عمران خان اور مودی میں یہی فرق ہونا چاھیئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس وقت پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کرتارپور بارڈر پر یہ اعلان کررہے تھے کہ ہم نے ان چار سو مندروں اور اقلیتی عبادت گاہوں کی نشاندہی کردی ہے جو کافی بوسیدہ ہو چکے ہیں اور ان اقلیتی عبادت گاہوں کی حکومت پاکستان پھر سے تعمیر نو کرنے والی ہے تاکہ ہندو برادری کو اپنی عبادت گاہوں کے حوالے سے درپیش مشکلات ختم ہوں تو عین اسی وقت بھارتی سپریم کورٹ مسلمانوں کی مشہور اور تاریخی عبادت گاہ بابری مسجد کو مندر میں تبدیل کرنے کا حکم جاری کر رہی تھی۔

اب اگر جذبات میں آئے بغیر ہم خالص انسانی حوالے سے اس منظر نامے کو دیکھیں جس سے الگ الگ پاکستان اور ہندوستان کا تشخص جھانک رہا ہے تو کم ازکم پاکستان تاریخ کے سامنے سر جھکائے نظر نہیں آرہا ہے البتہ اس تہذیب کی بات الگ ہے جو عصبیت کی بنیاد پر کھڑی ہے اور فی زمانہ اس کی باگ ڈور نریندرا مودی جیسے متعصب کے ہاتھ میں ہیں۔ اب ضروری تو نہیں کہ ہم ہر فیصلے میں عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیں اس لئے حکومت پاکستان کا فیصلہ میرے لئے رنج نہیں بلکہ فخر ہی کا ذریعہ بن رہا ہے اور وہ اس لئے کہ دین اسلام اور پیغمبر انسانیت کی تعلیمات ہی یہی ہیں۔

تھوڑا سا ادھر جھانک لیتے ہیں اور روشنی سمیٹ لیتے ہیں، تب مدینے میں حضور کریمٌ ہر حوالے سے طاقت بن کر اُبھرے تھے حتٰی کہ ہزاروں کی تعداد میں بہترین فوج بھی میّسر تھی۔ مدینے کے شمال میں جزائر عرب کا سب سے بڑا تجارتی جنکشن دومتہ الجندل بھی قبضے میں لیا گیا تھا اور مکّے کے سرکش قبیلے بھی سرنگوں ہونے لگے تھے لیکن اس دوران مدینے میں ایک چھوٹا سا واقعہ رونما ہوتا ہے اور حضور کریمٌ کا لافانی کردار تاریخ کے سامنے روشنی کا دریا بہا دیتا ہے۔

ایک اقلیتی فرقہ جنھوں نے ابتلاء کے دنوں میں خیر کا ایک لمحہ تک ودیعت نہیں کیا تھا اسی فرقے کی واحد عبادت گاہ گر جاتی ہے اور ان کے پاس عبادت کرنے کے لئے کوئی جگہ نہیں رہتی۔ یہ خبر حضورکریمٌ کے پاس پہنچی تو پریشانی دیدنی تھی وہ بھی ان کے لئے جن کے کسی احسان کا کوئی قرض تک باقی نہیں فورًا ہی ایک صحابی کو اس قبیلے کی طرف اس پیغام کے ساتھ روانہ کر دیتے ہیں کہ ہم اپنی مسجد کا ایک حصہ آپ کے لئے مختص کر دیتے ہیں تاکہ آپ لوگ اس میں اپنی عبادت کرسکیں، پیغام پہنچتا ہے تو تشکر میں ڈوبی ہوئی حیرت برسنے لگتی ہے لیکن جواب ملتا ہے کہ ہماری عبادت میں موسیقی کا استعمال بھی شامل ہے اور وہ مسلمانوں کی عبادت میں خلل ڈالے گا۔

پیام بر جوابی پیغام پہنچاتا ہے تو حضور ٌ کی پریشانی دو چند ہو جاتی ہے اور لمحہ بھر کو سوچنے کے بعداس جملے کے ساتھ تاریخ کو مزید منور کر دیتے ہیں کہ ان سے کہیں کہ مسجد کے وسط میں موٹے کپڑے کا ایک پردہ حائل کر لیں گے جس کی ایک طرف ہم اپنی نماز پڑھیں گے اور دوسری طرف آپ اپنی عبادت کرتے رہیں۔ یہی تو میرے دین اور پیغمبر کی وہ عظیم اور روشن روایات اور تعلیمات ہیں جو مجھے حکومت پاکستان اور خصوصًا وزیراعظم عمران خان کے فیصلے کا شدید حامی بنا رہے ہیں ورنہ ان کالموں کے قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ میں عمران خان کی سیاست کے شدید نا قدین میں سے ایک ہوں لیکن یہ کوئی ذاتی دشمنی تو ہے نہیں جو صرف نفرت کی بنیادوں پر لڑی جائے بلکہ تائید اور اختلاف صرف طرز سیاست کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے اور آئندہ بھی ہو تا رہے گا۔

اس لئے ہمیشہ سے یہ نقطئہ نظر رہا ہے کہ شمشیر و سناں کو اولیّت کے ساتھ ساتھ ان روشن روایتوں کو بھی تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے جو ہمارے دین اور تہذیب نے ہمیں ایک فخر کے ساتھ فراہم کیے اور جو ہمیں دوسری اقوام سے معتبر اور ممتاز بناتی ہے۔ سو ضروری نہیں کہ ہم بھی وہی وتیرہ اپنائیں جو نریندرا مودی کا خاصہ ہے اور جس سے ہمیشہ ایک خون آلود بربریت اور بد رنگ تعصب ٹپک رہی ہے بلکہ ہمارا رستہ وہی ہونا چاہیے جو احترام آدمیت اور حقوق انسانیت کی روشنی سے منور بھی ہو اور خوشبو سے معطر بھی کیونکہ ہماری تعلیمات وہ تو نہیں جو کشمیر سے بابری مسجد تک ہو رہا ہے بلکہ ہماری تعلیمات تو وہ ہیں جو کرتار پور سے چار سو مندروں کی تزئین و آرائش تک پھیل گئے ہیں۔ بس اپنی اپنی تعلیمات ہیں اور اپنا اپنا ظرف ہے جسے ہمارا دشمن بھی نبھا رہا ہے اور ہم بھی نبھا رہے ہیں لیکن اپنی اپنی روایات کے ساتھ اور اپنے اپنے قرینے کے ساتھ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •