سرگوشیاں


گاؤں والے بہت دنوں سے پاگل عورت کی طرف کچھ عجیب سی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ ہر کوئی دیکھ تو رہا تھا پر کوئی کچھ کہہ نہیں پا رہا تھا۔ ایک دن ایک گاؤں کے معزز شخص نے اپنی نماز پوری کرتے ہوئے، گاؤں والوں سے بولا جو وہاں پر بیٹھے امام کے ساتھ کھانا کھانے میں مصروف تھے۔

میں کچھ دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ پاگل عورت کا پیٹ پھولتا جا رہا ہے۔ پتہ نہیں اس کو کیا بیماری ہے۔ مجھے تو اُس کی فکر ہونے لگی ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اپنی بیوی کو ہمراہ لے کر اِس کو کسی ڈاکٹر کے پاس علاج کے لیے لے جاؤں۔

یہ باتیں سنتے ہی مولوی جو پہلے کھانا کھانے میں انتہائی مصروف تھا، وہ تھوڑا آہستہ ہو گیا اور اس کے ساتھ اور لوگ بھی اسی بات پر غور کرنے لگے۔

وہاں بیٹھے دوسرے لوگوں نے بھی کہا کہ ہم بھی کچھ دنوں سے دیکھ رہے تھے اور وہی کچھ محسوس کر رہے تھے جو آپ نے فرمایا۔ مگر ایسے کہہ نہیں پا رہے تھے۔

کیوں کہہ نہیں پا رہے تھے۔ پورے گاؤں کی طرح وہ پاگل عورت بھی ہمارے گاؤں کا حصہ ہے اور اُس کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ معزز شخص نے جواب دیا۔

مولوی جو پہلے سب کی باتیں سن رہا تھا۔ بولا کہ جناب میں ابھی ابھی آپ کے گاؤں میں نیا آیا ہوں ۔ مجھے آپ کے گاؤں کا زیادہ کچھ پتہ نہیں پر اتنا کہوں گا کہ آپ سب دریا دل لوگ ہیں۔ بھلا کون آج کل کسی پاگل کے لیے اتنا سوچتا ہے۔ اگر میں ایسے کسی نیک کام میں کچھ مدد کر سکوں تو مجھے ضرور یاد کیجئے گا۔

وہاں پر بیٹھے معزز شخص نے کہا مولوی صاحب آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے ہماری حوصلہ افزائی کی۔ مولوی اور ساتھ بیٹھے گاؤں والے دوبارہ کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے اور معزز شخص اٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔

کچھ دنوں بعد گاؤں کے لوگ مسجد سے باہر آپس میں سرگوشیوں میں لگے ہوتے اور جب مسجد میں آتے تو جلدی جلدی نماز پڑھ کر چلے جاتے۔ مولوی سب کچھ دیکھ تو رہا تھا  پر کسی سی کچھ پوچھ نہیں رہا تھا۔ پھر ایک دن وہی معزز شخص جب نماز پڑھ کر مسجد میں مولوی کو اکیلا دیکھتا ہے تو مولوی کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے۔ اس کا چہرہ نیچے رہتا ہے۔ کچھ دیر چپ رہ کر وہ مولوی سے مخاطب ہوتا ہے۔

مولوی صاحب! آپ کچھ دنوں سے گاؤں کے لوگوں میں افراتفری تو دیکھ ہی رہے ہوں گے۔ ہم سب لوگ بہت شرمندہ ہیں۔ اُس پاگل عورت سے کسی نے بدسلوکی کر دی ہے، جس کی وجہ سے اس کا پیٹ پھولا ہوا ہے۔ پورا گاؤں اِسی صدمے میں ہے کہ کیا کوئی ایسا بھی کرسکتا ہے۔ مجھے تو اَبھی بھی یقیں نہیں آ رہا کہ کوئی انسان ایسی حرکت کر سکتا ہے۔

آپ اب ہمارے گاؤں کا حصہ ہیں، ہماری عزت آپ کی عزت ہے۔ کچھ مہینے پہلے اگر آپ نے بھی کبھی رات کو کسی کو دیکھا ہو آس پاس  یا کسی کی آواز سنی ہو تو مہربانی کر کے ہمیں بتا دیں۔ کیوں کہ پاگل کا جھونپڑا بھی مسجد کے ساتھ ہی ہے۔ ہم مختلف لوگوں سے پتہ لگا رہے ہیں میں نے سوچا آپ سے بھی پوچھ لوں۔

مولوی سوچ میں پڑ گیا۔ کچھ خاموشی کے بعد وہ بولا کہ چار مہینے پہلے جب میں نیا اس مسجد میں آیا تھا تو ایک رات کو میں نے نشئی کی آواز سنی تھی اس کے بعد پاگل عورت کی بھی۔ جیسے ہی معزز شخص نے مولوی کے منہ سے نشئی کا لفظ سنا تو اس کا چہرا لال ہو گیا۔ اس کو یقین ہوگیا کہ نشئی اکثر رات کو دیر سے لوٹتا ہے یہ اُسی کیا دھرا ہوگا۔ پھر وہ جلدی اٹھ کھڑا ہوا اور مولوی کو سلام تک نہ کیا اور مسجد سے چلا گیا۔

دوسری رات گاؤں کے ہجرے میں جو مسجد کے ساتھ ہی تھا، بڑا شور مچا۔ مولوی بھی مسجد میں شور سن رہا تھا۔ مولوی کو اُس ہجرے میں گواہی کے لیے بھی نہیں بلایا گیا اور نہ ہی اس کو کسی نے فیصلے کا ذکر تک کیا۔

مولوی نے شکراً دو نوافل اس رات زیادہ پڑھ لیے کہ اس کا نام معزز شخص نے چھپا لیا ہے۔ مگر پھر بھی مولوی کچھ دنوں سے محسوس کر رہا تھا کہ نشئی کے بھائی جو مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں، وہ اس کو گُھور گُھور کر دیکھتے ہیں۔ مولوی کو شک ہو گیا کہ معزز شخص نے یقینً ان کو بتا دیا ہے۔

کچھ دن ہوئے مولوی نے اس گاؤں کی مسجد کی امامت چھوڑ کر کہیں دور شہر کی مسجد میں امامت شروع کر دی۔ ایسے دن گزرتے گئے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں۔ ایک سال بعد پاگل عورت نے بچہ جَن لیا تھا۔ پاگل عورت کے پاگل پن کے مزاج کو دیکھتے معزز شخص نے اس سے بچہ چھین کر اپنی رکھوالی میں لے لیا تھا۔ معزز شخص نے اس بچے کی اچھی رکھوالی کی تھی پر اب وہ کچھ بیمار پڑنے لگا تھا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے اس نے پاگل عورت کے بچے کو کہیں دور اس کے دوست کے مدرسے میں قرآن کا حافظ بننے اور عالم بننے کے لیے بھیج دیا۔ کچھ ہی سال بعد معزز شخص بھی دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اور پاگل عورت گاؤں سے گم ہو گئی تھی۔ کچھ لوگ کہتے کہ وہ مر گئی کچھ کہتے کہ وہ زندہ ہے اس کو کسی نے شہر میں دیکھا ہے۔

بارہ سال بعد جب پاگل عورت کا بچہ جب اسی گاؤں میں واپس آیا۔ تو وہ آتے ہی مسجد میں چلا گیا۔ اس کو دیکھ کر گاؤں کے لوگ چونگ گئے اور پوچھنے لگے کہ کیا تم مولوی رؤف کے بیٹے ہو؟ اس نے تعجب سے کہا کون مولوی رؤف میں تو ایک پاگل عورت کا بیٹا ہوں جو آپ کے گاؤں میں رہتی تھی۔ اور مجھے امام دین صاحب نے پالا تھا۔ سب لوگوں کا منہ دیکھتے دیکھتے خراب ہوگیا اور وہ توبہ توبہ کرتے استغفار پڑھتے مسجد سے باہر جانے لگے۔

کچھ ہی دیر مسجد کے اندر پاگل عورت کے بیٹے کی طرف نشئی کے بھائی بھاگتے آئے۔ اور اس کو گُھور گُھور کے دیکھنے لگے۔ ان کا منہ دیکھتے ہی لال ہوگیا۔ کیوں کہ اس کی شکل مولوی سے بہت ملتی تھی! ۔ ان میں سے ایک بھائی مسجد میں آگ بگولا ہوگیا اورمسجد سے واپس یہ کہہ کر بھاگتا گیا کہ میں نے مولوی رؤف کو نہیں چھوڑنا۔

Facebook Comments HS