ماموں کے پراسرار روحانی کارناموں کی کچھ مزید جھلکیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سر درد کے لیے ماموں پسی ہوئی پیناڈول قسم کی گولیوں کا ایک پاؤ بھر کا تھیلہ ہر وقت جیب میں لئے پھرتے تھے۔ سندھ کے دور دراز علاقوں میں دوروں کے دوران جب بھی سر درد دم کرنے کے لئے کوئی مریض ان کے پاس لایا جاتا تو اس پڑیا سے چٹکی بھر سفوف ایک گلاس پانی میں ڈال کر اس پر پھونک مار کر رقت بھری آواز میں درود شریف کا ورد کرتے ہوئے مریض کو پلا دیتے۔ اندھے عقیدت مند کبھی بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے تھے کہ درود شریف کے ہوتے ہوئے انہیں پانی میں سفوف ڈالنے کی کیا ضرورت تھی۔

 کرامات کی اس پٹاری میں اور بھی اس طرح کے کئی چورن ہر وقت دستیاب ہوتے تھے۔ ایک سلیٹی رنگ کی ٹکیا کو وہ بہت سنبھال کر رکھتے تھے۔ مجھے بہت بعد میں پتہ چلا کہ اس ڈلی کا نام دار چکنا تھا۔ یہ حکیم لوگوں کی دوکانوں سے بہت آسانی سے مل جاتی ہے۔ ہنگامی حالات میں یہ بہت کام کی چیز تھی۔ ہنگامی سے مراد ایسے مواقع جب کوئی سر پھرا ان کی کرامات کو چیلنج کرتا۔ اس کا مظاہرہ وہ کچھ یوں کرتے کہ کسی سے سگریٹ کے خالی پیکٹ کی تھوڑی سی پنی (قلعی) مانگتے اور اس کو آستین کی نیچے والی جیب میں ڈالتے۔

 حاضرین پر ایک فاتحانہ نظر ڈالتے، اپنے سر پر مغل اعظم کی طرح کا تاج (پگڑی) زمین پر پٹختے اور اس شخص کو بلاتے جس نے ان کی کرامات کو چیلنج کیا ہوتا جیب سے کاغذ کی وہ پنی نکال کر ہوا میں لہراتے۔ پھر اسے تہہ کر کے اس شخص کو تھما کر تاکید کرتے کہ اگر وہ اس پنی کو مٹھی میں 5 منٹ دبا کر رکھ سکے تو اسے ایک ہزار روپے انعام ملے گا۔ (یاد رہے کہ اس زمانے کے ایک ہزار روپے آج کل کے بیس تیس ہزار کے برابر ہوتے تھے ) کئی لوگ رضا کارانہ طور پر اس کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔

جونہی ان میں سے شامت کا مارا کوئی بے وقوف اس پنی کو مٹھی میں بند کرتا، ماموں اسے کہتے کہ مٹھی زور سے بند کرکے رکھے ورنہ پنی کا ٹکڑا ہوا میں بھاگ جائے گا۔ اس کے بعد وہ گنتی گننا شروع کرتے۔ ابھی وہ پانچ چھ تک گنتی کر رہے ہوتے کہ وہ شخص فورا ”مٹھی کھول کر اچھلنے لگتا۔ آپ میں سے جو حضرات اس شعبدے کی اصلیت سے واقف نہیں ہیں ان کی معلومات میں اضافہ کی خاطر یہ بتاتا چلوں کہ دار چکنا کی ڈلی کو مس کرنے کے بعد آپ ان انگلیوں سے سگریٹ کی پنی کو کسی کے ہاتھ میں دے دیں تو وہ شخص پانچ یا چھ سیکنڈ بھی اپنی مٹھی بند نہیں رکھ سکتا۔

پنی کا وہ چھوٹا سا گولہ مٹھی بند ہونے کے بعد آگ کی طرح سرخ ہو جاتا ہے۔ (آزمایش شرط ہے۔ آج ہی کسی پنساری کی دوکان سے بیس تیس روپے کی ایک ڈلی خرید کر آپ بھی پیر بن سکتے ہیں لیکن خیال رہے کہ اب زمانہ بہت آگے چلا گیا ہے اس کے لئے آپ کو دور دراز کے پسماندہ علاقوں کا رخ کرنا پڑے گا۔ اگر کسی سکول، کالج یا شہر کے کسی گنجاں چوک میں آپ یہ تماشہ دکھائیں گے تو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔

ان کی ایک اور مہلک کرامت یہ تھی کہ مجمع میں بیٹھا ہوا کویٰ شخص اگر ان کی کرامات کا تمسخر اڑاتا تو قاید اعظم کی طرح ایک انگلی سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے اٹھنے کا اشارہ کرتے۔  وہ شخص ایک جھٹکے کے ساتھ کھڑا ہوتا تو اس کی آزار بند کھل جاتی اور شلوار اس کے پیروں میں جھولتی نظر آتی۔ سادہ لوح لوگوں کو اس بات کا پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ شخص دراصل ماموں کا اپنا ہی آدمی (پلانٹد سورس) ہوتا تھا۔

لولے لنگڑے لوگوں کو چشم زدن میں سیدھا کرنے کے لیے ان کا مولا بخش ہی کافی تھا۔ یہ بھی ان کے اپنے پلانٹد سائل ہوتے تھے۔ پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ایسے سائل لنگڑا کر حجرے میں داخل ہوتے ہی دہائی دیتے ہوئے ان کے قدموں میں ڈھیر ہو جاتے۔  ماموں اپنے پاس رکھے ہویے مولا بخش کو ہوا میں لہرا کر زیر لب کچھ پڑھتے ہوئے سائل کے چوتڑوں پر ایسی زوردار ضرب لگاتے کہ ان کے فرشتے بھی بھنگڑا ڈالنے پر مجبور ہو جاتے۔

لولے لنگڑے مریض زیادہ تر افغانستان سے ان کے پاس آتے تھے۔ وہاں یہ مرض عام ہے جس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ پرانے وقتوں بلکہ اب بھی وہاں پولیو کے انجکشن لگانے کو کافروں کی مسلمانوں کے خلاف سازش سمجھا جاتا ہے۔ جوں ہی کوئی سایل دور دراز کی مسافت طے کرکے ان کے حجرے کی حدود میں داخل ہوتا، ماموں کے چیلے اس کو راستے میں ہی دبوچ لیتے۔

ایک چیلہ سائل سے کمال ہوشیاری کے ساتھ اس کا نام، جائے رہایش اور دیگر معلومات حاصل کرتا جبکہ دوسرا چیلہ اس وقت تک اس کو باتوں میں لگائے رکھتا جب تک پہلے والا حجرے میں جا کر آنے والے کے بارے میں جملہ معلومات ماموں کے گوش گزار نہیں کر دیتا تھا۔ اس کرامت کے دوران ماموں کا جاہ و جلال دیکھنے کے قابل ہوتا تھا۔ سائل جوں ہی لنگڑاتا ہوا ماموں کے خاص کمرے کی دہلیز پار کرتا ماموں اس کا نام لے کر اسے پکارتا۔ سائل اپنا نام سنتے ہی ماموں کے علم غیب کے معجزے سے متاثر ہو کر”یا پیران پیر یا مرشدی“ کا نعرہ لگاتے ہوئے ان کے قدموں میں لٹو ہو جاتا۔ حجرے کے اندر واہ واہ مرحبا یا سیدی کی صدائیں بلند ہوتیں۔

پچھلے سال دیر میں 110 سال کی عمر میں ماموں اللہ میاں کو پیارے ہو گئے ہیں۔ ان کے مریدان خاص ان کی رحلت کے بعد پہلے سے زیادہ زیادہ مزے میں ہیں اور ماموں کی تو عالم بالا میں بھی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کسی حور کے شانے پر ٹکا ہو گا۔ معصوم فرشتوں کو بے وقوف بنانا ان کے لیے کیا مشکل کام ہے۔ ان کا قول تھا کہ ”بندے کو تھوڑا سمارٹ ہونا چاہیے کیوں کہ بے وقوفوں کی نہ یہاں کوئی کمی ہے نہ وہاں“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •