کالم کہانی: میاں صاحب باہر جا رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”شیدے! “

”بول میدے۔ “

”میاں صاحب جاسی؟ “

”اردو میں بول ناں۔ “

”تینوں تے پتا اے، مینوں اردو نئیں آؤندی۔ “

”اور مجھے پنجابی نہیں آتی۔ “

”میں پوچھ ریاں آں۔ میاں صاحب جا رہے ہیں؟ “

”جا رہے ہیں۔ “

”کب؟ “

”بس دو ایک دن میں۔ “

”واپس آنے کے لیے؟ “

”یہ تو نہیں پتا۔ “

”پتا تو نہیں۔ امکان کیا ہیں؟ “

”لگتا تو نہیں۔ “

”اچھا؟ اوہ کیویں؟ “

”مطلب؟ “

”مطلب۔ وہ کیسے؟ “

”مشرف بھی تو 6 ہفتے کے لیے گیا تھا ناں۔ وہ چھ ہفتے ابھی تک ختم ہونے کو نہیں آ رہے۔ “

”کیا این آر او ہوا ہے؟ “

”نہیں۔ “

”ڈیل ہوئی ہے؟ “

”تجھے کیا لگتا ہے؟ “

”میں نوں تے لگدا اے۔ “

”کیا لگتا ہے؟ “

”کہ ڈِیل شِیل ہوئی اے۔ “

”اچھا؟ تجھے لگتا ہے تو ہوئی ہی ہوگی۔ “

”تسی اپنے آپ نوں بچا رئے او! “

”میرا بچنا ناں بچنا کیا معنی رکھتا ہے۔ میں تو عام آدمی ہوں۔ “

”تسی عام نئیں او۔ تہاڈے کولوں وڈیاں خبراں سَن۔ دَسو ناں ڈیل ہوئی اے تے میاں صاحب نوں جانڑ کیوں نئیں دیندے؟ “

”حکومت نے تو کہہ دیا ہے ناں کہ میاں صاحب نیب کے ملزم ہیں۔ اگر نیب چھوڑ رہی ہے، تو ای سی ایل سے نام ہٹا دیا جائے گا۔ “

”تے نیب نے کی کیتا؟ “

”کیا کیا؟ “

”دوبارہ فلم حکومت کے گلے وچ ڈال دی ناں۔ “

”جی، نیب نے کہا کہ یہ حکومت کا استحقاق ہے۔ کابینہ جو فیصلہ کرے گی، اسی کی مناسبت سے ای سی ایل سے نام ہٹانے یا ناں ہٹانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ “

”تے میاں صاحب دے کَھرِ والے تے روز قطر ایئر ویز دیاں ٹکٹاں کراندے پئے سَن۔ “

”جی؟ “

”میاں صاحب کا تو روز ٹکٹ بک ہو رہا ہے لندن کا۔ “

”جی۔ قطر سے ایئر ایمبولنس بھی آنے والی ہے۔ مگر جب تک ای سی ایل سے نام نہیں ہٹے گا، تب تک تو نہیں نہیں جا سکتے ناں۔ “

”اے ہی گل تو سمجھ وچ نہیں آ رئی کہ جب امپائر نے اجازت دے دی اے، تے چھڈدے کیوں نئیں؟ “

”یہ تجھے بڑا پتا ہے کہ امپائر نے اجازت دے دی ہے؟ باخبر اتنے تم خود ہو، اور کُرید مجھے رہے ہو۔ “

”اؤ شیدے! تہاڈے سورسز زیادہ تیز ہیں۔ ساڈے اِنّے نئیں۔ “

”اچھا؟ میں کوئی اسلام آباد کا صحافی ہوں؟ جو میرے سورسز اتنے تگڑے ہوں گے؟ “

”دسو ناں۔ کیا میاں صاحب واقعی بھی انّے بیمار سَن؟ “

”ہاں جی۔ بیمار تو وہ ہیں۔ اور شدید بیمار ہیں۔ خود سرکاری میڈیکل بورڈ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کو پلیٹلیٹس کا مسئلہ ہے۔ دیکھتے نہیں؟ پنجاب کی وزیرِ صحت، ڈاکٹر یاسمین راشد پریس کانفرنس میں رپورٹس دکھا کر کہہ رہیں تھیں کہ ان کا علاج یہاں ممکن نہیں ہے۔ اب تو وزیرِاعظم نے خود بتا دیا کہ انہوں نے آزادانہ سورسز سے معلوم کیا ہے اور انہیں پتا چلا ہے کہ میاں صاحب کی حالت تشویشناک ہے۔ “

”بیماری کہڑی اے میاں صاحب نوں؟ “

”یہی تو ڈائگنوز نہیں ہو رہا۔ “

”اوئی شاباش۔ کیا پاکستان وچ اِنّے قابل ڈاکٹر وی نئیں؟ “

”نہیں خیر۔ ایسا بھی نہیں مِیدے! بہت قابل ڈاکٹرز ہیں ہمارے ملک میں۔ مگر شاید وہ رسک نہیں لینا چاہتے۔ “

”کہڑا رسک؟ “

”یہی کہ میاں صاحب کو کچھ ہو گیا تو۔ “

”اگر اِنّی ای فکر سی، تے فیر اے پیسیاں دا رولا کادے لئی پایا اے حکومت نے؟ اور اے نیب تے حکومت دے وچ معاملہ شٹل کاک وانگوں کیوں پیا رلدا اے؟ “

”اوئے میدے، پگلے۔ سمجھیا کر ناں! “

”تے سمجھا ناں۔ “

”اصل میں اس حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں جتنے وزیر، مشیر اور حکومتی نمائندے ہیں، ان سب کا الگ الگ ورژن ہے۔ ان کی کوئی ایک مشترکہ پالیسی ہے نہیں۔ جس کو جس معاملے پر جو جی میں آتا ہے، بولتے رہتے ہیں۔ پتا ہی نہیں چلتا کہ حکومت کی اصل ترجمانی کر کون رہا ہے۔ “

”اے تو ہے۔ “

”وزراء کی زبانیں ان کی اپنی وزارتوں کے حوالے سے بولتے ہوئے جلتی ہیں۔ ہر وزیر، حزبِ اختلاف کے خلاف بیان بازی میں آگے آگے رہتا ہے۔ کوئی شریف برادران کو زیرِ دشنام رکھ کر اتراتا ہے، کوئی زرداری صاحب اور بلاول کو، تو کوئی مولانا صاحب کو بُرا بھلا کہنا اپنا اوّلین فرض سمجھتا ہے۔ “

”تے نیازی صاحب ایہندا نوٹیس کیوں نہیں لیندے؟ “

”ارے پاگل، نیازی صاحب کو تو خود اپنی ٹیم کے وہ کھلاڑی اچھے لگتے ہیں، جو اُٹھتے بیٹھتے اپوزیشن کو کوسیں۔ وہ تو کابینہ کے اجلاسوں میں اپنے ایسے شیروں کو خاص شاباشی دیا کرتے ہیں۔ نتیجتاً اگلی بار وہ اور زیادہ جوش و خروش سے یہ فریضہ اور زیادہ احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں۔ یاد نہیں؟ چند دن قبل دھرنے کے حوالے سے خان صاحب نے اپنے تمام ٹیم ممبرز کو چُپ کا روزہ رکھنے کی ہدایت کی کہ اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرے گا۔

خود وزیرِاعظم نہ جانے کیسے چوبیس گھنٹے خاموش رہے، تو ان کو مروڑ اٹھنے لگے۔ بالآخر اگلے دن پھر وہ بذاتِ خود مخالفین پر پَھٹ پڑے اور پھر ان کے ہمنوا بھی شروع ہو گئے۔ خود کرتار پور راہداری کے افتتاح والی تقریر کے حوالے سے خان صاحب کو خاص طور پر بٹھا کر بریفنگ دی گئی، کہ آج ایک اہم دن ہے اور پوری دنیا کی نظریں آپ کی تقریر پر ہیں، لہٰذا اس میں کوئی ایسی ویسی بات ناں کریں۔ مخالفین اور دھرنے ورنے کا کوئی ذکر نہ ہو صرف کرتارپور پر بات کریں اور امن کا پیغام دُہرائیں اور کشمیر کا ذکر کریں۔ بس! ”

”ہئیں شاباشے۔ “

”اسی لیے دورِ حاضر کے سیانے کہتے ہیں، کہ عمران خان کا سب سے بڑا دشمن کوئی اور نہیں، خود عمران خان ہے۔ اور اس کے بعد ان کے سب سے بڑے دشمن خود ان کے آس پاس موجود ان کے ساتھی ہیں۔ اب جب سے خان صاحب نے میاں صاحب کی صحت کی تشویشناک حالت کو دیکھتے ہوئے، ان کے حوالے سے کوئی رسک نہ لینا چاہتے ہوئے، انہیں باہر بھیجنے کا فیصلہ کیا اور سونے پہ سہاگہ، میاں صاحب کو عدالت سے بھی ضمانت مل گئی، تو خود ان کی کابینہ کے چند وزیروں نے ٹی وی پر آکر ڈِیل ڈِیل کا غوغا مچانا شروع کر دیا اور خان صاحب کے خلاف خود ایک بیانیہ بن گیا۔

رہی سہی کسر پوری کی خود پی ٹی آئی کا میڈیا سیل سمجھے جانے والے ٹی وی چینلز نے، جنہوں نے دو دنوں میں ڈِیل ڈِیل کی اتنی رَٹ لگائے رکھی، کہ نیب تو ای سی ایل کے حوالے سے کوئی بھی این او سی وغیرہ جاری کرنے کی ضمن میں محتاط ہو گئی، اور گیند دوبارہ حکومت کی کورٹ میں پھینک دی۔ اب حکومت، پِیر کا پورا دن کابینہ کے طویل اجلاس میں سَر مارتی رہی کہ میاں صاحب کو جانے دیں۔ ناں دیں۔ دیں۔ ناں دیں۔ کئی وُزراء نے سخت اعتراض کیا کہ انہیں جانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

بالآخر خان صاحب کے قابل مُشیروں اور وزیروں نے، جن میں سے کوئی 17 روپے کلو ٹماٹر بیچتا پھرتا ہے، تو کوئی 55 روپے فی کلومیٹر کے نرخ پر اسلام آباد میں ہیلی کاپٹر چلاتا ہے، ان کو یہ مشورہ دیا کہ میاں صاحب کو جانے دیں، مگر ایسے نہیں، بلکہ ایک بھاری رقم ضمانت کے طور پر لے کر۔ گویا عدالت نے ضمانتی مچلکوں کی صورت میں رقم الگ گروی رکھی ہے (جو کہ قانون کے مطابق ہے، اور سمجھ میں آتی ہے۔ ) اب حکومت اپنی طرف سے ایک بھاری رقم اور ضمانت کے طور پر مانگنے لگی، کہ کہیں میاں صاحب بھاگ ہی نہ جائیں۔ ارے بھئی! ان کو بھاگنا ہوتا تو وہ کلثوم نواز کو بسترِ مرگ پر بیمار چھوڑ کر وطن واپس کیوں آتے؟ جب ان کو اس بات کا یقین تھا کہ انہیں ملک پہنچتے ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔ ”

”ایویں پہلے کدی ہویا سی؟ کہ حکومت نے کسی کولوں پیسے ضمانت لئی وصول کیتے سَن۔ “

”یہی تو! اس کی کوئی نظیر نہیں ہی کہ حکومت کی جانب سے کسی سے پیسے ضمانت کے طور پر لے کر چھوڑا گیا ہو۔ روکتے ناں پرویز مشرف کو، جب وہ بھاگ رہا تھا۔ لیتے ناں اس سے بھی ایک بھاری رقم ضمانت کے طور پر اسی طرح۔ تو اس کے بھی واپس آنے کا کوئی آسرا ہوتا۔ ایک کے لیے ایک قانون دوسرے کے لیے دوسرا۔ “

”تے ہُنڑ؟ “

”اب کیا؟ “

”ہُنڑ کی ہوسی؟ “

”ہونا کیا ہے! حکومت رہے کنفیوز۔ میاں صاحب کی فیملی نے تو صاف منع کر دیا ہے کہ وہ ضمانت کے لیے کوئی پیسے ویسے نہیں دیں گے۔ نہیں جانے دے رہے تو ناں دیں۔ اب اگر میاں صاحب کو کچھ بھی ہوا، تو خود حکومت بُھگتے گی۔ بروقت فیصلہ کرنے کی قوّت نہ ہو، اور ایسے مُشیر ہوں تو اچھائی کی کیا امید رکھ سکتے ہو، مِیدے! “

”میاں صاحب آپ کیوں نئیں پیا آکھدا خان صاحب نوں؟ “

”کہ؟ “

”کہ جانڑ دیو میں نوں۔ “

”نواز شریف صاحب اور زرداری صاحب اتنے زِیرک کھلاڑی ہیں کہ وہ کچی گولیاں نہیں کھیلیں گے۔ میاں صاحب کی ضمانت سے لے کر ملک سے باہر جانے تک کی تمام کارروائی میں کہیں بھی بڑے میاں کے دستخط نہیں ہیں۔ یہ ساری کارروائی چھوٹے میاں ڈال رہے ہیں۔ اگر بقول تمہارے، کوئی ڈِیل وِیل ہوئی بھی ہے ناں، تو وہ بھی چھوٹے میاں ہی کر رہے ہیں۔ اُدھر دیکھو، آصف زرداری سخت علیل ہونے کے باوجود ضمانت کی کوئی درخواست داخل نہیں کر رہے۔ “

”کیوں جی؟ “

”اس لیے جی، کہ وہ اس موڑ پر اپنی جانب سے کوئی درخواست دے کر اپنے آپ کو پھنسانا نہیں چاہیں گے۔ اِس وقت میاں صاحب خواہ زرداری صاحب وِلین بننا افورڈ نہیں کر سکتے۔ وہ ہر حال میں ہمدردیاں بٹور کے ہیرو ہی بننے کی کوشش کریں گے، چاہے کتنی ہی تکلیف میں کیوں نہ ہوں۔ “

”ہنڑ ایک واری فیر دسو۔ “

”کیا؟ “

”میاں صاحب جاسی؟ “

”جائیں گے تو سہی، مگر اللہ ان کو صحت دے، صحتیاب ہوتے ہی جلد واپس آ جائیں گے۔ کیوں کہ اگر وہ واپس نہ آئے، تو تجھے پتا ہے؟ سب سے زیادہ نقصان کس کو ہوگا؟ “

”کیہہ نُوں؟ “

”نُون لیگ کو۔ اور دونوں باپ بیٹی کو۔ اور اگر وہ دونوں ہمیشہ کے لیے ملک سے باہر گئے، تو پھر نُون لیگ کا زوال پَکّا سمجھو۔ “

”اچھا تے جے نئیں او آئے؟ تے سب توں وڈّا فائدہ کنوں تھیسی؟ “

”میاں شہباز شریف کو۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •