نواز شریف کی بیماری، ای سی ایل اور حکومت کی سستی سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل ملک میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا مسئلہ پیچیدہ ترین مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ کیسی ای سی ایل ہے جس سے نواز شریف کا نام نکلنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ حالانکہ اس سے پہلے اسی حکومت میں زلفی بخاری کا نام ائیر پورٹ پر کھڑے کھڑے مکھن سے بال کی طرح نکلوا لیا گیا تھا۔ نہ جانے اس کے پس پردہ ”جادو کی چھڑی“ تھی یا بنی گالہ کی روحانی قوتوں کی کرامات کہ نام ایک ہی دم سے ایک دم نکل گیا۔ اس سے قبل آئی ایس آئی کے سابق جنرل جنہوں نے انڈین سابق آرمی چیف کے ساتھ مل کر متنازعہ کتاب لکھی تھی، کا نام بھی سابق حکومت نے ای سی ایل میں ڈالا تھا۔ مگر افسوس کہ ای سی ایل جیسی نازم اندام مشین اتنے بڑے اور بھاری نام کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اور بری طرح ہانپنے لگی۔ تب حکومت نے زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے نہایت دانشمندی سے جنرل صاحب کا نام اس طرح ای سی ایل سے نکال باہر کیا جس طرح اردو اور فارسی شاعری کا روایتی عاشق نہایت ذوق و شوق سے رسو ہو کر محبوب کی پتلی گلی سے نکل جاتا ہے اور غالب جیسے نابغہٕ روزگار شاعر کو کہنا پڑتا ہے کہ

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں مگر

بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

جب سے حکومت کے بنائے گئے اپنے میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی صحت کو تشویشناک قرار دے کر انہیں بیرون ملک علاج معالجے کا مشورہ دیا ہے اور ہائی کورٹ نے انہیں آٹھ ہفتے کی ضمانت دی ہے، وزیر اعظم اور حکومت کے دل میں بھی اچانک انسانی ہمدردی کی لہر بیدار ہو گئی ہے اور وہ جلد از جلد نواز شریف سے گلو خلاصی حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر بدقسمتی سے مقطع میں سخن گسترانہ بات یہ آ پڑی ہے کہ ہر طرف سے ڈیل ڈیل، ڈھیل ڈھیل اور این آر او کی صدائیں آنے لگی ہیں۔

اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے عمرانی حکومت نے جو نادر حل دریافت کیا ہے اس کی وجہ سے بنیادی مسئلہ تو خیر کیا حل ہونا تھا الٹا کئی مزید مسئلے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پہلے تو یہ معاملہ وزارت داخلہ، کابینہ ڈویژن، وزارت قانون، نیب اور ایوان وزیر اعظم کے درمیان دھما چوکڑی مچاتا رہا اور ”جادوئی چھڑی“ والے ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق محو تماشائے لب بام رہے۔ آخر کار کسی سیانے کے مشورے سے (یاد رہے کہ اس حکومت میں سیانے کثرت سے پائے جاتے ہیں ) معاملہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے روبرو پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

کابینہ نے انسانی ہمدردی کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے نواز شریف کا نام تو ای سی ایل سے نکلوانے کی اجازت دے دی مگر ساتھ جو پخ لگائی ہے وہ سادہ ترین لفظوں میں یوں ہے کہ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ سکیورٹی بانڈز کے نام پر دنیا کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا تاوان مانگ لیا گیا ہے۔ اس سے قبل حکومت کے جذباتی حامی کہتے تھے کہ نواز شریف نے چودہ ارب ڈالرز ادا کر کے ڈیل کر لی ہے۔ اب مخمصہ یہ ہے کہ اگر نواز شریف نے ڈیل کر لی ہے تو اب اتنا بھاری تاوان کیوں مانگا جا رہا ہے؟

اور حیرت یہ ہے کہ یہ بانڈ اس با ہمت شخص سے مانگا جا رہا ہے جو دو برس قبل اپنی رفیقہٕ حیات کو بستر مرگ پر چھوڑ کر جھوٹ اور جعل سازی کی بنیاد پر سنائی گئی سزا کاٹنے آ گیا تھا۔ ظاہری اور اصلی حکومت نے تو بے حسی، سفاکی، کم ظرفی، سنگدلی اور زہرناکی کا انتہا کر دی ہے۔ ادھر ن لیگ کی قیادت کا مٶقف یہ ہے کہ جب وہ عدالت میں دو دو کروڑ کے مچلکے لے جمع کرائے جا چکے ہیں تو سکیورٹی بانڈز کا کیا مقصد ہے؟

ای سی ایل سے نام نکلوانے کا ڈراما وہ حکومت کر رہی ہے جس نے گذشتہ گیارہ ماہ کے دوران میں بغیر پی سی ون ٹو اور محکمانہ کارروائی کے اربوں روپے لگا کر کرتارپور راہداری تعمیر کی۔ جس بے دردی اور بے حسی سے کھلنڈری حکومت نواز شریف کی بیماری پر سیاست کر رہی ہے اور نواز شریف کا راستہ روکا جا رہا ہے، اس سب کو دیکھتے ہوئے لگتا یوں ہے کہ یہ معاملہ بہت جلد دوبارہ عدالت میں جائے گا اور کل عدالت کے فیصلوں پر جشن برپا کرنے والے نواز شریف کے جہاز کو فضا میں محو پرواز دیکھ کر کف افسوس مل رہے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •