آندھ راجہ بے داد نگری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


رشنو  یمنا کنارے شُکری کے مقام پرپیدا ہوئی۔ اس کا پِتا دیوتاؤں کی دھرتی کا سب سے بڑاراجہ تھا۔ اس کی رحم دلی، انسان دوستی اور عدل کی کہا نیاں دوردور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ دیوتاؤں کی دھرتی پر اس کے آباؤ اجداد نے صدیوں حکومت کی اگر چہ وہ خود دیوتاؤں کے پجاری نہیں تھے۔ اس کا باپ بھی صرف ایک ناقابل ادراک، غیر ذاتی خدا کو ماننے والا تھا۔ تین سو تیس کروڑ دیوتاؤں کی زمین میں خدائے واحد ’براہما‘کو ماننے والا۔ مقامی لوگوں کی طرح وہ مظاہر پرستی کا قائل تھا اور نہ ہی کائنات پرستی کا۔ اس کا دھرم سے ناتا فطری اور آفاقی تھا۔ لیکن مقامی آبادی کی خوشی کے لئے اس نے خود کو ان کے رنگ میں رنگ لیااور ان میں چالیس شادیاں کیں۔ اس کی بہت سی اولاد پیدا ہوئی۔ کچھ بچے اس کے اپنے مذہب کے پیرو کار اور زیادہ تر مقامی دیوتاؤں کو ماننے والے۔ جب وہ بوڑھا ہو گیا تو خاندانی پرم پرا نبھانے کے لئے اس نے اپنی ہم مذہب لڑکی سے شادی کی جس کے بطن سے رشنو پیدا ہوئی۔ وہ مرنے لگا تودیوتاؤں کے دیوتا اس کے خواب میں آے اور کہا کہ تم نے میری اولاد کی بہت سیوا کی۔ اپنی آخری اِچھا بتاؤ۔ بچی بہت چھوٹی تھی اور مقامی لوگوں کے مذہب سے دور بھی، اس کو اپنے بعدرشنو کی فکر لاحق تھی۔ اس نے دیوتا کو کہا کہ میری بیٹی کو دیوتاؤں میں شامل کرکے امر کردو۔
براہما اس کولے کر ندی کے اُس پار، دورپہاڑوں میں، براندبن کے اسی پریوں کے دیس میں لے گئے جہاں کبھی گوپیاں اٹھکیلیاں کیا کرتی تھیں اور بانسری کی مدھرتانیں گونجتی تھیں۔ صدیوں پرانی بنسی رادھا گیتا گیاکا دیش۔
بہت ورش بیت گئے۔ پھرپریم اور شانتی کی اکھنڈ دھرتی پر نفرت اور ورودھ کے ناگوں نے پھنکارنا شروع کردیا۔ دشمنیوں کو بڑھاوا ملتا گیا۔ کرودھ بڑھتا گیا۔ عدل کی جگہ ناانصافی نے لے لی۔ دھرم یدھ شروع ہو گئے۔ لوگ تقسیم ہو گئے اور پھردھرتی بھی۔ ایک دیش تھا، دیوتاؤں کے پجاریوں کا اور دوسراناقابل ادراک خدا کو ماننے والوں کا۔
رشنو جوانی کی کئی بہاریں دیکھ چکی تھی۔ جوانی اس پر آکر ٹھہر گئی تھی۔ دیوتا اس کے پِتاکو دیا گیا وچن نبھا رہے تھے۔ جب اس نے دیکھا کہ اب اس کے اپنے بھائی بندوں نے، اس کے اپنے مذہب کے پیروکاروں نے الگ سے ایک ملک حاصل کر لیا ہے تو اس کا دل پریوں کے دیش سے اٹھ گیا اور اس نے دیوتاؤں سے آگیا چاہی۔
نئی امنگیں دل میں بساکر پرواسیوں کے ساتھ وہ بھی نئے دیش کو پدھاری۔ وہ اکیلی تھی۔ اس نے دور دراز کے علاقہ میں ایک جھرنے کے کنارے کچھ دوسری بے سہارا عورتوں کے ساتھ مل کر رہنا شروع کر دیا۔ یہ جگہ تقسیم سے پہلے سادھوؤں کا ڈیرہ تھی وہ اس کے پاس ہی ایک ٹیلے پر دھونی رماتے تھے۔ اُس نے اِس ٹیلے کو اپنا مسکن بنا لیا۔  اس کا چہرہ چندا چاندنی کا روپ تھااور آنکھوں میں سوریہ کی جوت لیکن کوئی ذی روح اس کو نظربھر کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔
لوگ کہتے تھے، ”اس پر کسی سیلانی روح کا سایہ ہے یا اس کی کایا میں کسی مہان رشی کی آتما کا باس ہے۔ وہ جو بات کہتی ہے پوری ہو جاتی ہے۔ “آہستہ آہستہ اس کے ماننے والوں کی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی۔ لوگ اس کے پاس اپنے مسائل لے کر آتے، وہ ان کا حل بتاتی اور دعا کرتی۔ پھرلوگ اس کے پاس اپنی لڑائیاں، جھگڑے اور اختلافات بھی لانا شروع ہوگئے۔ اس کا فیصلہ ہر کسی کو من و عن قبول ہوتا تھا۔ لوگ پوچھتے تو کہتی،
”ویر اور یدھ صرف عدل و انصاف سے ہی ختم کئے جا سکتے ہیں۔ نیائے کے لئے کسی سہارے اور شکتی کی ضروروت نہیں ہوتی غیرجانبداراورمتوازن ہوناضروری ہے۔ “ اب اس ملک میں زیا دہ تر لوگ ایک خدا کو ماننے والے تھے لیکن کچھ لوگ ابھی بھی ایسے موجود تھے جو دیوتاؤں کو پوجتے تھے۔ وہ بھی اس کے پاس آتے۔ اس کواپنے باپ کی طرح ان کے ساتھ ایک خاص انسییت تھی۔ وہ ان کی زبان بولتی اور مسائل کا حل ان کے مذ ہب کے عین مطابق تلاش کر کے بتاتی۔ وہ اس کو دیوی سمان مانتے تھے لیکن وہ یہی کہتی ”وہ دیوی دیوتاؤں کو نہیں مانتی۔ وہ خدائے واحد کی پجارن ہے۔ “
اس کے انصاف کی باتیں پھیلتی گئیں اور مقامی لوگوں میں اس کی مقبولیت بھی۔
علاقے کے ٹھاٹ دار رئیسوں اور زمینداروں کو یہ سب کیسے قبول ہو سکتا تھا کہ کوئی ان کی حدود میں رہے اور عوام الناس میں مقبول ہوتا جائے۔ اس کے اکثرفیصلوں سے ان کو اختلاف بھی تھا۔ وہ الزام لگاتے کہ رشنو دشمن ملک کی مخبر ہے اور اسی کے مذہب کی پیروکار بھی۔
اب اسے ملک کی سب سے بڑی  عدالت سے بلاوا آیا تھا۔ اس کے ماننے والے فکرمند ہو گئے لیکن وہ بالکل مطمئن تھی۔ کہنے لگی”یہ ملک ایک خدا کے نام پر بنا ہے اور اس میں امن و آشتی اور عدل و انصاف ہی پنپے گا۔ مجھے کوئی اندیشہ نہیں۔ “
یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا مقدمہ تھا۔ جب اس کی روبکاری ہوئی تو بڑی عدالت کے پانچوں بڑے منصف موجودتھے اور وہ اکیلی۔
پہلا سوال ہی اس کے خاندان اور مذہب کے بارے میں ہو ا۔
کہنے لگی”میرا نام رشنو ہے، میں اسی خدائے واحد’براہما‘ کی پجارن ہوں، جس کا میراپورا  پریوارماننے والا تھا۔ وہ راجے جنہوں نے سینکڑوں سال اس دھرتی پر حکومت کی۔ “
سب سے بڑا منصف بولا، ”میں تو خود اس خاندان سے ہوں لیکن یہ براہما کون ہے؟“
کہنے لگی ”ایکم، ایوا، دی ویتیم۔ (صرف ایک، دو نہیں)“
تم تو دشمن کی زبان میں بات کر رہی ہو، کہاں کی رہنے والی ہو؟“
”میں پرواسی ہوں اور رادھا کرشن کے دیش براندبن سے ہوں۔ “
”پھر تو تم ان میں سے ہی ہو۔ “عدالت بولی۔
رشنو نے جواب دیا، ”نہیں میرا ایمان اس خدا پر ہے جو ’نہ کیس کسیج  جنیتا‘(کسی سے پیدا نہیں ہوا)  اور نہ ہی اس کاکوئی آقا ہے۔ بے تمنا، بے عجزخدا۔ “
”خوبیاں تو ہمارے خدا کی ہیں لیکن زبان تم دیوی دیوتاؤں کی بول رہی ہو۔ “
”زبان توہر علاقے کی علیحدہ ہوتی ہے۔ نام بھی بدل جاتے ہیں، خدا ایک ہی ہوتا ہے۔ “اس نے جواب دیا۔
”میرا خداایکم، سروم، چتم، انندا پورنم۔ (واحد، بے عیب، ہمیشہ ہمیشہ رہنے والا، مکمل نور)۔
مجھے دیوی دیوتاؤں نے پالا، میں اس دھرتی کے مہاراجہ کی بیٹی۔ جب وہ سورگ باشی ہوئے تو دیوتا مجھے اپنے پاس لے گئے۔ “
”کیسی باتیں کر رہی ہو؟
تم کہہ رہی ہو کہ تم صدیوں سے زندہ ہو؟ تم کوئی دیوی ہو؟“
”نہیں۔ دیوتاؤں نے میرے پِتا کومجھے امر کر دینے کاوچن دیا تھا۔ “
”یہ کیسی رام لیلا ہے؟
ہمیں بے وقوف بنا رہی ہو۔ تم دیوتاؤ ں کی پجارن ہواورانہی دیوتاؤں کو ماننے والے تمہارے پجاری۔ ہمیں صحیح خبر ملی تھی۔ “
”نہیں۔ جھوٹ کہہ رہے ہو۔ میں صرف اپنے پِتا کی پرم پرا نبھا رہی ہوں۔ تمہیں پتا ہوگا اس کے حرم اور دربارمیں تمام دھرموں کے وشواسی موجود تھے۔ میری تمام بہن بھائی انہیں میں سے تھے۔
میرا یہ بیٹا جو تم میں موجود ہے، پو چھو اس سے۔ “
منصف اعلیٰ کی جھکی ہوئی گردن اور جھک گئی۔ وہ واپس چل پڑی۔
ایک بولا ”کہا ں جا رہی ہو؟ تم دشمن ملک سے ہو اور ان کی ہی کارندہ بھی۔ ہم تمہیں سزا دیں گے۔ “
”غلط فیصلہ ہے۔ تم جس جگہ پر بیٹھے ہو یہ عدل اور انصاف کا پوتر استھان ہے۔ تمہارے سامنے جو تکڑی پڑی ہوئی ہے۔ یہ نیائے کی علامت ہے۔ انیائے مت کرو۔ “رشنو غصے سی بولی۔
وہ سب خوفزدہ  ہو گئے۔
اسی کے خاندان کا  فرد بولا،
”تم جانتی ہوگی کہ ہمارے باپ نے اپنے محل کے باہر ایک عدل کی زنجیر لٹکا رکھی تھی، یہ ترازو اسی زنجیر سے بنا یا گیا ہے۔
یہ پورا تولتا ہے۔ ہم سب اپنی بالائی آمدنی، دھن دولت اور مال و زر اس سے تول کر بانٹتے ہیں کیونکہ یہ انصاف کی نشانی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ پورا تولتا ہے۔ “
ابھی تک وہ اسے نظر اٹھا کرنہیں دیکھ سکے تھے جب بھی وہ کوشش کرتے اسکی آنکھوں کی چمک اور حدت ان کو سر جھکانے پر مجبور کر دیتی۔ حکم دیا کہ اس کی آنکھوں پر کس کرپٹی باندھ دو۔
وہ جوش سے بولی،
”تم میری آنکھیں بند کرنا چاہتے ہو لیکن جان لو ان میں سے رسنے والی بوندیں انیکتا کے اس دئیے کا ایندھن ہیں جس کی روشنی سے اس ملک کے باسی، مختلف دھرم وشواسیوں میں ایکتا پروان چڑھتی ہے۔
یاد رکھو، بن عدل کے یہ کچہریاں اور دربار وہ بَن ہیں جن میں صرف نِرپھل درخت اگتے ہیں جو انسانوں کے راستے میں صرف کانٹے بکھیرتے ہیں۔
تم کیسے پنچ ہو کہ تم نے ست بیچ کر کوڑ  اپنایاہے۔ تم منصف نہیں شیطان ہو۔
سچ کہتے ہیں کہ ایسے پوتر استھان پر شیطان سر پنچ کے روپ میں ہی آتا ہے۔ “
وہ سب طیش میں آگئے اور یک دم بولے،
”دیوی جی، تمہیں انصاف چاہیے؟
ضرورملے گا۔ “
”ہم تمہارے سا تھ پورا پور انصاف کریں گے۔ عادل باپ کی بیٹی سے عدل نہیں ہو گا  تو اور اس کا حقدار کون ہوگا۔ “
”سنا ہے تمہاری ایک دیوی ’دروپدی‘ بھی تھی جو پانچ پانڈؤؤں سے بیاہی ہوئی تھی، ہم بھی پانچ ہی ہیں اس نے تو ان تمام کو خوش رکھا ہوا تھا۔ اور یہ بھی سنا ہے کہ انہوں نے اسے جوئے میں بھی ہار دیا تھا۔ آج ہم بھی تمہیں جیت لیں گے۔ “
ایک نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا، دوسرے نے بالوں سے۔ تیسرے نے اپنی ران پر ہاتھ مار کر کہا آؤ اس پر بیٹھ جاؤ۔
وہ سب اس کے ساتھ اٹھکیلیا ں کرنا شروع ہو گئے
aس کے باپ کی ہی اول د، سب سے بڑے منصف نے اس کے سینے کے کپڑے کو پکڑ کر کھینچا تو کمرہ روشن ہو گیا۔
اپنے آپ کو چھپانے کے لئے وہ زمین پر گر پڑی۔
وہ کہنے لگا، ”دروپدی کو بچانے تو کرشنا آگیا تھا۔ تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا۔ “
”مجھے میرا خدا بچائے گا۔
یا خدایا، میں ان ظالم سرپنچوں کی اندھیر نگری میں نہیں رہنا چاہتی مجھے مرتیو کے پاس بھیج کر مکت کردو۔ “
کمرے میں روشنی اور زیادہ بڑھ گئی۔
غیب سے آواز آئی۔ ”دیوتاؤں کے دیوتاتمہارے پِتا کو دیا گیا وچن نہیں بھولے۔ ہم تجھے موت نہیں دے سکتے لیکن دیوی بنا کر امر کردیں گے۔ ہم تمہارے پوتر سریر کوپتھر کا بنا دیں گے۔ “
ساتھ ہی اس کے پاؤں اور ٹانگیں زمین کے ساتھ پیوست ہو گئیں۔
وہ کہنے لگی۔
”لاؤ میرے باپ کا ترازو میرے حوالے کر دو۔ اس نے ہاتھ چاروں طرف گھمائے اوراسے ڈھونڈ لیا۔ منصفیں نے بھاگ کر اس سے ترازو کو چھیننے کی کوشش کی لیکن فوراًہی اس کے دونوں ہاتھ بمع  ترازو پتھر کے ہوگئے۔ وہ بولی، میری آخری بات غور سے سنو۔ ”اب تمہارے درمیان مال و دولت اور عہدوں کی تقسیم پر فسادبرپا ہو نگے۔ تم چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اختلاف کروگے۔ تم ہمیشہ کسی نہ کسی کو اپنا خصم جان کر انیائے پن کی بھینٹ چڑ ھاتے رہوگے۔ یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اب تم ہمیشہ زورآور کے چاکر بن کر رہوگے۔ ریت یہ ہے کہ کوئی کسو کو بیچتا ہے، تو بکتا ہے، پر چکریا چاکری کر کے اپنے تئیں آپ بیچتا ہے اور جب بکا تو تا بعدار ہوا۔ تم سب حکمرانوں کے چاکر بن کر زندہ رہو گے۔ تم اپنی روح بھی ان کے پاس رہن رکھ دو گے۔ تم خود بھی انیائے کی سولی پر لٹکے رہو گے۔
اب تمہارے ملک میں صرف ایک صورت میں انصاف واپس آسکتا ہے کہ تم انصاف پسند، ایک خدا کو ماننے والے مہاراجہ کی آخری نشانی، میری اس مورتی کو اپنے ایوان عدل کے باہر کھڑی کر دو۔ پھر شاید براہما تمہارے پاپ بخش دے اور تمارے ملک میں انصاف عام ہو۔ یاد رکھنا، یہ دھن جس کے تم پجاری ہو، سکھ نہیں دے سکتا۔ دھن سکھ کا کارن تب ہوتا ہے جب من کے دونوں پلڑے دھرم کے ترازو میں برابر اتریں، ورنہ!آندھ راجہ بے داد نگری۔ “
ساتھ ہی اس کا سر آنکھوں پر لپٹی پٹی سمیت پتھر کا ہوگیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •