کرتار پور راہداری: پاکستان کے ہندو تیزی سے سکھ کیوں بن رہے ہیں؟


پہنچے ہوئے ”اولیاء، سنتوں اور گروؤں“ کی مرضی رنگ لائی، بالآخر کرتار پور راہداری بھی ”دونوں طرف سے“ کھل گئی۔ نووجوت سنگھ سدھو کو بھی این او سی مل گئی، اور کرتار پور میں وہ دھواں دار تقریر کرڈالی جو کسی بھارتی سیاستدان سے خود بھارت میں بھی کرنا ممکن نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم اور دو قدم آگے آنا چاہتے ہیں، بھارتی پنجاب کے لوگ کیوں نہ امرتسر میں ساگ مکھن سے ناشتہ کرکے دوپھر کا کھانے میں بریانی لاہور میں کھائیں، شاہ عالم بازار میں تجارت کرکے پچھلے پہر کی گاڑی سے واپس چڑہدے پنجاب چلے جائیں، ایسا ہوجائے تو دونوں ممالک کے لوگوں کے وارے نیارے ہوجائیں۔

”اس موقع پر سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ، مشرقی پنجاب کے موجودہ وزیر اعلیٰ سے لے کر نامور اداکار سنی دیول بھی بقول عمران خان سکھوں کے مدینہ تشریف لائے۔ اک شاندار اور پروقار تقریب میں وزیراعظم عمران خان نے فرمایا کہ“ بھارت اس وقت بھی چاہے تو کشمیر سمیت تمام معاملات حل کر کے امرتسر اور لاہور کی منڈیوں کو ملایا جاسکتا ہے۔ تجارت کے تمام بارڈر کھلنے سے صرف دو ممالک نہیں بلکہ پورا خطہ ترقی کرے گا۔ ”

یہ تو رہی اس تقریب کی بات مگر دوسری طرف ممکن ہے یہ بات عام لوگوں کے لئے اچھنبھے کی ہو مگر خواص جانتے ہیں پاکستان میں موجود اقلیتوں نے کرتارپور راہداری کھلنے سے ہی اس وقت اپنی پریشانیوں کا حل خود ہی نکالنا شروع کردیا ہے۔ یہ حل وہ ہی تاریخی حل ہے جو دنیا بھر کی کمزور اقلیتیں ہمیشہ سے طاقتور حکمرانوں اور ریاستوں کے سامنے نکالا کرتی ہیں، مطلب مذہب تبدیل کر لینا۔

پاکستان سرکار نے کرتارپور کاریڈور کھولنے اور سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیو کی 550 ویں جنم دن کے حوالے سے 50 روپے کا یادگاری سکہ جاری کر کے سکھوں کی دلوں میں اپنا سکہ جما دیا ہے۔ اس سکے پر اک طرف چاند ستارہ اور دوسری طرف ننکانہ صاحب شہر میں موجود بابا گرو نانک دیو جی کے جنم استھان والے گردوارے کی تصویر کنندہ کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کے اکثر لوگوں نے سرکار کے اس بہتر عمل کو خوب سراہا ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں نے اس پر اعتراض بھی کیا ہے مگر اس اعتراض کا اظہار کرنے والے بہت ہی کم ہیں۔

سندھ میں ہندو اور مسلمانوں کے لئے فلاحی کام کرنے والے ڈاکٹر جئہ پال چھابڑیا نے سرکار کے اس قدم کو احسن قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ”پاکستان سرکار نے یہ بہت اچھا کام کیا ہے اب سرکار کو سناتن دھرم کی عظیم ہستی شری کرشن رام جی اور عیسائی مذہب کے پیغمبر حضرت یسوع مسیح کی یاد میں بھی ایک ایک یادگاری سکہ جاری کرنا چاہیے“ جس پر ان کے کئی دوستوں نے ڈاکٹر چھابڑیا کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ”بھائی یہ مذہبی نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ ہے۔ “

پاکستان میں مذہبی مسائل شروع سے ہی سیاسی اور سیاسی مسائل ہمیشہ سے مذہبی ہی رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی قوم ابھی تک اس بات پر متفق نہیں ہو سکی کہ برصغیر کی تقسیم مذہبی تھی یا سیاسی۔ بہرحال وقتی صورتحال اور مفادات دیکھ کر اس کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اسی پس منظر میں آج کل اک دلچسپ صورتحال جنم لے رہی ہے کہ پاکستان میں سرکار کی جانب سے سکھوں کو ملنے والی خاص لفٹ کو دیکھتے ہوئے سناتن دھرم سے تعلق رکھنے والے ہندو تیزی سے سکھ بنتے جا رہے ہیں۔ ہندو جو پہلے سے ہی بابا گرو نانک دیو جی کو اپنا اوتار مانتے ہیں، اور سکھوں کے گردواروں میں عبادت کرنے اور ماتھا ٹیکنے کے لئے آرام سے چلے جاتے ہیں، اور سکھ ازم کو سناتن دھرم کا ہی ایک سپت / فرقہ سمجھتے ہیں، یہ اور بات ہے کہ سکھ مذہب سے وابستہ لوگ خود کو ہندو نہیں سمجھتے۔

اس صورتحال پر شاید نہ کسی نے تحقیق کی ہے اور نہ ہی کسی کے پاس اس کے اعداد وشمار ہوسکتے ہیں، مگر یہ ایک سچائی ہے کہ پاکستان میں ہندو بڑی تعداد میں اس وقت سکھ مذہب کو اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اور ان کو یہ سب کچھ کرنے کے لئے کوئی مشکل کام بھی نہیں کرنا پڑتا، بس اپنے پیدا ہونے بچے کو سکھ ڈکلیئر کرنا پڑتا ہے۔ بھارتی پنجاب کی طرح اس وقت پاکستانی پنجاب اور سندھ میں کئی ہندو والدین اپنے پیدا ہونے والے بچوں کے نام کے ساتھ سنگھ لگا کر بچپن سے ان کے بال کاٹنا بند کردیتے ہیں، اور ان کو مندروں کے بجائے گردواروں میں لے جاتے ہیں۔ ایسے کئی ”داس“ اور ”مل“ اب ”سنگھ“ بن کر مختلف تعلیمی اداروں تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں تو کچھ محکموں میں نوکریاں بھی کر رہے ہیں، حتیٰ کہ بڑے بڑے گردواروں کے رکھوال بھی بن رہے ہیں۔

کیا یہ دلچسپ بات نہیں ہے کہ سندھ کے تمام بڑے شہروں میں ہر مندر کے ساتھ ہی گردوارہ بنایا گیا ہے، کراچی، کشمور، غوثپور، کرم پور، جیکب آباد، ڈہرکی سے لے کر مٹھی، عمرکوٹ اور اسلام کوٹ تک ہر مندر کے ساتھ گردوارے بنائے گئے ہیں۔ جب کہ ڈہرکی، کرمپور، کراچی، شکارپور، غوثپور اور جیکب آباد پر صرف گردوارے بھی بنائے گئے ہیں، جن کے لئے رقبہ بھی کچھ مرلوں سے لے کر کئی ایکڑوں تک مختص کیے جاچکے ہیں۔

آگے کی بات یہ ہے کہ پنجاب کے مکھیہ گردواروں جنم استھان ننکانہ صاحب، گردوارہ لاہور، گردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال سے لے کر گردوارہ کرتارپور تک کی رکھوالی سے لے کر وہاں کا لنگر اور خرچہ چلانے میں جہاں دنیا بھر کے سکھ اپنا حصہ ڈالتے ہیں وہاں سندھ کے ہندو بھی آگے آگے ہوتے ہیں۔ وہاں پر ہونے والے میلوں اور دیگر مذہبی تقریبات میں آدھے سے زیادہ سندھ اور خیبر پختون خواہ کے لوگ ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار اس سے بھی آگے کافی دلچسپ ہیں کہ پاکستان میں اس وقت زیادہ تر سکھ بنیادی طور پر سندھی اور پشتون اسپیکنگ ہیں، مگر اب وہ سب کے سب پنجابی بولتے ہیں، اور کمال لاہوری لہجے میں بولتے ہیں۔

اس کی ایک وجھ یہ بھی ہے کہ سکھوں کے لئے پنجابی ان کی دھارمک (مذہبی) بولی جو ٹھہری، کہتے ہیں کہ ان سب نئے سکھوں نے ملک میں سیاسی طور پر سکھ ازم کو زیادہ ”عزت اور پیار“ ملنے کے بعد اپنے دھرم یا مسلک سے نکل کر سکھ ازم میں جائے پناہ لی ہے۔ بابا گرو نانک دیو جی تو ازل سے ایسے لوگوں کے لئے بوہڑ اور برگد کے درخت جیسے ہیں جن کو باقی لوگ اور طاقتیں احقر اور ادنی سمجھ کر دھتکار دیتے ہیں۔ یہ ان کی کرامات کا سلسلہ ہے کہ اس وقت بھی اس دھرتی کے دھتکارے لوگوں کو اگر کہیں جائے پناہ ملتی ہے تو وہ بابا گرو نانک دیو کے چرن ہی ہیں۔

بابا گرو نانک کے 550 ویں جنم دن کے حوالے سے جہاں پنجاب میں سرکاری سطح پر تقریبات جاری ہیں، وہاں سندھ میں غیر سرکاری طور پر وہاں کے ہندوؤں نے شاندار تقریبات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سندھ میں پہلی بار بابا گرو نانک دیو جی کی پالکی کا اپگھاٹن کیا گیا، گرو گرنتھ صاحب والی اس پالکی کو ایک سجی سجائی ایئر کنڈیشن کوچ میں سوار کر کے سندھ کے مختلف شہروں میں گھمایا گیا، جہاں ہندوؤں نے جوق در جوق آکر اس پالکی کا درشن کیا۔ اس پالکی کے ہر شہر میں ہونے والے سواگت میں ہزاروں ہندو بھائیوں کے ساتھ سینکڑوں مسلمان بھی دیدار کرتے رہے، بالکل اسی طرح جیسے محرم الحرام اور ربیع الاول میں ہونے والے مذہبی جلوسوں میں ہندو بھی خوش دلی سے شرکت کرتے ہیں۔

غوث پور کے سینیئر صحافی نارائن ناز مندھان کا کہنا ہے کہ ”بابا گرو نانک دیو جی کی یہ پالکی جس میں گرو گرنتھ صاحب کو رکھ کر ہر سال ننکانہ صاحب شہر کا چکر لگوایا جاتا ہے اور لاکھوں لوگ اس کا درشن کرنے کے لئے نکل پڑتے ہیں، اس سال پہلی بار میلے سے پہلے سندھ کے سکھوں کی درخواست پر سندھ لایا گیا تھا۔ یہ پالکی سندھ کے جس جس شہر سے گزری لوگوں کا جذبہ دیدنی تھا، یہ پالکی خاص طور پر بابا گرو نانک دیو جی 550 ویں جنم دن کے حوالے سے پہلی بار سندھ لائی گئی تھی، نارائن ناز کا کہنا تھا کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی بابا گرو نانک کے میلے میں آدھے سے زیادہ یاتری سندھ سے شامل ہوں گے۔ اور اس کی تیاریاں بڑے پیمانے پر کی گئیں۔ بس اس بار سندھ سے آنے والوں کو ننکانہ صاحب کے جنم استھان گردوارے میں اندر رات رہنے سے منع کیا گیا، کیونکہ وہاں کی تمام رہائشگاہیں بھارت اور دیگر ممالک سے آنے والے سکھوں کے لئے مختص کی گئی تھیں۔

دوسری طرف کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص، عمرکوٹ اور مٹھی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں ہندوؤں نے اس پوتر یاترا کے لئے پاکستان ریلوے کو الگ سے خاص ٹرینیں چلانے کے درخواستیں بھی جمع کروائیں تھیں اور ہزاروں کی تعداد میں ٹرینوں اور گاڑیوں کے ذریعے ننکانہ صاحب پہنچے۔

اس سے آگے کی خبر یہ ہے کہ سندھ میں میاں مٹھو اور سرہندی درگاہوں کے جانب سے زبردستی اغوا کرکے لائی گئی ہندو نوجوان لڑکیوں کو مسلمان کرنے اور پھر ان کو واپس نہ کرنے والے واقعات کے باوجود اس ملک پاکستان کی محبت میں اپنا دیس چھوڑ کر ہندوستان نہ جا سکنے والے ہندو آج کل سندھ کو چھوڑ کر ہند جانے کے بجائے پنجاب میں جاکر بسنا پسند کرنے لگے ہیں، ”اس وقت وہ سندھی ہندو بننے کے بجائے پنجابی سکھ بننے میں اپنی عافیت سمجھ رہے ہیں۔ “

یہ اک عجیب صورتحال ہے جو کسی کو نظر اور سمجھ نہیں آرہی، اور نہ ہی مستقبل میں اس کے اثرات پر کسی کی نظر ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان سرکار کو چاہیے کہ اپنے سیاسی مفادات کے خاطر ہی سہی ملک میں بسنے والی دیگر اقلیتوں کے حقوق کو بھی نہ صرف تسلیم کرے مگر ان کو ادا بھی کرے۔

پروفیسر اشوک کمار کھتری اس ساری صورتحال پر خاموش ہے اور سوچ رہا ہے کہ ”پاکستان میں ہندو عزت اور بہتر مستقبل کی خواہش میں مذہب تبدیل کر کے مسلمان بننے کے بجائے سکھ بننے کو اولیت تو دے رہے ہیں، مگر کیا وہ روح کی شانتی اور سماجی عزت اور وقار بھی حاصل کر پائے ہیں یا نہیں؟ “

Facebook Comments HS