ابو بکر البغدادی کی موت: امریکہ نے البغدادی کے خلاف آپریشن کی فوٹیج جاری کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنرل میکینزی
جنرل میکینزی البغدادی نے کمپاؤنڈ پر آپریشن کی تفصیلات بتائیں

امریکی فوج نے شمالی شام میں دولتِ اسلامیہ کے سربراہ کے کمپاؤنڈ پر ریڈ کی پہلی فوٹیج جاری کی ہے جس میں انھیں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کمپاؤنڈ کی طرف بھاگتے ہوئے شدت پسندوں پر بھی فوجی گولیاں برسا رہے ہیں جس میں ابو بکر البغدادی چھپے ہوئے تھے۔

بعد میں مبینہ طور پر البغدادی ایک سرنگ میں گھس گئے اور اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔

کارروائی کے بعد کمپاؤنڈ کو بموں سے اڑا دیا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینیتھ میکنزی کے مطابق تباہ شدہ عمارت ایک پارکنگ کی جگہ کی طرح لگ رہی تھی جس میں بہت سے بڑے بڑے گڑھے تھے۔

جنرل میکینزی نے کہا کہ سرنگ میں دو بچوں کی موت ہوئی ہے، تین کی نہیں جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا تھا۔

انھوں نے صدر ٹرمپ کی بتائی ہوئی اس تفصیل کی کوئی تصدیق نہیں کی جس میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’البغدادی مرنے سے پہلے رو رہے تھے اور فریاد کر رہے تھے‘۔

جنرل میکینزی نے پینٹاگن میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’وہ دو بچوں کے ساتھ ایک سوراخ میں گھسے اور خود کو اڑا دیا جبکہ ان کے لوگ باہر موجود تھے۔ آپ ان کی اس حرکت سے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کس قسم کے آدمی تھے۔‘

ابو بکر البغدادی
ابو بکر البغدادی کو کافی عرصے سے نہیں دیکھا گیا تھا

’میں یہ اپنے تجربے کی بنا پر مشاہدے سے کہہ رہا ہوں کہ انھوں نے ایسا کیا ہے۔ میں اس کے علاوہ ان کے آخری لمحات کے متعلق کسی بات کی تصدیق نہیں کر سکتا۔ میں اس کی تصدیق کسی طرح بھی نہیں کر سکتا۔‘

جنرل میکینزی نے کہا کہ چار خواتین جنھوں نے خود کش جیکٹیں پہنی ہوئی تھیں اور ایک شخص کی کمپاؤنڈ میں ہلاکت ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ امریکی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کرنے والے کئی دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس حملے کے انتہائی دباؤ اور ہائی پروفائل حیثیت کے باوجود ان عام شہریوں اور بچوں کو بچانے کی تمام کوششیں کی گئی تھیں جن کے متعلق شبہ تھا کہ وہ کمپاؤنڈ میں ہیں۔‘

جنرل میکینزی نے اس بات کی تصدیق کی کہ دولتِ اسلامیہ کے رہنما کی شناخت ان کے ڈی این اے سے کی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ان کے پاس البغدادی کے ڈی این کے نمونے اس وقت سے تھے جب وہ 2004 میں عراق کے ایک حراستی مرکز میں قید تھے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد البغدادی کی باقیات شناخت کے لیے فوجی اڈے پر لائی گئیں اور پھر مسلح لڑائی کے قوانین کے مطابق ان کی موت کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر ان کی باقیات کو سمندر میں دفن کر دیا گیا۔

جنرل میکینزی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دولتِ اسلامیہ بدلہ لینے کے لیے حملہ کر سکتی ہے۔

’ہمیں شک ہے کہ وہ بدلہ لینے کے لیے کوئی حملہ کریں گے۔ اور ہم اس کے لیے مکمل تیار ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10613 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp