اَمل عُمر ایکٹ پر عمل درآمد کی ضرورت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے، سندھ کابینا کے اجلاس میں ”ﺳﻨﺪﮪ ﺍِﻧﺠﺮﮈ ﭘﺮﺳﻨﺰ ﮐﻤﭙﻠﺴﺮﯼ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﭨﺮﯾﭩﻤﻨﭧ ( امل عمر) ایکٹ 2019“ کی منظوری دی ہے۔ اس ایکٹ میں تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں کو پابند کیا گیا ہے کہ، وہ ہنگامی حالت میں لائے گئے مریض کو بنا کسی قانونی کارروائی کیے بغیر اس کا علاج جلد از جلد شروع کردیں، کیونکہ حیات انسان پر کوئی سمجھوتا نہیں، جان ایک بار گئی تو پھر نہیں آنی۔ سو تمام اصولوں اور قاعدوں کی پاسداری کیے بغیر سب سے اول مریض یا مریضہ کا علاج کریں۔ جیسے اس کی حالت خطرے سے باہر ہو، پھر جو بھی قانونی چارہ جوئی ہو، وہ مکمل کی جائے۔

پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس ایکٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ گزشتہ سال کی تیرہ آگسٹ کو کراچی میں پولیس اور کچھ ڈاکوؤں کی آپس میں کراس فائرنگ ہو رہی تھی۔ تو اس کی زد میں خوشی سے بستا کنبہ آگیا۔ ماں باپ اپنی معصوم بچیوں کو لیے کوئی کنسرٹ دیکھنے جا رہے تھے، تو ٹریفک سگنل پر پولیس اور ڈاکوؤں کی کراس فائرنگ میں ایک گولی نو سالہ بچی امل عمر کو آن لگی۔ بچی بیچاری تکلیف کی شدت سے تڑپنے لگی اور ماں باپ کا کلیجہ پھٹنے لگا، ان کے ہوش خطا ہونے کو تھے، اور وہ جلد ہی اپنی لاڈلی بچی کو پرائیوٹ ہسپتال لے گئے، تاکہ ان کی بچی کا علاج ہو سکے اور اس کی زندگی بچ سکے۔

ﺍﮨﻞ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﺧﻤﯽ ﺍﻣﻞ ﮐﻮ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﺳﯿﻨﭩﺮ ﻧﺎﻣﯽ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﮐﭩﺮﺯ ﻧﮯ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺩﻭﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ، کیونکہ ﻣﯿﮉﯾﮑﻮﻟﯿﮕﻞ کارروائی نہیں ہوئی تھی۔ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺑﭽﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﻤﺒﻮﻟﯿﻨﺲ ﺑﮭﯽ ﻣﮩﯿﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﻣﻨﻘﻞ ﮐﺮ ﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔

ﺍﻣﻞ ﻋﻤﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔ سپریم کورٹ نے اس کا ازخود نوٹیس لیا، اور پھر یہ بات سامنے آئی کہ، اگر بچی کا بر وقت علاج کیا جاتا تو وہ بچ سکتی تھی۔ امل تو بچ نہ سکی پر اس کی والدین کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی بہت غم و غصہ نظر آیا۔ ہر نرم دل رکھنے والا انسان بس یہی سوال کرتا نظر آیا، کہ جو مسیحا ایک بچی کا علاج اس لیے شروع نہ کر سکیں کہ قانونی کارروائی نہیں ہوئی، تو ایسے لوگوں کو ڈاکٹر بننے کا کیا فائدہ؟ امل کی موت کا ذمہ دار ایک ڈاکٹر تھے تو، دوسرے پولیس اور ڈاکو، جو آپس کی لڑائی میں معصوم بچی کی جان لے بیٹھے، اور کسی کے گھر کی رونق کو اجاڑ دیا۔

یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، اس قسم کے بہت واقعات رونما ہو چکے ہیں، جس میں علاج کی تاخیر کی وجہ سے مریض دم توڑ جاتا ہے۔ کراچی میں جب ارشاد رانجھانی کا قتل ہوئا تھا، تو پولیس تماشائی بنی دیکھ رہی تھی، اور اس کو فوراً اسپتال نہ پہنچایا اور وہ زندگی گنوا بیٹھا۔

اب اس امل عمر نامی ایکٹ کی منظوری تو دے دی گئے ہے، پر کیا اس پر مکمل عمل ہو پائے گا، کیا بل کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اس قانون کا پابند کیا جائے گا کہ وہ پانچ لاکھ جرمانہ بھریں، اور تین سال جیل میں قید رہیں۔ سندھ حکومت پہلے بھی ایسے کیے دل کو خوش اور مطمئن کرنے والے بل پاس کر چکی ہے، جس کہ وومین ہراسمینٹ، شادی کو قانونی عمر اٹھارہ سال، پچاس ہزار جہیز کی رقم مقرر وغیرہ، پر جوں کے توں وہ کاغذات میں محفوظ ہیں۔ سندھ کی عوام وہ قوانین نہیں مانگتی جو صرف کاغذات تک محدود ہوں، اور خدانخواستہ امل جیسی کوئی اور پھول سی بچی غفلت اور تاخیر کی وجہ سے مرجھا جائے۔ ہم اس پر مکمل عمل درآمد چاہتے ہیں، جس کے لیے تمام ہسپتالوں اور میڈیکل سینٹرز کو پابند کیا جائے۔

کوئی بھی قانون تب تک قانون نہیں مانا جا سکتا، جب تک اس سے عوام کو فائدہ نہ ہو۔ امل عمر ایکٹ کی منظوری تو دے دی گئی ہے، پر اس پر مکمل درآمد کی ذمے داری تمام ڈاکٹرز اور حکومت پر ہوگی۔ امل عمر کے والدین کی بھی یہی خواہش ہے یہ ان کی بچی تو بچ نہ سکی، پر اسی غفلت کا شکار کوئی اور بچی یہ بچہ نہ ہو۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کو بھی چاہیے کہ، اپنے ادارے کے تمام افسراں کو نوٹیفکیشن کے ذریعے احکام جارے کرے، اور ہر ہسپتال کے باہر ایک یہ بھی بورڈ لگایا جائے، کہ ہنگامی حالت میں لائے گئے کسی بھی مریض کی نہ کوئی میڈیکولیگل کارروائی کی جائے گی، نہ ہی اس سے پئسے وصول کیے جائیں گے، جب تک اس کی طبیعت سنبھل نہیں جاتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •