ایک خواب کی تکمیل کا دن

میرے دادا وارث خان مہمند ایجنسی سے ضلع مردان اُس وقت منتقل ہوئے تھے جب میرے مرحوم والد جوان تھے تاہم میرے دادا کے بھائی وہاں زمینوں پر رہ گئے۔ ہم سب بہن بھائی مردان میں پیدا ہوئے اور یہاں پلے بڑھے۔ والدین اور بڑے بھائی غمی شادی پر وہاں آتے جاتے رہے لیکن مجھے…

Read more

چیئرمین سینیٹ: اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اگرچہ ماضی میں یوسف رضا گیلانی حکومت کا حصہ رہے تھے لیکن چیئرمین سینیٹ کا امیدوار بننے تک ان کے نام اور کام سے زیادہ لوگ واقف نہیں تھے۔  سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے موقع پر جب ان کا نام بطور امیدوار سامنے آیا تو ہم سب ششدر رہ گئے۔  پہلی…

Read more

عدلیہ پر اٹھتی انگلیاں اور یہ منصف

عدلیہ سے التجا کرتے رہے کہ وہ اپنے آپ کو سیاسی مقدمات میں ضرورت سے زیادہ ملوث نہ کرے لیکن افسوس کہ اس کے برعکس ہوتا رہا۔ گزارش کرتے رہے کہ صرف انصاف نہیں ہونا چاہیے بلکہ انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ شاید انصاف ہوا ہو لیکن انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آیا۔ چنانچہ وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ قومی احتساب بیورو اور اس کے چیئرمین کے امیج کا تو ایسا حال ہو گیا ہے وہ محتسب کم اور پی ٹی آئی کے رہنما زیادہ نظر آتے ہیں لیکن افسوس کہ اب عدلیہ کے بارے میں بھی انگلیاں اٹھنے لگی ہیں اور اگر میاں نواز شریف کو سزا دینے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے معاملے پر بھی اسی طرح مٹی ڈالنے کی کوشش کی گئی جس طرح اس سے قبل چیئرمین نیب کے اقدامات، بیانات اور معاملات پر ڈالی گئی تو عدلیہ کی حیثیت نہایت مجروح ہو جائے گی۔

Read more

امریکہ پاکستان پر مہربان کیوں؟

نواز شریف حکومت کے آخری سالوں میں امریکہ کے ساتھ تعلقات نہایت خراب رہے۔  تب اسے غصہ تھا کہ پاکستان ایک طرف افغانستان میں اس کی منشا کے مطابق کردار بھی ادا نہیں کر رہا اور دوسری طرف چین اور روس کے کیمپ میں جارہا ہے۔  مغرب کی جگہ مشرق اور شمال کی طرف رخ…

Read more

ہماری ریاست خطرناک راستے پر ہے

معاملہ حد سے زیادہ سنجیدہ اور سنگین ہے لیکن افسوس کہ ملک چلانے والے حد سے زیادہ غیرسنجیدہ ہیں، غرور کے شکار ہیں یا پھر انہیں اس سنگینی کا احساس نہیں ہورہا۔ کسی فرد یا ادارے کی اطاعت کی پہلی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ دل میں قدر اور عزت ہو اور یہ اطاعت کی…

Read more

پیارے مفتی صاحب کے جواب میں

گزشتہ روز جنگ کا ادارتی صفحہ اٹھایا تو اس میں شائع شدہ اپنے پیارے حضرت مفتی منیب الرحمٰن صاحب کی تصویر اور تحریر پر نظر پڑی۔ سوچا کہ انہوں نے دیگر علمائے کرام کی طرح گزشتہ رات قوم سے خطاب کے دوران غزوہ بدر اور غزوہ خندق میں صحابہ کرامؓ سے متعلق وزیراعظم کے خیالات…

Read more

حضرت مفتی منیب الرحمٰن صاحب کی خدمت میں

قارئین کرام جانتے ہیں اور میرے گزشتہ کئی سالوں کے دوران رویت ہلال کے حوالے سے شائع ہونے والے کالم گواہ ہیں کہ میں نے اس مسئلے پر کبھی بھی کوئی حتمی رائے نہیں دی بلکہ ہمیشہ ریاست اور علمائے کرام کے سامنے اپنا اور اپنے جیسے لوگوں کا مسئلہ رکھ کر اس کا حل سامنے لانے کی استدعا کرتا رہا۔ حضرت مفتی منیب الرحمٰن پر بھی تنقید کی اور مفتی شہاب الدین پوپلزئی پر بھی لیکن کسی ایک کی بھی تضحیک یا توہین نہیں کی بلکہ ہر کالم میں اس حقیقت کا اعتراف بھی کرتا رہا کہ اختلاف کے باوجود میں مفتی منیب الرحمٰن صاحب کے حکم کی تعمیل اس لئے کرتا ہوں کہ وہ ریاست کے حکم سے اس منصب پر بیٹھے ہیں لیکن حضرت مفتی منیب الرحمٰن حل نکالنے کے بجائے ہر مرتبہ مجھ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے طنز و تشنیع پر اتر آتے ہیں۔

اب کی بار انہوں نے پوری وڈیو جاری کی جس میں انہوں نے مجھ سمیت میری والدہ پر بھی طنز کیا۔ میں نے جواب میں وضاحتی کالم لکھا تو ان کا جوابی کالم شائع ہوا جس میں انہوں نے روایتی انداز میں مجھے لبرلز کے ساتھ جوڑ کر طنز و تشنیع کا نشانہ بنایا۔ میں جواب دے سکتا تھا لیکن چونکہ عید گزر گئی تھی اور مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ مفتی صاحب کو رویت ہلال کمیٹی کی چیئرمین شپ سے عشق ہو گیا ہے اس لئے میں خاموش رہا اور جواب دینے کے بجائے ملک کے اصل مسائل کی طرف متوجہ ہوا۔

Read more

اکمل لیونئے کی پاگل وزیراعظم کی پیش گوئی: مکمل کالم

اکمل لیونے بے انتہا غریب لیکن عجیب و غریب شخصیت کے مالک اور باکمال شاعر ہیں۔ خود دکھوں کے مارے ہیں لیکن دوسروں میں خوشیاں بانٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ جہاں کوئی ادبی تقریب ہو، وہاں پہنچنے میں ان کی غربت اور معذوری آڑے نہیں آتی، وہ اپنی کتابوں کی گٹھڑی سمیت وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ خود تو صاحب کتاب ہیں لیکن پختونوں کو بھی کتاب کا دوست بنانا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جہاں کوئی تقریب ہو، وہاں انہوں نے باہر کتابوں کا سٹال لگایا ہوتا ہے۔

Read more

کیا ’’ریاست مدینہ ‘‘میں ایسی عید ہوتی تھی ؟

میں منگل کی صبح (4جون ) کو یہ سطور سپرد قلم کررہا ہوں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پشاور کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے رات کو شوال کے چاند کی رویت سے متعلق درجنوں شرعی شہادتوں کا دعویٰ کرکے آج عید منانے کا اعلان کیا ہے۔ ماضی میں ان کے اور دیگر…

Read more

مفتی صاحب اور سائنس

مفتی صاحب رات کو سائنس کی برکت سے بننے والے میڈ ان جاپان گھڑیال میں الارم لگا کر آرام سے سو جاتے ہیں۔  انہیں مکمل یقین ہوتا ہے کہ صبح مقررہ وقت پر الارم بجے گا کیونکہ انہیں سائنس پر یقین ہے۔  آنکھ کھلتے ہی وہ سوئٹزر لینڈ کی گھڑی یا پھر امریکہ کے ایجاد…

Read more