تصویر کی زبانی
دور سے لگ رہا تھا، جیسے کسی کی فصل کو آگ نے گھیر لیا ہو۔ آھستہ آھستہ وہ دھندللی سی تصویر ایک مکمل تصویر میں تبدیل ہوتی گئی۔ فصل سے کہیں آگے، فصل کے کاشتکار کا گھر جل رہا تھا۔ کچھ عورتوں نے ایک عورت کو کَس کے پکڑ رکھا تھا۔ وہ آگ میں جانے کے لیے بھاگی جا رہی تھی۔ وہ گلا پھاڑ پھاڑ کے چیخنے کی کوشش کر رہی تھی پر اس کی آواز عام لوگوں کے چیخنے سے الگ ہی تھی۔ بہت سے لوگ آگ کو قابو پانے کی کوشش میں مصروف تھے۔
آگ کا زور اب تھوڑا تھم چکا تھا۔ اچانک اس عورت نے دوسری عورتوں کی گرفت سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے آگ زدہ جھونپڑی کی طرف رخ کیا۔ کوئی بھی اس کے پیچھے بھاگا نہ گیا کیونکہ آگ ابھی بھی مکمل نہ بجھی تھی۔ سب اس کے پیچھے چیخنے لگے کہ اس کو آگ میں نہ جانے دو لیکن کوئی بھی آگ کے ڈر سے اس کے پیچھے نہ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ عورت جھونپڑی سے باہر نکلی، بال اس کے جو پہلے بکھرے تھے وہ اب تپش کی وجہ سے کرلی دار ہو گئے تھے۔
منہ اس کا کالے دھوئے کی وجہ سے کالا دکھ رہا تھا۔ وہ جھونپڑی سے ہلکی مسکان لیے باہر آئی۔ اس کی باہوں میں کچھ تھا جو وہ اندر سے باہر لائی تھی۔ سارے عورتیں اور مرد دیکھ کر استغفراللہ استغفراللہ کا ورد بولتے اور پرے ہوتے جاتے۔ پھر وہ کھڑی ادھر اُدھر تکنے لگی۔ منہ میں مسکان لیے باہوں میں وہ چیز لیے خوشی بانٹنے وہ وہاں کھڑے عورتوں کے ہجوم کی طرف بھاگی ان کو اپنی وہ چیز دکھانے۔ اس کو آتے دیکھ کر وہاں کھڑے ساری عورتوں میں بھگدڑ مچ گئی۔
کوئی بھی نہ تھا اس کی خوشی کو بانٹنے والا۔ عورتوں کا رویہ دیکھ کر اس نے باہوں میں لی ہوئی چیز کو غور سے تکنا شروع کیا۔ تکتے تکتے اس کے چہرے کا تاثر تبدیل ہو گیا اور وہ نیچے بے بسی میں بیٹھ گئی۔ تکتے تکتے اس نے ایسی ایک عجیب و غریب چیخ ماری جو وہاں کھڑے کسی بھی عورت و مرد نے پہلے نہیں سنی تھی۔ وہ سب ڈرگئے۔ پانی ڈالنے والے رک گئے۔ ایسی چیخ و پکار انسانی معلوم نہیں ہوتی تھی۔ ان سب کے دماغ سن ہوگئے تھے اور وہ چیخ بار باران کے اندر ہی اندر کانوں میں گھوم رہی تھی۔ وہ عورت کچھ بول رہی تھی پر کوئی بھی اس کو جواب نہیں دے رہا تھا۔ وہ رو رہی تھی اس کے آنکھوں سے آنسو ندی کے پانی کی طرح بہے جا رہے تھے۔
لوگ اب آہستہ آہستہ جا بھی رہے تھے کچھ آ بھی رہے تھے۔ ان میں سے ایک نوجوان بھی آ پہنچتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں کیمرہ ہوتا ہے اور وہ تصویریں کھینچنا شروع کر دیتا ہے۔ وہاں کھڑی ساری ی عورتیں اپنا منہ ڈھانپ لیتی ہیں اور وہاں سے نکلنے کی کوشش میں لگ جاتی ہیں۔
نوجوان تصویریں کھینچنے کے بعد وہاں کھڑے ایک شخص سے رپورٹر کی طرح منظر کے واقعی کے بارے میں معلومات دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا؟
وہاں کھڑا شخص گم سم رہتا ہے تو وہ رپورٹر کسی اور شخص سے واقعے کی جانچ لیتا ہے۔
جواب آتا ہے۔
جب گھر کے مالکان گندم کے فصل کی کٹائی میں گھر کے ساتھ زمیں میں مصروف تھے تو انہی کے گھر کے چولھے کی انگار سے جھونپڑی کو آگ لگ گئی۔
وہ نوجوان رپورٹر اب دوسرا سوال پوچھتا ہے : کیا کوئی مالی نقصان کے علاوہ جانی نقصان بھی ہوا ہے کیا؟
وہ شخص رپورٹر کو اس عورت کی طرف دیکھنے کا اشارہ کرتا ہے۔
رپورٹر مڑ کے دیکھ کر کہتا ہے ہاں ان کا اور کیا نقصان ہوا ہے؟
وہ کھڑا شخص رپورٹر کو دوبارہ اسی طرف اپنی انگلی سے دیکھنے کا اشارہ کرتا ہے۔ دوبارہ رپورٹر مڑ کر اس عورت کی طرف دیکھ کر کہتا ہے کہ کیا کہنا چاہتے ہیں آپ! کیا اس عورت سے وہاں جا کر پوچھوں؟
جواب آتا ہے : وہ تو بے چاری گونگی ہے۔ وہ کیا بتا ئے گی۔
رپورٹر نے بڑے افسوس کے ساتھ اس عورت کی طرف دیکھا اور اپنے کیمرے سے فوٹو کھینچنے ک کی کوشش کرتے ہوئے جب غور سے کیمرے سے فوکس کیا تو اس کے منہ سے چیخ کے ساتھ اللہ اکبرنکلی۔ اور بغیر ارادے کیمرہ سے فوٹو کھنچ گیا۔
اس ماں کی باہوں میں سخت خاک زدہ بچہ جس کو وہ سینے سے لگائی زمین پر بیٹھی رو رہی تھی نہ اس جہاں میں نہ اُس جہاں میں کہیں بیچ مامتا کے جہاں میں۔
رپورٹر جب گاڑی میں واپس آ رہا تھا اس کا خیال صرف اور صرف اس تصویر میں تھا۔ وہ بھی کسی ایسے ہی جہاں میں تھا۔
گاڑی میں اس وقت فیض احمد فیض کی غزل چل رہی تھی۔ جو اس سارے واقعے کی جیسے کے عکاسی تھی۔
نہیں میری خاموشی کو بیاں ملے۔ ۔ میرے درد کو جو زباں ملے
کیوں اداسیاں ہے یہ ملال کیوں۔ ۔ میرا ہو گیا ہے یہ حال کیوں
ہوا ریزا ریز ا میرا وجود۔ ۔ میری زندگی ہے سوال کیوں
جو مجھے یہ را ز نہ ملے۔ ۔ میرے درد کو جو زباں ملے۔



