کہیں یہ سیکورٹی رسک تو نہیں؟

بدقسمتی سے پاکستان کی مہار اِن دنوں غیر سنجیدہ لوگوں کے ہاتھ میں ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ حکمرانی دنیا کا سنجیدہ ترین کام ہے تو خارجہ معاملات اُس کا سب سے سنجیدہ اور حساس شعبہ، جو سب سے زیادہ سنجیدگی اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ خارجہ پالیسی میں یوں تو…

Read more

ٹیم اور کپتان

اسد عمر کو تحریک انصاف کا برانڈ کس نے بنایا؟ کس نے قوم کے سامنے ان کو معاشی ارسطو کے طور پر پیش کیا؟ کس نے ان کو اپنا نمبر ٹو بنا کر نوجوانوں کا ہیرو بنائے رکھا؟ کس نے ان کو دو مرتبہ کراچی سے لاکر اسلام آباد سے ایم این اے منتخب کروایا؟ اور کس نے انہیں اور قوم کو پانچ سال پہلے یہ بشارت دی تھی کہ اگر ان کی حکومت آئی تو یہی مسیحا اس کا وزیر خزانہ ہو گا؟ ظاہر ہے ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے۔ یعنی مبینہ وزیراعظم عمران احمد خان نیازی نے۔

تو پھر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اسد عمر ناکام ہیں لیکن عمران احمد خان کامیاب۔ مجھ جیسا معیشت کی الف ب سے نابلد شخص تو 2014 میں بغیر کسی براہِ راست تبادلہ خیال کے سمجھ چکا کہ یہ شخص معیشت کا نہیں بلکہ مارکیٹنگ اور وہ بھی اپنی مارکیٹنگ کا ماہر ہے (اس کا اظہار میں اپنے کالموں میں کر چکا ہوں جو ریکارڈ پر موجود ہیں ) لیکن مبینہ وزیراعظم دن رات ان کی شخصیت کا مطالعہ کرنے کے باوجود نہیں سمجھ سکے۔ پھر بھی لوگ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ملک کے مسائل کی صحیح تشخیص کر سکیں گے۔

Read more

متبادل کی تلاش

آپ کس کس اسد عمر کو بدلیں گے، یہاں تو ہر کونے میں اسد عمر بیٹھا ہے۔ اس صدر مملکت کا کیا کریں جو فرمایا کرتے تھے کہ ایوان صدر میں نہیں رہیں گے لیکن اب اس کی تزئین و آرائش پر کروڑوں روپے اڑانے کے بعد کبھی مشاعروں پر کروڑوں روپے اڑاتے ہیں تو…

Read more

ایک صوبہ اور دس وزرائے اعلیٰ

بدقسمتی سے چھوٹے صوبوں کے ساتھ نا انصافیوں کا سلسلہ تحریک انصاف کی حکومت میں بھی ختم نہیں ہوا۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان اور بلوچستان کے جام کمال عثمان بزدار سے کم شریف ہیں، کم مظلوم اور نہ کم بے اختیار، لیکن میڈیا میں تذکرہ صرف بڑے صوبے یعنی پنجاب کے وزیراعلیٰ کا ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بدحالی اور بدانتظامی پنجاب کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے لیکن تذکرہ صرف پنجاب کا ہوتا ہے۔

لطائف ان چھوٹے صوبوں میں بھی بے حساب تخلیق ہو رہے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر چرچا صرف پنجاب کے لطائف کا ہوتا ہے۔ عثمان بزدار خود نہیں تو کم از کم ان کی سفارشی تو طاقتور اور وزیراعظم کے گھر میں بیٹھی ہیں جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کے سفارشی بھی بدلتے رہتے ہیں۔ اسی طرح پنجاب میں ڈیفکٹو (Defacto) وزرائے اعلیٰ کا تو بہت تذکرہ ہو رہا ہے لیکن بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ڈیفکٹو وزرائے اعلیٰ کاذکر کوئی نہیں کرتا۔

یقیناً عثمان بزدار نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب کبھی خواب میں نہیں دیکھا تھا لیکن بشریٰ بی بی جو ان کی سفارشی ہیں، نے پھر بھی اپنی کرامات کے ذریعے پہلے سے کوئی بشارت تودی ہو گی جبکہ محمود خان صاحب نے اس کا خواب دیکھا تھا اور نہ کسی پیر یا پیرنی نے کوئی بشارت دی تھی۔ چونکہ پرویز خٹک کو وزیراعظم صاحب کسی صورت دوبارہ وزیراعلیٰ بنانے پر تیار نہ تھے تو شاہ فرمان، عاطف خان اور اسد قیصر کو پرویز خٹک کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہ تھے، اس لئے اتفاقاً ان کے لئے راستہ بن گیا۔

