اختلاف طریقہ کار پر کرو، عید میلاد البنی پر نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں جو کچھ کہہ رہا ہوں، ممکن ہے ایسا کہنے والا کروڑوں مسلمانوں کی نظر میں معتوب ٹھہرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کسی کا موقف ٹھنڈے دل سے برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اپنی ایک رائے قائم کرنے کے بعد اس پر اس درجہ شدید ہوجاتے ہیں کہ اس کی اختلافی رائے ہمارے دل و دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برسنے لگتی ہے۔

دنیا میں شاید ایک بھی مسلمان ایسا نہیں جو یہ نہ کہتا ہو کہ اگر اللہ کے بعد کوئی بزرگ و بر تر ہستی ہے تو وہ میرے نبی، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ جس طرح اللہ کی نعمتوں کا ذکر کرنے بیٹھا جائے اور اس کی توصیف و حمد و ثنا میں رقم طرازی کی جائے تو تمام دریا اور سمندر روشنائی بن جائیں، تمام اشجار قلم بن جائیں اور زمین و آسمان کی وسعت کاغذ میں تبدیل ہوجائے تو روشنائی کے دریا اور سمندر خشک ہو جائیں گے، قلم گھس جائیں گے اور پوری کائنات کے برابر وسیع کاغذات سیاہ ہو جائیں گے لیکن میری بنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و تصیف اور اس کی نعمتوں کا شمار ممکن نہیں ہو سکے گا تو بالکل اسی طرح یہ کہنا بھی غلط نہیں ہو گا کہ اگر زمین و آسمان کی وسعت کاغذ میں تبدیل ہو جائے، اشجار قلم بن جائیں اور دریا و سمندر روشنائی بن جائیں تو لکھنے والے قلم گھس جائیں گے، کاغذ سیاہ ہو جائیں گے اور اور روشنائی ختم ہو جائے گی لیکن میرے بنی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف و توصیف ضبط تحریر نہ ہو سکے گی۔

اگر میری یہ بات تمام دنیا کے جن و انس تسلیم کرتے ہیں تو پھر اس بات سے وہ کیسے انکار کر سکتے ہیں کہ ایسی عظیم المرتبت ہستی کی پیدائش یا ولادت کی “عید” نہ منائی جائے۔ وہ ہستی جس کی تعریف نہ صرف اللہ کرتا ہو بلکہ تمام ملائیکہ کرتے ہوں، جس پر اللہ اور اس کے فرشتے صبح شام درود بھیجتے ہوں اور جس کو سلام کرنے کیلئے ستر ہزار فرشتے صبح اور ستر ہزار فرشتے شام کو نازل ہوتے ہوں اور یہ سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے شروع ہو گیا ہو اور تا قیامت جاری رہنے والا ہو، کیا ایسی ہستی کے لیے ہم میں سے کوئی ایک بھی مسلمان یہ بات کہنے کا حوصلہ رکھ سکتا ہے کہ ہمیں آپ کی آمد کی “عید” نہیں منانی چاہیے؟۔

مجھے حیرت بھی ہوئی، سخت پریشانی بھی ہوئی اور رونا بھی آیا جب میں نے سوشل میڈیا پر یہ پڑھا کہ “جب 5 نمازوں سے نمازیں 6 نہیں ہو سکتی ہیں اور روزے 29 یا 30 سے 31 نہیں ہو سکتے تو عیدیں 2 سے 3 کیسے ہو سکتی ہیں۔ اللہ اکبر، اس دلیل یا منطق پر سر ہی پیٹا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فرض نمازوں کے اوقات 5 ہی ہوتے ہیں اور رمضان کے مہینے کے ایام 29 یا 30 ہی ہوتے ہیں لیکن یہ کس نے کہہ دیا کہ نمازیں صرف پانچ ہی ہوتی ہیں اور روزے 29 یا 30 ہی ہوتے ہیں۔ یہ اشراق یا چاشت اور یہ تہجد، کیا نمازوں کے نام نہیں؟ مختلف مہینوں کے مخصوص ایام میں روزہ رکھنے کی ہدایت اور اس کے علاوہ بھی چند دنوں کی پابندی کے علاوہ پورے سال روزہ رکھنے میں کسی بھی قسم کی کوئی بندش نہیں ہونے کو کیا نام دیا جائے گا؟

اس قسم کی فضول دلیلوں اور منطقوں کو پیش کرنے والے یا تو بہت ہی زیادہ کم علم ہوتے ہیں یا بہت زیادہ تنگ نظر جن کی نظروں میں اسلام کے معنی اور مفہوم صرف وہی ہوتے ہیں جو وہ از خود طے کر چکے ہوتے ہیں۔

میں اپنی پوری ایمانداری سے یہ بات بلا خوف و خطر کہتا ہوں کہ جس ذاتﷺ کی تعریف خود اللہ کرتا ہو اور تمام مسلمانوں اور فرشتوں کو بھی یہ حکم دیتا ہو کہ تم بھی اس ذاتﷺ پر درود و سلام بھیجو تو پھر یہ بات ہر مسلمان پر فرض سے بھی بڑھ کر ہے کہ ایسا ہی کرے اور نہ صرف صبح و شام، اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے اور کسی بھی قسم کی مصروفیت کے باوجود آپﷺ پردرود بھیجے بلکہ ایسی عظیم المرتبت ہستی کے پیدا کا جشن بھی منائے تا کہ دنیا کو علم ہو سکے کہ اس دنیا میں آپﷺ کے دیوانے اور پروانے کتنے ہیں۔

عید کا مطلب نہ صرف “خوشی” ہوتا ہے بلکہ عید کو اگر جشن کے انداز میں نہ منایا جائے تو پھر دنیا کو کیسے پتا چلے گا کہ ہم عید یعنی جشن منا رہے ہیں۔ کوئی بھی مذہب اور تہذیب والا اپنی کوئی عید یعنی جشن مناتا ہے تو کیا اجتماعی طور پر نہیں مناتا۔ کیا ہولی گھروں کے دروازے بند کر کے کھیلی جاتی ہے۔ کیا کرسمس اس طرح منایا جاتا ہے کہ کسی کو کان و کان خبر نہ ہو سکے اور کیا مسلمان عید الفطر اور عیدِ قربان کونوں کھدروں میں چھپ کر مناتے ہیں۔ جب کسی بھی جشن کو انفرادی طور پر نہیں منایا جاتا تو پھر جشن عید میلادالنبی کے منائے جانے پر کس بات کا اعتراض ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ آپﷺ کی پیدائش کی خوشیاں شاید ماضی میں نہیں منائی جاتی رہی ہوں گی لیکن کیا اگر کوئی کام ماضی میں نہیں کیا گیا (جب کہ کیا جانا چاہیے تھا) تو اب اگر کیا جانے لگا ہے تو وہ دین سے باہر کی کوئی چیز ہو گی؟

پاکستان 14 اگست 1947 کو معرضِ وجود میں آیا تھا۔ 1947 سے لے کر ضیا الحق کے دور تک 14 اگست کو جشنِ آزادی کے طور پر نہیں منایا گیا تو کیا جب اس دن کو جشن آزادی کے طور پر منایا جانے لگا تو یہ محض اس لئے غلط مان لیا جائے کہ ایک طویل عرصے تک اس دن کو جشن کی طرح کیوں نہیں منایا گیا۔ اسی طرح اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ آپﷺ کی ولادت کا جشن ماضی میں نہیں منایا گیا تو اب اسے نہیں منایا جانا چاہیے، درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے ملتی جلتی نہ جانے کتنی باتیں ہیں جو ماضی میں مسلمانوں میں مروج نہیں رہی تھیں لیکن اب عالم اسلام اسے بہت جوش و خروش سے مناتا ہےاور پوری دنیا کے مسلمان اس پر معترض نہیں ہیں۔

بات دراصل یہ ہے کہ جس انداز میں  ہم (مسلمان) بہت ساری باتوں یا میلوں کو اس طرح مناتے ہیں جو مسلمانانہ نہیں لگتے، بالکل اسی طور طریقے سے جشن عید میلاد النبی کا منایا جانا بھی ہے۔ جس طرح ہم مختلف مواقع پر منائی جانے والی مختلف روایات پر نکتہ اعتراض اٹھاتے ہیں اس طرح جشن عید میلاد النبی کے منائے جانے والے انداز پر بھی اعتراض اٹھانے کا نہ صرف حق رکھتے ہیں بلکہ اس انداز پر ہر مسلمان کو اعتراض کرنا بھی چاہیے۔ بہت سارے میلے ٹھیلوں کے انداز کی طرح یہ انداز بھی یقیناً ایسا ہے جو مسلمانوں کے انداز فکر اور اطوار سے بہت مختلف ہے۔ جس انداز میں ہم (مسلمان) اور خاص طور سے وہ مسلمان جن کا تعلق برصغیر پاک و ہند سے ہے، جشن عید میلا د النبی مناتے ہیں، اس پر اعتراض کرنا اور اس انداز کی مخالفت کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، میں خود اس انداز اور طور طریق کو کسی پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتا، کیوں کہ مجھے اس میں ہندوانہ تہذیب و ثقافت کی جھلک نظر آتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ہم سرے سے جشن عید میلاد النبی منانے کے ہی مخالف ہو جائیں۔

طریقہ کوئی بھی اختیار کر لیا جائے لیکن میرے نزدیک جشن منانے سے انکار نہ کیا جائے اور نہ ہی اس کو منانا غیر ضروری سمجھا جائے۔ خوب درود و سلام پڑھا جائے، شکرانے کے نوافل ادا کیے جائیں، ہو سکے تو سب سے اجلے یا نئے کپڑے زیب تن کیے جائیں، غریبوں میں خیرات تقسیم کی جائے اور اس دن کو لازماً نہ صرف منایا جائے بلکہ دنیا کو ہمارا جشن منایا جانا پتا بھی چلے۔

یہ سب میرے اپنے جذبات ہیں، اختلاف کرنے کا ہر فرد کو حق ہے لیکن اس بات کا خیال ضرور رہے کہ میری اس رائے کو دین کا کوئی نازک مسئلہ نہ بنایا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •