تھوڑے لِکھے کو بُہت سمجھنا، اِس خط کو تار سمجھنا
آج سے تقریباً دو دہائی قبل، جب خطوط، تحریری طور پر بذریؔعہ ڈاک ارسال کیے جاتے تھے اور موبائل کا تصؔور و حصول مڈ ل کلاس کی پہنچ سے دُور تھا۔ اس وقت کے خطوط کا اختتام بالعموم اس جملے پر ہوا کرتا تھا کہ ”تھوڑے لکھے کو بہت سمجھنا“ اور ”اس خط کو تار سمجھنا“۔
موجودہ دور کے برقی اور تیز ترین رابطوں کے زمانے میں، دو دہائی قبل کی بات کرنے کا حوالہ صرف یہ ہے کہ تمام تر آزاد یوں کے داعوؔوں کے باوجود، میں اس موضوع پر کُھل کر قلم نہیں اُٹھا سکتا جس کا تعلق ہماری بچیوں اور بیٹیوں کی ذات اور اُن کی مخلوط تعلیمی اداروں میں، تعلیمی ماحول سے متعلق ہے۔ محض اس وجہ اس تحریر کا موضوع ”تھوڑے لکھے کو بہت سمجھنا“ تجویز کیا گیا ہے۔ نیز اس موضوع کی اہمیت اور فوری توجہ کی ضرورت کے تحت ”اس خط کو تار سمجھنا“ کے الفا ظ استعمال کیے گئے ہیں۔
عصرِ حاضر میں ”بی ایس نِظامِ تعلیم“ کا بہت چرچا ہے نیز اس نظا مِ تعلیم کو رائج کرنے کے لئے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ شا ئید یہ ہے کہ ہمارے سب رول ماڈلز اور پالیسیوں کے خاکے اور اصول، باہر سے درآمد کیے جاتے ہیں۔ یورپ و امریکہ کی ترقی دیکھ کر ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی پالیسیوں کو اپنا کر ہم بھی ویسی ہی ترقی کر سکتے ہیں۔ لیکن اس ’تقلید کی روش‘ میں ہم زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کر جاتے ہیں کہ نہ تو ہمارا مشرقی پس منظر اور ماضی، مغرب کے پس منظر اور ماضی سے مطابقت رکھتا ہے، نہ ہی زمانہ حال میں ہم ان کی روایات کی پیروی کر سکتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے پاس مذہبی اخلاقیات کا خزانہ ہے، پر عملی طور پر اخلاقیات اور اقدار میں، مغرب ہم سے بہتر ہے۔ دراصل ہمارا عملی و معاشی مفادات کے حصول کا روؔیہ، مغرب کی جانب جُھکاوؑ کا ہے۔ مگر نفسیاتی اور غیر شعوری طور پر ہم اپنی مشرقی روایات کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم معاشی ترقی تو مغرب کے برابر چاہتے ہیں مگر اپنی بچیوں اور بیٹیوں کو مغربی عورت کے برابر آزادی دینا، ہمارے جِینیاتی ڈھا نچے، ثقافتی بناوٹ اور غیر شعوری اقدار سے متصادم ہے۔
”بی ایس نِظام“، میں مخلوط تعلیم کا آغاز جس عمر میں ہوتا ہے وہ ’ٹین ایج‘ کا اختتام اور جوانی کی ابتدا کے وہ سال ہوتے ہیں جب نو جوان بچے بچیوں کے نظریات میں تبدیلی آتی ہے، دنیا کو اک نئے نظریے سے دیکھتے ہیں، جذبات کی عینک کے رنگوں میں، حقیقت خود ساختہ جذباتی فریم ورک میں نظر آتی ہے۔ جبلتوں کے تقاضے، جذبات کے لمحہ موجود کے مطیع ہو جاتے ہیں۔ ”بی ایس نِظام ’‘ کے چار سالوں پر محیط رفاقت، مستقبل پر کیا اثرات ڈالے، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔
میرا موئقف کسی پر تنقید ہر گز نہیں۔ بس آئندہ ممکنہ صورتِ حال کا، اپنے معاشرتی پس منظر، مذہبی اقدار اور مشرقی روایات کے تقاضوں کے حوالے سے، مخلوط تعلیم کے آغاز کی عمر اور مسائل کا امکانی تجزیہ پیش کرنا ہے۔ اپنے موئقف کے حق میں صرف اتنا کہنا کافی سمجھتا ہوں کہ، یوٹیوب پر تعلیمی اداروں کے ایکسٹرا کریکولر ایکٹیو یٹیز ( ہم نصابی سرگرمیاں ) ، کلچرل پروگرامز، ویلکم اور فیئر ویل پارٹیوں میں طالبات کے رقص، مختلف افسر ان کی آمد پر بچیوں کو قطاروں میں کھڑا کر کے گلاب کی پتیوں کو نچھاور کروانا۔
نجی تعلیمی اداروں میں بالخصوص، مخلوط سرگرمیوں کی حوصلہ افزا ائی کرنا اور یہ نظریہ پیش کرنا کہ جدید دنیا میں مرد و عورت اکٹھے کام کرتے ہیں تو طلبہ و طا لبات کے اجتماعی اور مخلوط سرگرمیوں کا انعقاد لازمی ہے، یہ غلط نظریہ صرف ذاتی مفادات کے حصول کا مُہذب لیبل ہے۔ جس عمر میں جاب یا نوکری شروع کی جاتی ہے وہ ’ٹین ایج‘ نہیں ہوتی۔ طلبہ و طا لبات نوکری کی عمر میں طلبہ و طالبات نہیں ہوتے بلکہ میچیور، بالغ نظر، حالات کو جذبات و جبلتوں کی بجائے، مستقبل کے حوالے سے، عقل و حالات، معاشی و معاشرتی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ لہذا ’ٹین ایج‘ میں مخلوط تعلیم اور ”بی ایس نِظام“ کے نظامِ تعلیم میں مخلوط تعلیم، ہمارے معاشرتی حالات، مذہبی اقدار، ہمارے معاشی مسائل کے مطابق نہیں ہے۔
تمام تر آزاد خیالی کے باوجود، ہم اپنی بچی، بہن، بیٹی کو خود تعلیمی اداراے یا دفتر چھوڑنے کو ترجیح دیتے ہیں تا آن کہ ہمارے مسائل آڑے نا آیئں۔ ہماری اپنی بچی، بہن، بیٹی کو واپسی پر ذرا دیر ہو جاے تو والدہ دروازے پر کھڑی ہو جاتی ہے، باپ یا بھائی پتہ کرنے جاتے ہیں، جیب خرچ سے زیادہ کی چیز دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں کہ یہ چیز بچی کے پاس آئی کہاں سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن ممالک کے ایسے تعلیمی نظام ہم نافذ کرنا چاہتے ہیں، کیا وہاں عورت کا اتنا خیال کیا جاتا ہے یا یہ کہ ہم عورت یا اپنی بچی، بہن، بیٹی کو اُن ممالک کی عورت جتنی آزادی دے سکتے ہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ نہ تو مغرب اپنی عورت یا بچی، بہن، بیٹی کو وہ مقام دے سکتا ہے جو مشرق میں ہے اور نہ ہی مشرقی عورت وہ قربانی اور قیمت دے سکتی ہے جو مغربی عورت نے آزادی کے نام پر ادا کی ہے۔
” بی ایس نِظام تعلیم“ کی مخلوط طرزِ، ہمارے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتی۔ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو ضرور مدِ نظر رکھا جانا چاہیے لیکن اپنی اقدار کی قربانی کی قیمت پر نہی۔ اس کا حل یہ ہے کہ طلبہ کے اداروں میں الگ، اور طالبات کے اداروں میں الگ الگ، ”بی ایس نِظام تعلیم“ کو رائج کیا جائے۔ مخلوط تعلیم، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مرحلے پر ضروری سہی کیونکہ اس مرحلے میں عمر، نظریات و حالات یکسر تبدیل ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں اگر ٹیچرز کی افرادی قوت کی کمی ہے یا بجٹ اور عمارتوں کی کمی ہے تو اس نظام کو کچھ سال بعد بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
لیکن ہمارے سب پلان، ماڈلز، فلسفے، پالیسیوں کے خاکے اور اصول چونکہ در آمد کیے جاتے ہیں لہذا ہم بغیر دُور رس اثرات کا تجزیہ کیے، اصول تقلید میں اپنی نجات اور بہتری سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک ہم اپنی تعلیمی پالیسی کے مستقل اصول اور یکساں زبان و سلیبس تک کا تعین نہیں کر سکے۔ مغرب کی تقلید کو اپناتے ہوئے، محض تجربات میں ستر سال سے زائد کا عرصہ ضائع کر چکے۔ بقول حضرت علاؔمہ محمد اقبال:
تقلید کی روش سے بہتر ہے خود کُشی
ہمارے دانشور اور معززین ان مسائل کو ہمہ وقت موضوعِ سخن بنائے رکھتے ہیں، چائے کے دور چلتے ہیں، مغرب کی آزاد خیالی اور ترقی کے قصیدے پڑھتے ہیں۔ معاشی ترقی میں مغرب کی تعلیمی پالیسیوں کے کردار کی تعریف کے گُن گاتے ہیں، عورت کی مرد کے برابر شانہ بہ شانہ حصہؔ داری کی توصیف کرتے ہیں، لیکن گھر پہنچ کر سب سے پہلے نظریں بیٹی کو ڈھونڈ تی ہیں کہ ابھی تک کیوں نہیں آئی۔ دل دُعا کرتا ہے اللہ خیر کرے، ”بی ایس نِظام تعلیم“ کے مخلوط نظام میں پڑھ رہی ہے۔
قیاس اپنا اقوامِ مغرب پہ نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی


