حکومت اور سرپرستوں کا یہ خیال غلط نکلا کہ نواز شریف جیل جاتے ہی منتیں شروع کر دیں گے: سلیم صافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف صحافی سلیم صافی نے لکھا ہے کہ نواز شریف کے بارے میں یہ رائے تھی کہ چند دن جیل میں رہنے کے بعد وہ منتیں شروع کردیں گے لیکن اب کی بار ان کی شخصیت میں جو تبدیلی آئی، وہ ناقابلِ یقین تھی۔

ایک روایتی مشرقی شخص کے لئے اپنی اہلیہ اور ایک بیٹی کے لئے اپنی ماں کو لندن میں بسترِ مرگ پر چھوڑ کر گرفتاری دینے کے لئے پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا لیکن میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف نے ایسا کرکے سب کو حیران کر دیا۔

بیگم کلثوم نواز کی رحلت کے بعد ان دونوں نے کچھ مدت کے لئے خاموشی تو اختیار کرلی لیکن پگھل جانے کے بجائے شوہر کے لئے بیوی اور بیٹی کے لئے ماں کی اس بے بسی کی حالت میں رخصتی سے باپ اور بیٹی مزید سخت ہو گئے چنانچہ میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کو دوبارہ اندر کردیا گیا لیکن اب کی بار میاں نواز شریف اور مریم نواز مزید بہادری کے ساتھ جیل برداشت کرنے لگے

ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان اور سرکاری ڈاکٹربار بار ان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے رہے لیکن بےحس حکمران ان کی بیماری کا مذاق اڑاتے رہے۔ امریکہ میں وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد کہ وہ واپس جاکر نواز شریف کا اے سی اور ٹی وی ہٹوا دیں گے، جیل حکام نے مزید سختی شروع کردی چنانچہ میاں صاحب کی صحت تیزی کے ساتھ بگڑنے لگی اور انہیں پلیٹ لٹس کی کمی کا مرض لاحق ہوگیا۔

ڈاکٹروں کے اصرار پر انہیں سروسز اسپتال منتقل کردیا گیا لیکن حکمرانوں کو پھر بھی حالات کی سنگینی کا احساس نہیں ہوا۔ وزیر اور مشیر میاں صاحب کی صحت کا مذاق اڑاتے رہے۔ وزیراعظم نے یہ سوچ کر کہ پنجاب کے ڈاکٹرز شریف برادران کے زیرِ اثر ہیں، تصدیق کے لئے شوکت خانم کے ڈاکٹروں کو بھیجا گیا۔

جب ہر طرف سے تصدیق ہوگئی کہ صرف میاں صاحب کی حالت تشویشناک ہے بلکہ اگر وہ جیل میں چوبیس گھنٹے مزید رہ جاتے تو خاکم بدہن کوئی بڑا سانحہ رونما ہوسکتا تھا تو حکومت اور اس کے پشتی بانوں کے اوسان خطا ہونے لگے۔ ہر طرف سراسیمگی پھیل گئی کہ اگر خاکم بدہن میاں صاحب کو کچھ ہوا تو نہ صرف پنجاب کو بھٹو مل جائے گا بلکہ حکمران بھی ان کی جان سے کھیلنے کے الزام سے بچ نہیں سکیں گے چنانچہ میاں نواز شریف کو جلد از جلد رہا کرنے اور ملک سے باہر بھیجنے کی کوششیں زور پکڑ گئیں۔

میاں شہباز شریف اور مریم نواز بھی چاہتے ہیں کہ نواز شریف کی زندگی بچ جائے اور ان کا بہتر سے بہتر علاج ہو لیکن اس حوالے سے ڈیل کی باتیں سراسر جھوٹ ہیں کیونکہ اب کی بار ان سے زیادہ حکومت اور اس کے پشتی بان میاں صاحب کو جلدازجلد بیرون ملک بھیجنا چاہتے ہیں اور ان کو راضی کرنے کے لئے ان کے ساتھ مریم نواز شریف کو بھی باہر بھیجنے کو تیار ہیں۔

حکومت یوں بھی پھنس گئی ہے کہ اب اگر حکومت خود میاں صاحب کو باہر بھجواتی ہے تو اس کے سارے بیانیے کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے اور اگر ان کو یہاں رکھتی ہے تو اس سے بھی بڑا رسک لیتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •