ان کا گھر کئی سالوں تک بند رہا تھا۔ وہ گھر اس گلی کا سب سے خوبصورت گھر معلوم ہوتا تھا۔ کئی فقیر یا مانگنے والے جب بھی اس گاؤں کی گلی میں داخل ہوتے تو وہ اس گھر کے سامنے کچھ زیادہ دیر رک جاتے کہ شاید یہاں سے کچھ پیسے ہی مل جائیں۔ وہ آواز لگاتے اور تھک جاتے پر کوئی اندر سے نہ نکلتا۔ ہر بار اس گلی کے کسی نہ کسی شخص کو یہ بتانا پڑتا کہ گھر میں کوئی نہیں رہتا گھر بند رہتا ہے۔ پر وہ اس کی بات کو نہ مانتے کیوں کہ ان کا دل اس بات کو تسلیم ہی نہ کرتا کہ اتنا عالیشان گھر کوئی بھلا کیسے چھوڑ سکتا ہے۔
اور دوسری بات جو ان کے دل میں کھٹکتی کہ دروازے پر کوئی ظاہری تالا نہیں۔ ضرور یہ گاؤں والے ہم سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ وہ سادہ دل لوگ یہ سوچ نہ پاتے کہ کچھ تالے ظاہر نظر تو نہیں آتے پر ان کا وجود ہوتا ہے۔ وہ بے چارے پھر بھی کچھ دیر کھڑے رہتے کہ مالک نہ سہی مالک کا نوکر ہی نکل نہ آئے اور کچھ دیدے۔ شاید دروازہ ابھی کھل جائے۔ لیکن ہر بار وہ اس دروازے سے مایوس لوٹ جاتے۔ اور جاتے وقت بھی پیچھے تکتے جاتے کہ ان کے کھٹکھٹانے سے شاید کوئی نکل ہی نہ آیا ہو۔
Read more