Read more

ووٹ دینے اور گننے والے پریشان ہیں کہ ایسا کیسے چلے گا؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسد عمر ذہین ترین انسان ہیں لیکن بدقسمتی سے ساری ذہانت صرف اور اپنی صرف اپنی ذات اور اس کی مارکیٹنگ کے لئے بروئے کار لارہے ہیں۔ خوش لباسی اور خوش شکلی کے ساتھ خوش گفتاری کا تڑکہ لگا کر گفتگو ایسی کرتے ہیں کہ منٹوں میں مخاطب ان کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ چونکہ مارکیٹنگ کے میدان کے شہسوار ہیں اس لئے گیدڑ کو شیر اور بکری کو اونٹ ٖبنا کر بیچ سکتے ہیں۔ فوجیوں کے ساتھ فوجی، سیاستدانوں کے ساتھ سیاستدان، مولویوں کے ساتھ مولوی، لبرلز کے ساتھ لبرل، جہادیوں کے ساتھ جہادی اور میڈیا والوں کے ساتھ میڈیا پرسن بن جاتے ہیں۔

وہ پی ٹی آئی کی سوچ اور نظریے کے حامی تھے اور نہ عمران احمد خان نیازی سے متاثر۔ ورنہ تو تحریک انصاف کے قیام کے بعد اس میں شامل ہوجاتے لیکن جب انہیں پی ٹی آئی میں شامل کروایا گیا تو اپنی ایسی مارکیٹنگ کرادی کہ جیسے جنرل حمید گل مرحوم نے نہیں بلکہ انہوں نے عمران خان کو سیاست کا راستہ دکھایا اور ڈاکٹر فاروق خان مرحوم نے نہیں بلکہ انہوں نے پی ٹی آئی کا دستور تخلیق اور تحریر کیا ہو۔ جہانگیر ترین پیسہ لٹا رہے تھے اور شاہ محمود قریشی کے پاس ووٹ اور تجربے کی دولت تھی۔

Read more

بی آر ٹی کا عذاب

کیا پی ٹی آئی کے منشور میں تھا کہ حکومت میں آنے کے بعد پشاور میں بی آر ٹی جیسا میگا پروجیکٹ شروع کیا جائے گا؟ نہیں، قطعاً نہیں۔ بلکہ پی ٹی آئی کے منشور میں میگا پروجیکٹ کی مخالفت کر کے صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹیشن کے ہمہ گیر اور چھوٹے منصوبوں پر زور دیا گیا تھا۔

کیا عمران خان صاحب یا پرویز خٹک صاحب نے انتخابی مہم کے دوران ذاتی طور پر کوئی وعدہ کیا تھا کہ حکومت میں آنے کے بعد وہ لاہور کے طرز پر پشاور میں میٹرو جیسا بڑا ٹریفک منصوبہ بنائیں گے؟ ہر گز نہیں۔ بلکہ انتخابی مہم کے دوران دونوں نے شہباز شریف کے میٹروز کے منصوبوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا، انہیں پنجاب اور پاکستان کے عوام کے ساتھ ظلم قرار دیا تھا، اسے ضرورت نہیں بلکہ خزانے پر بوجھ اور میگا کرپشن کا وسیلہ قرار دیا تھا۔

Read more

سردار جہانگیر ترین بمقابلہ سردار شاہ محمود قریشی

پی ٹی آئی کا اندرونی ڈھانچہ بڑی حد تک بلوچستان کےسرداری نظام کی طرز پر استوار ہے ۔اس کے اندرونی نظام کو سمجھنے کے لئے اگرہم بلوچستان کے سرداری نظام کی اصطلاحات مستعار لیں تو تفہیم میں آسانی ہوگی۔ انگریز نے بلوچستان کے تاریخی نظام کو اپنے تابع رکھنے کے لئے چار کیٹگریز میں تقسیم…

Read more

مسلم لیگ (نواز) کے مخمصے

مسلم لیگ (ن) کا سب سے بڑا مخمصہ یہ ہے کہ شریف ایک تھے اور ہیں مگر ان کی سیاسی سوچ ایک نہیں۔ ایک سوچ میاں نوازشریف اور مریم نواز کی ہے اور دوسری میاں شہباز شریف اور ان کے صاحبزادوں کی ہے۔ میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کی سوچ یہ تھی…

Read more

ماں جیسی ریاست

باپ پولیس میں معمولی افسر تھا جبکہ ماں اسکول میں ملازمہ۔ شوہر ٹی وی اینکر ہیں۔ دور طالب علمی میں لیبر پارٹی کی سیاست میں دلچسپی لینے لگیں۔ کمیونیکیشن اسٹڈیز اور سیاست میں بیچلر کی ڈگری لی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم ہائوس میں بطور ریسرچر کام کیا۔ کچھ عرصہ نیویارک میں ملازمت کی۔…

Read more

کالعدم تنظیموں کا معاملہ

ان کی نیت، اخلاص اور قربانیاں اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ غیر ریاستی عسکری تنظیموں کا وجود اس وقت پاکستان کے لئے وبال جان بن گیا ہے۔ نائن الیون کے بعد دنیا ایسی بدلی ہے کہ مشرق ہو یا مغرب، اسلامی دنیا ہو یا مغربی، کسی بھی جگہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کو برداشت…

Read more