ڈیل کس نے کی ہے : نواز شریف نے یا عمران خان نے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا یقین تو اب تک کامل ہے کہ نواز شریف واقعی علیل ہیں اور ان کی بیماری اس خطرناک موڑ تک پہنچی ہوئی ہے جہاں، کچھ، بھی ہو جایا کرتا ہے، لیکن“میرے اس یقین کا کسی ڈیل کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے، بتایا جا رہا ہے کہ میاں صاحب آج شہباز شریف کے ساتھ لندن روانہ ہو رہے ہیں، میں میاں صاحب کی علالت اور ان کی بیرون ملک روانگی کو علیحدہ علیحدہ منظر میں دیکھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان نے انہیں خود باہر چلے جانے کی، اجازت، دے کر اپنے اس نظریہ کو اپنے ہاتھوں سے دفن کر دیا ہے جس کا پرچار وہ پچھلے بائیس سال سے کر رہے تھے، ان کی وہ ساری، جدوجہد، اکارت گئی جس کی بنیاد پر عوام ان کے ساتھ جڑے تھے، میں جانتا ہوں کہ، معصوم عمران خان، سیاست سے ریٹائرمنٹ نہیں لیں گے وہ میدان میں ہی رہیں گے لیکن ان سیاستدانوں کی طرح جنہیں وہ آج تک گالیاں دیتے رہے، گو عمران خان کے دامن پر کرپشن اور بدعنوانی کا کوئی داغ نہیں ہے لیکن، اندرون خانہ، انہیں جس طرح داغ دار کر دیا گیا ہے اس کی صفائی کوئی ڈرائی کلینر نہیں کر سکے گا، ان کی، ساری کی ساری، بے بسیاں، عوام کے سامنے آشکار ہو چکی ہیں۔

نواز شریف کے لئے ان کی، انسانی ہمدردی، مستقبل میں ان کے لئے سوہان روح بنی رہے گی، ان کا، انسان دوست، رویہ ان کی سیاست کو دیمک کی طرح چاٹتا رہے گا، میری ساری ہمدردیاں وزیر اعظم صاحب کے ساتھ ہیں کیونکہ میں تو اس ملک کی نصف صدی کی اس تاریخ کا معمولی سا طالبعلم ہوں جس کے وہ سارے ابواب داغ دار ہیں جہاں جہاں کسی وزیر اعظم کا ذکر آتا ہے، دو دن پہلے خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں بولتے ہوئے کہا، اب جلد ہی نئے لیکشن بھی ہوں گے اور یہ الیکشن ہماری مرضی سے ہوں گے، خواجہ آصف کی دونوں باتیں کچھ درست درست دکھائی دیتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کے امن مارچ اور دھرنے سے سزا یافتہ نواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل سے شروع ہونے والی بیماری اور بیماری کی بنیاد پر پاکستان سے روانگی کی ساری کہانی کے درمیان اہم ترین بات وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ کے رکن غلام سرور خان نے بیان دیا ہے۔ غلام سرور خان گھاٹ گھاٹ کا پانی پئئے ہوئے ایک منجھے ہوئے سینئیر سیاستدان ہیں وہ کہہ رہے ہیں۔ یقینا پس پردہ کچھ تو ضرور ہے، کہیں نہ کہیں تو کچھ ہوا ہے، نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس جعلی بھی ہو سکتی ہیں۔

یہ ہے عمران خان کی کابینہ کے ایک رکن کا، نواز شریف کیس، پر آزادانہ تبصرہ نما انکشاف۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ غلام سرور خان کا یہ بیان جسے میڈیا نے بہت نمایاں طور پر پیش کیا اور اس بیان پر نیوز چینلز کے حالات حاضرہ کے پروگرامز میں اس پر سیر حاصل بحث مباحثے بھی ہوئے، لیکن وزیر اعظم عمران خان اس پر مکمل طور پر چپ سادھے رہے، کابینہ کے اجلاس ہوئے، تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے بھی عمران خان کی صدارت میں کئی اجلاس ہوئے مگر غلام سرور خان کا بیان کہیں زیر بحث نہ آیا، وزیر اعظم تو اس پر خاموش ہیں ہی، کابینہ کے کسی دوسرے رکن اور پارلیمانی پارٹی کے کسی ممبر نے بھی اس حوالے سے خان صاحب سے کوئی استفسار نہیں کیا. مجھے تو لگتا ہے نواز شریف کی بیرون ملک روانگی پر ساری کی ساری حکومت شرمندہ شرمندہ ہے اس کے باوجود کہ عمران خان نے خود کہا ہے کہ اجازت انہوں نے خود دی ہے۔ نواز شریف کی بیماری کو ڈھونگ قرار دینے سے نواز شریف کی بیماری کا دفاع کرنے تک کا حکومتی سفر بہت سارے ایسے مشکل سوالات کو جنم دیتا ہے، اپنے وزیر کے بیان کا واضح جواب خود وزیر اعظم کو دینا چاہیے تھا، سینیٹر فیصل جاوید سے شیخ رشید صاحب تک کی وضاحتیں عام آدمی کو مطمئن نہیں کر سکتیں، رہی بات یہ کہ کیا نواز شریف واپس آئیں گے؟ یقینا نواز شریف کو بالآخر پاکستان ہی واپس آنا ہے لیکن وہ اپنی ضمانت کے باقی رہ جانے والے چالیس پنتالیس دنوں میں تو واپس آتے دکھائی نہیں دے رہے، وہ اس وقت آئیں گے جب حالات کو اپنے لئے سازگار تصور کریں گے۔

عمران خان کابینہ کے کایاں ترین وزیر شیخ رشید کو بھی میں نے نواز شریف کے حوالے سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے، مشکل، میں دیکھا ہے، لگتا ہے جیسے انہوں نے سچ بولنے پر بڑی مشکل سے قابو پایا ہوا ہے، شیخ صاحب ایک جانب تو حکومتی زبان بولنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسری جانب وہ یہ بھی فرما رہے ہیں کہ نواز شریف کو“ سہولتوں، کی فراہمی شہباز شریف کی کاوشوں کا بھی نتیجہ ہے، وہ ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کر دیتے ہیں کہ اس کیس میں شہباز شریف کا وزیر اعظم عمران خان سے کوئی رابطہ نہیں تھا، وہ اس سوال کا جواب ہی گول کر دیتے ہیں کہ اگر شہباز شریف وزیر اعظم سے رابطے میں نہیں تھے تو پھر وہ کس کے رابطے میں تھے، ساتھ ہی وہ اس جانب بھی اشارہ کر دیتے ہیں کہ قطر سے بھجوائی جانے والی ائیر ایمبولینس کئی دنوں سے رن وے پر کھڑی تھی، شیخ رشید آج کل ایک اور بات بھی کر رہے ہیں اور وہ بات یہ ہے کہ شریفوں اور زرداری کی سیاست اب پٹی ہوئی سیاست بن چکی ہے اصل سیاست آج کل مولانا فضل الرحمان کر رہے ہیں اور یہی بات چوہدری پرویز الہی نے بھی کہی ہے، چوہدری صاحب نے جمعرات کو مولانا کے بارے میں ریمارکس دیے تھے کہ وہ شکست خوردہ ہونے کے باوجود“ اپوزیشن لیڈر، بن چکے ہیں حکومتی بنچوں سے مولانا کو شہباز شریف اور زرداری کے مقابلے میں بڑا لیڈر بن جانے کی باتیں بھی نہ صرف کئی سوالات کو جنم دیتی ہیں بلکہ ہمیں مستقبل کے سیاسی نقشے کو دیکھنے کی دعوت بھی دیتی ہیں، کیا کہیں سچ مچ تو وزیر اعظم عمران خان کو بند گلی میں نہیں دھکیلا جا رہا، اس عمران خان کو جو کچھ دن پہلے تک کہا کرتے تھے کہ جس مرضی بادشاہ کی سفارش کرالو، جب تک میں زندہ ہوں کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔

این آر او تو نواز شریف کو مل چکا ہے، وزیر اعظم کا کہیں کوئی جاننے والا ہے تو ان سے معلوم کریں کہ“ ایک چور، ایک ڈاکو، کو این آر او دیا کس نے؟ آصف زرداری کے بارے میں رپورٹس ہیں کہ وہ نواز شریف سے بھی زیادہ، بیمار، ہیں لیکن وزیر اعظم تسلی رکھیں، بلاول بھٹو کے، کسی، سے رابطے نہیں ہیں ان کے والد گرامی کے، نکل، جانے کا فی الحال کوئی چانس نہیں، سو عمران خان ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لے کر عوام اور پاکستان کو خوشحال بنا سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •