مولانا کا دھرنا سمجھوتے کی طرف بڑھتا ہوا


مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ دھرنے کے اثرات اور اپوزیشن کی عمران خان حکومت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی حکمت عملی کے حوالے سے اپنے قارئین کے لئے پیش خدمت ہے شہر اقتدار سے میرا خصوصی تجزیہ

شہر اقتدار میں جاری مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ دھرنے سے اگرچہ وزیراعظم عمران خان کا استعفی تو نہیں ملنے والا مگر ایک عام تاثر جو سامنے آیا ہے وہ ریاست اور حکومت کا اپوزیشن کے لئے کمپرومائزنگ لیول پر آنا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کافی غصے میں نظر آرہے ہیں اور اپنے سخت موقف کو ایک زیرک حکمت عملی کے تحت دھیمے انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔

مولانا ایک طرف ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے لئے سیاسی راہ ہموار کر رہے ہیں تو وہیں دوسری طرف مولانا متحدہ اپوزیشن کو لیڈ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے راستے پر گامزن ہیں۔

مولانا طاقتور حلقوں سے ایک خاص مہارت کے ساتھ رابطوں اور ملاقاتوں میں رہتے ہوئے اپنے لئے واپسی کا راستہ بھی رکھے ہوئے ہیں اور موقعہ کی مناسبت اور نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے غصے کا لفظی اظہار بھی کر رہے ہیں۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو وزیراعظم عمران خان ایسٹیبلشمنٹ کے مضبوط کاندھوں کو اپنی حکومت قرار دے رہے ہیں مگر عمران خان کو شاید یہ احساس نہیں کہ کاندھوں پر بوجھ ایک حد تک ہی برداشت کیا جاتا ہے اور جب بوجھ بڑھ جائے تو پھر کاندھوں سے اتارتے دیر نہیں لگتی۔ عمران خان اگر کاندھوں پر سوار ہو کر اپنی حکومت کی مقررہ مدت پوری کرنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں ملکی گرتی معیشت کو سہارا دینا ہوگا۔

عمران خان اپنے اور اپنی حکومت کے نا اہل ہونے کے ٹھپے سے صرف اسی صورت میں محفوظ رہ سکتے ہیں کہ اب اپنی پوری صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے ڈوبتی معیشت کی کشتی کو کنارے لگائیں۔

اپوزیشن عمران خان حکومت کو معاشی طور پر فیل دیکھنا چاہتی ہے کیونکہ اپوزیشن کے پاس عمران خان سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا صرف واحد راستہ شاید عمران خان حکومت کی معاشی طور پر ناکامی میں بچا ہے۔

متحدہ اپوزیشن کی طرف سے ایک حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ مولانا کے دھرنے کو شہر اقتدار سے پورے ملک میں پھیلا دیا جائے جس سے حکومت پر عوامی سطح کا ایک پریشر قائم رکھا جاسکے اور دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں حکومت کے لئے مشکلات پیدا کی جاسکیں اور اس سلسلے میں اپوزیشن کی طرف سے قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کو تحریک عدم اعتماد لاکر ہٹانا ایک ٹیسٹ کیس ہوگا جس میں کامیابی کے بعد صدر پاکستان کا اسمبلیوں سے مواخذہ کروانا ہوگا۔ اگر اپوزیشن ایسے جوہر کمالات دکھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر وزیراعظم عمران خان خود ہی ملک میں نئے انتخابات کا اعلان کردیں گے۔

Facebook Comments HS