہا کہ آپ جاسکتے ہیں۔

سماعت کے دوران میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ پڑھنا شروع کی، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ ڈاکٹرز آپ آسان الفاظ میں عدالت کو بیماری سے آگاہ کریں۔  ڈاکٹروں نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کو دل سمیت بہت سی بیماریاں ہیں، اگر ہم پلیٹلیٹس بناتے ہیں وہ تباہ ہو جاتے ہیں، 80 انجیکشن لگا دیے گئے ہیں اور اب ان کے پلیٹلیٹس نہیں گررہے، اس پر جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ عام آدمی میں کتنے پلیٹلیٹس ہونے چاہئیں، جس پر ڈاکٹروں نے جواب دیا کہ کم از کم ایک لاکھ تک پلیٹلیٹس ہونے چاہئیں۔

اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف کو طبی علاج کے دوران ہی ہارٹ اٹیک ہوا ہے؟ جس پر ڈاکٹروں نے جواب دیا کہ جی دوران علاج ہی ان کو دل کا دورہ پڑا، جس پر جج نے پوچھا کہ کیا وہ ہسپتال میں رہے بغیر بہتر ہو سکتے ہیں، اس پر جواب دیا گیا کہ نہیں ان کو لمحہ بہ لمحہ ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔  اس دوران جج کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ نواز شریف کا ذاتی معالج کون ہے، اس پر ڈاکٹر عدنان روسٹرم پر آئے اور بتایا کہ نواز شریف کو زندگی بچانے والی ادویات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی سے ڈاکٹر شمسی کو علاج کے لیے بلایا گیا ہے لیکن ابھی تک ہمیں یہی نہیں معلوم ہو رہا ہے کہ نوازشریف کے پلیٹلیٹس کیوں گر رہے ہیں، نواز شریف کی عمر 70 سال ہے اور ان کو عارضہ قلب بھی لاحق ہے، وہ آج تک غیرمستحکم ہیں، میں نے آج تک کبھی ان کی اتنی تشویشناک حالت نہیں دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا کل رات کھانے کے بعد بلڈ پریشر بھی شوٹ کر گیا تھا، وہ اپنی زندگی سے جنگ لڑرہے ہیں۔

بعد ازاں جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹرز تشریف رکھیں، اب وکلا سے قانونی پہلو سن لیتے ہیں۔  اس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کیا اور بتایا کہ رپورٹ جو جمع کرائی گئی وہ 25 اکتوبر کی ہے۔  وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ نوازشریف کو اسیٹرائیڈ بھی دی جا رہی ہے، نوازشریف کے پلیٹ لیٹس بڑھانے کے لیے دوا دی گئی، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ فالج سے بچا کے لیے پلیٹلیٹس بڑھانا ضروری ہے، پلیٹلیٹس فوری بڑھائیں تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، میاں صاحب کو کچھ دن پہلے بھی اسی وجہ سے ہارٹ اٹیک ہوا، پلیٹلیٹس اس وقت بھی مصنوعی طریقے سے بڑھائے گئے ہیں، قدرتی طور پر ان کے پلیٹلیٹس بڑھ نہیں رہے۔

اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کہ ابھی تک کے علاج سے آپ مطمئن ہیں؟ ، جس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ ابھی تک ہم میڈیکل بورڈ کے علاج سے مطمئن نہیں ہیں، میڈیکل بورڈ خود اپنی رپورٹ میں کہہ رہا ہے کہ ہم سے انتظام نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ سروسز ہسپتال میں ٹیسٹوں کی مشینیں ہی نہیں ہیں، نوازشریف کے علاج و ٹیسٹ کے لیے مختلف جگہوں پر جانا پڑتا ہے، لگتا ہے ایک اسٹیج ایسی آئے گی جب ڈاکٹرز کہے گیں کہ جہاں سے چاہیں علاج کروا لیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ رفاہ یونیورسٹی سے میڈیا سائسز میں ایم فل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ بطور کورٹ رپورٹننگ کر رہے ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے بلاگ اور کالم بھی لکھتے ہیں۔

bisharat-siddiqui has 92 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui