ماموں کے پراسرار روحانی کارناموں کی کچھ مزید جھلکیاں

سر درد کے لیے ماموں پسی ہوئی پیناڈول قسم کی گولیوں کا ایک پاؤ بھر کا تھیلہ ہر وقت جیب میں لئے پھرتے تھے۔ سندھ کے دور دراز علاقوں میں دوروں کے دوران جب بھی سر درد دم کرنے کے لئے کوئی مریض ان کے پاس لایا جاتا تو اس پڑیا سے چٹکی بھر سفوف…

Read more

شیعہ سنی فسادات، پاڑہ چنار اور مقدس گدھا

1969 میں آئی بی میں ملازمت کے دوران میری پہلی پوسٹنگ پاڑہ چنار ہوئی۔ یہ علاقہ شیعہ سنی فسادات کی وجہ سے کافی عرصہ سے خفیہ ایجنسیوں کے لئے خاص اہمیت کاحامل اور درد سر بنا رہا ہے۔ دسمبر کی ایک یخ بستہ رات کے پچھلے پہر کسی نے میرے گھر کے دروازے پر زور زور سے دستک دی۔ پتہ چلا کہ پاڑہ چمکنی کے ایک پیڈ انفارمر (اجرتی مخبر ) غلام نبی کوئی خاص اطلاع لے کر آئے ہیں۔ ان کو آتش دان کے قریب بٹھا کر میں نے چائے بنانے کے لئے کیتلی کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ انہوں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ پہلے میں ان کی وہ خاص اطلاع نوٹ کر کے ترجیحی بنیاد پر وائرلیس کے ذریعہ پشاور میں اپنے ہیڈ کوارٹر پاس کر دوں۔

Read more

قیام پاکستان کے وقت طالبان کیسے ہوا کرتے تھے؟

یہ پاکستان بننے سے کچھ عرصہ پہلے یا بعد کی بات ہے۔ ہمارے علاقے کی گلیوں، چوراہوں اور سڑکوں پر کچھ لوگ سبز اور سرخ رنگ کی بے ڈھنگی سی بوسیدہ وردیاں پہنے، کاندھوں پر لکڑی کی ڈمی رائفلیں سجائے فوجیوں کے انداز میں ”لفٹ رائٹ“ کہتے ہوئے گاؤں کے باہر ”بائی بھنڈ“ نامی ایک میدان میں جمع ہو کر پریڈیں کرتے اور اپنے اپنے لیڈروں کی پر جوش تقریریں سننے کے بعد گاندھی اور جناح مردہ باد اور زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے گھروں کو لوٹتے۔

جلوسوں کی رونق بڑھانے کے لئے ان کے منتظمین طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے۔ بچوں کو جلوسوں میں شامل کرنے کے لئے یہ لوگ ان میں مکئی کے بھنے ہوئے میٹھے دانے، دیسی گڑ کے بتاشے اور میٹھی گولیاں بانٹ کران سے جناح صاحب اور گاندھی جی کے حق میں نعرے لگواتے۔ سرخ پوشوں کی نسبت سبز پوشوں کی چیزیں زیادہ معیاری اور مزے دار ہوتی تھیں کیوں کہ سرخ پوش اس وقت بھی ایسے ہی مسکین اور غریب تھے جیسے آج کل ہیں۔ میرے والد صاحب جیسے کئی لوگ جب لام (جنگ عظیم دوم) سے لوٹے تھے تو اپنے ساتھ برٹش آرمی کے فوجی بوٹ اور وردی بھی ساتھ لائے تھے۔

Read more