وزیر اعظم عمران خان کا دورہ گلگت بلتستان: شکریہ ادا کریں یا شکوہ کریں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے جشن آزادی گلگت  بلتستان کے سلسلے میں گلگت میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی اور اپنے خیالات کااظہار کیا،، جب کہ تقریب کے اختتام پر آغا خان شاہی پولوگراؤنڈ گلگت میں پارٹی جلسے سے بھی خطاب کیا۔ وزیر اعظم پاکستان کا گزشتہ 15 مہینوں میں یہ پہلا دورہ تھا۔ اس سے قبل سکردو میں انتظامات مکمل کرانے کے بعد انہوں نے آخری موقع پر دورہ منسوخی کا اعلان کیا تھا، جب کہ ایک بار اس سے قبل شندور پولو فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں شرکت کے بعد جی بی دورہ کا اعلان کیا تھا، تاہم دونوں مواقع پر گلگت  بلتستان کے وہ لوگ حسرت دیدار لئے رہ گئے، جن کی عمران خان سے ہمدردی ہے یا انہیں اپنا سیاسی قائد مانتے ہیں۔ 25 جولائی 2018 کو انتخابات منعقد ہونے کے بعد یوں یہ پہلا موقع تھا کہ ملک کے وزیر اعظم نے گلگت  بلتستان کا دورہ کیا۔

وزیر اعظم پاکستان کا یہ دورہ جشن آزادی گلگت  بلتستان میں شریک ہونے کے سلسلے میں تھا۔ گلگت  بلتستان کے سب عوام یکم نومبر کو ہر سال جشن آزادی مناتے ہیں، کیوں کہ اس روز ڈوگرہ حکومت کو یہاں سے نکال کر اس علاقے کو کشمیر سے الگ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم چند سالوں کے بعد ہی دوبارہ یہ علاقہ ریاست جموں کشمیر یا تنازع کشمیر کا حصہ بن گیا جس سے صاف مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ ڈوگرہ بھگانے کی اس تحریک کو سوائے جی بی کے کہیں بھی آزادی کی تحریک قرار نہیں دیا جا رہا ہے۔ یوں وہ کوشش ناکام ہو گئی اور دوبارہ پرانے سٹیٹس پر بحال ہوگیا۔

بعد ازاں معاہدہ کراچی کے تحت آزاد کشمیر کے حکمرانوں جی بی کا انتظام و انصرام پاکستان کے حوالے کردیا۔ گو کہ اس معاہدے میں گلگت  بلتستان کی نہ نمایندگی تھی اور نہ ہی اس پر رضا مندی تھی۔ بہرحال یکم نومبر 1947 سے اب تک گلگت  بلتستان میں آزادی پاکستان کے علاوہ آزادی گلگت  بلتستان کی ایک اور جشن آزادی منائی جاتی ہے۔

یہ پہلا موقع تھا جب ملک کے وزیراعظم نے گلگت  بلتستان کی جشن آزادی میں شرکت کرکے اپنی یکجہتی کااظہار کیا۔ رواں سال اس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے علاوہ تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری عامر کیانی، بابر اعوان و دیگر نے بھی دورہ کیا تھا۔ ان دو دوروں کے تقابلی جائزے کے دوران میں یہ بات لکھ دی گئی تھی کہ تحریک انصاف کے پاس گلگت  بلتستان کے حوالے سے فہم و ا دراک کی انتہائی کمی ہے جس کے لیے مقامی قیادت کو متحرک ہونے کی انتہائی اشد ضرورت ہے، اگر عامر کیانی کے ہمراہ پیپلزپارٹی سے سند لے کر تحریک انصاف میں شامل ہونے والے بابر اعوان اگر نہ ہوتے تو شاید انہیں اس بات کا بھی علم نہیں ہوتا کہ گلگت  بلتستان کا مسئلہ کیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان کا جشن آزادی گلگت  بلتستان میں شرکت یقینا اچھا قدم تھا لیکن دو مقامات پر خطاب کے بعد جو تنقید عوامی سطح پر شروع ہوگئی ہے اس کا پاکستان تحریک انصاف کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم کا پہلا دورہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کے کارکنوں سے لے کر صوبائی قائدین کو اس بات کا کامل یقین تھا کہ دورہ تاریخی ہوگا۔ وزیراعظم گلگت  بلتستان کے سیاسی سیٹ اپ میں کسی قسم کی تبدیلی کا اعلان کریں گے، جی بی کو کوئی خصوصی پیکج دیں گے، ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے نئے احکامات جاری کریں گے، بجٹ میں اضافہ کریں گے، ایسے اقدامات کریں گے کہ جس سے تحریک انصاف کے کارکنوں اور قائدین کو سر اٹھا کر سیاسی میدان میں چلنے میں مدد ملے گی۔ گو کہ وفاقی حکومت ہونے کی وجہ سے گلگت  بلتستان میں تحریک انصاف کی جانب ’شمولیتوں‘ کا رخ سب سے زیادہ ہے، لیکن مقامی سطح کی کوئی بھی منصوبہ بندی ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔

تحریک انصاف کے اندرونی حلقے بھی اس بات سے سخت پریشان ہیں کہ اب تک پارٹی ایک پیج پر نہیں آسکی ہے۔ گورنر گلگت  بلتستان راجہ جلال حسین مقپون اب بھی پارٹی میں بااثر ہیں لیکن ان کا کیا کردار ہے یہ کارکنوں کے لیے تشویش اور پریشانی کا باعث ہے۔ اگر وزیراعظم بغیر کسی تیاری کے ’پرچی‘ سے تقریر نہ پڑھنے کا کریڈٹ لینے آئے تھے تو یہ بہت بڑی غلطی کی ہے کیوں کہ گلگت  بلتستان میں پرچی اور نان پرچی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہاں پر محرومیوں کا عنصر زیر بحث رہتا ہے، اور وفاقی قائدین کے دورے کے دوران یہی چیزیں زیر بحث رہتی ہیں کہ ان کو دور کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

تحریک انصاف گلگت  بلتستان کی موجودہ قیادت کو اب پارٹی کا تجربہ ہوچکا ہے کہ کس نہج پر ہے اور کس نہج پر چلانا ہے، موجودہ وقت میں ان کی پارٹی کے لیے نیت پر شک کرنا نامعقول سی بات ہوگی، لیکن جس سطح کی جدوجہد ہے اس سے نکل کر علاقائی معاملات پر موثر کردار ادا کرنا پڑے گا۔ اگر تنقید برائے تنقید کی دوڑ لگا کر اپوزیشن جماعتیں اپنی حد بندی اور درجہ بندی کرکے نمائندہ جماعت ہونے کا دعویٰ کریں گی تو اس سے بڑی افسوس کی بات کوئی نہیں ہوگی۔

اگر گزشتہ دس برسوں کا ہی ریکارڈ اٹھایا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ کم از کم چار سابق وزرائے اعظم نے گلگت  بلتستان کا دورہ کیا ہے اور حتی الامکان سبھی نے کوشش کی کہ اپنے بساط کے مطابق سیاسی محرومیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، میاں محمد نوازشریف اور شاہد خاقان عباسی کے دوروں میں عمران خان کے سب سے بڑے حریف نوازشریف کو اس بات پر امتیازی حیثیت حاصل ہے کہ ان کے دور میں گلگت  بلتستان کے بجٹ میں ’بے تحاشا‘ اضافہ ہوا ہے اور صوبائی حکومت نے 80 فی صد ہر وہ کام کیا ہے جس کی خواہش ظاہر کی تھی یہی وجہ ہے کہ آج نوازشریف زیرعتاب رہنے کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے نوازشریف کا نام زندہ ہے۔

عمران خان کا دورہ ابھی تک سمجھ نہیں آسکا ہے، حالانکہ ان کے دورے سے قبل وفاقی وزیر امور کشمیر اور جی بی علی امین گنڈاپور نے یہاں قدم رنجہ فرمایا بلکہ تمام مکاتب فکر سے ملاقاتیں کرکے جلسے میں شرکت کی دعوت بھی دے دی اور یہی پر انہیں گلگت  بلتستان کے علاقائی مسائل سمجھنے میں بڑی آسانی پیش آگئی ہوگی۔ اگر واقعی ایسا ہوا تھا تو انہیں چاہیے تھا کہ عمران خان کو یہاں کے عوام میں پائے جانے والے محرومیوں کے حوالے سے تذکرہ کرتے۔ 52 سال قبل علاقے کا دورہ کرنے، ہنزہ کی خوبانی اور گلگت  بلتستان کے ایک نامعلوم مقام ’دیر‘ کی خوبانی کا تذکرہ کرنے اور مولانا فضل الرحمن پر تنقید کو لے کر گلگت میں آنے کی منطق بڑی انوکھی ہے۔

وزیر اعظم صاحب اس بات سے بھی بخوبی آگاہ تھے بلکہ اس بات کے دعویدار ہیں کہ وہ انڈیا کے بیانیے کو عالمی سطح پر شکست دیں گے (سوائے کرتارپور کے)۔ گزشتہ تین ماہ سے انڈیا کے زیر تسلط کشمیر کی صورت احوال سے ناواقف کوئی بھی نہیں، اس صورت احوال میں گلگت  بلتستان کے حوالے سے کیا اقدامات اٹھانے ہیں؟ گلگت  بلتستان سے انڈیا کوکیا پیغام دینا ہے؟ تنازع کشمیر کا مستقبل اب کہاں کھڑا ہے؟ سمیت متعدد باتوں کو یوں حذف کردیا گیا جیسے جانتے ہی نہیں جس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •