آزادی مارچ کے پلان بی میں قومی شاہراہ بلاک کرنے کا اعلان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں دو ہفتوں سے جاری آزادی مارچ کا اختتام کرتے ہوئے پلان بی کے تحت ملک بھر میں قومی شاہراہوں کو بلاک کرنے کا اعلان کردیا ہے، مولانا فضل الرحمان کے پلان بی کے اعلان سے ہی اسلام آباد میں کارکنوں نے سامان لپیٹ کر واپس اپنے علاقوں شہروں دیہاتوں میں روانہ ہو گئے ہیں، اور عوام میں جہاں حکمرانوں سے نجات کی خواہش تھی وہ ظاہری طور پر مایوس کن ہے لیکن کارکن واپس گھر جانے کے دھرنوں میں شرکت کریں گے۔

پلان بی کتنے دن تک جاری رہے گا، یہ فی الحال وقت سے پہلے کی بات ہے۔ ملک بھر کی قومی شاہراہوں کو بلاک کیا جائے گا بلکہ یہ تحریر شایع ہونے تک بلاک ہو چکی ہوں گی، جس سے نہ صرف زندگی کا کارواں رک جائے گا۔ اس کے بعد پلان سی کی ضرورت پڑے گی یا پلان بی سے ہی کام ہوجائے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے پلان اے کے تحت ظاہری طور پر اگر کچھ بھی حاصل نہیں کیا ہے مگر میرے خیال میں وہ بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے اختتام پر جو لوگ جملے کسے جا رہے ہیں شاید وہ نہیں جانتے کہ کن مقاصد کے لئے مولانا لاکھوں افراد کا مارچ لے کر اسلام آباد پہنچے تھے۔

دو ہفتوں تک جس طرح ان کے کارکنان سخت سردی، بارش میں بھیگتے رہے اور مگر ڈٹے رہے، پانچ وقت باجماعت نماز کی ادائیگی۔ رات کو نوافل تہجد۔ درود پاک کا ورد ذکر اذکار اور قرآن پاک کی تلاوت سے اسلام آباد میں جیسے اسلام کے نظام کا نفاذ قائم ہوا تھا۔ مولانا کے پرامن غریب مسکین کارکن جن کے پاس ٹوٹے ہوئے چپل تھے پھٹے ہوئے کپڑے تھے۔ کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا لیکن روزا رکھ کر بھی ایک دو وقت کی سوکھی روٹی پر گزارہ کر رہے تھے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں وہ اخلاقی شائستگی کا مظاہرہ کرگئے ہیں جس کا کوئی مثال نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے جماعت اور مذہبی طبقے کی جس طرح تصویر دنیا میں پیش کی گئی تھی مولانا نے وہ تاثر ختم کرکے ثابت کردیا کہ وہ پرامن ہیں جو جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور ملک وطن عزیز پر جان بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ مولانا نے اسٹیبلشمنٹ سے دوستی کا جو ہاتھ بڑھایا ہے اور لگتا ہے کہ ابھی نہیں تو آنے والے دنوں میں مولانا کی ظاہری ناکامی بڑی بڑی کامیابی میں تبدیل ہو چکی ہوگی۔ مولانا سیاست کے بڑے کھلاڑی ہیں وہ کبھی بھی گھاٹے کا سودا کرنے والے نہیں ہیں۔

انہوں نے مستقل کے لئے بہت لیا ہوگا۔ اب کچھ لوگ مولانا پر تنقید کے تیر چلا رہے ہیں کہ وہ پلان اے کی ناکامی پر واپس گئے۔ کہاں گئی وزیر اعظم کی استعفی کہاں گئے نئے انتخابات کا اعلان۔ برحال پلان بی کے تحت جب ملک بند ہو جائے گا تو آگے چل کر کوئی نہ کوئی راستہ نکل استا ہے یا پہلے ہی نکال دیا گیا ہوگا۔ کہا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی آہستہ آہستہ اسٹیبلشمنٹ سے دوستی ہوتی جا رہی ہے، ہو سکتا ہے کہ جلد ہی استعفی مل جائے اور آئندہ کچھ ماہ میں نئے الیکشن کا اعلان کیا جائے، یا پھر کچھ ماہ صبر کرنے کو کہا گیا ہے۔

لیکن حکومت کے نمائندے کہ رہے ہیں کہ عمران خان اپنی مدت پوری کرے گا۔ مولانا فضل الرحمان صاحب کیا فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے آنے تک انتظار کریں گے۔ دھرنے جاری رکھیں گے؟ کیونکہ فارن فنڈنگ کیس کئی سالوں سے الیکشن کمیشن میں زیر التوا کا شکار ہے، اب جب دوبارہ الیکشن کمیشن نے حکومت کو نوٹس جاری کیے ہیں تو حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ یہ کیس فی الحال نہ سنا جائے جو کہ درخواست عدالت نے مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو جلد کیس نمٹانے کے لئے بھیجا ہے۔

یا مولانا صاحب طاقت کے ذور پر استعفی لے کر آئیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کہہ چکے ہیں کہ آزادی مارچ ایسا انقلاب ہوگا دنیا فرانس اور ایران کے انقلاب کو بھی بھول جائے گی۔ مولانا یہاں تک کہ چکے ہیں کہ وہ گولیاں کھائیں گے، لاشیں اٹھائیں گے، شہادتیں پائیں گے مگر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مگر اب تو مولانا اسلام آباد سے واپس اچکے ہیں بغیر استعفی کے۔ مولانا شاید اس بار سخت غصے نظر آرے تھے۔ مولانا کے آزادی مارچ میں کراچی سے شرکت کرنے والے مولانا راشد محمود سومرو بھی چہرے سے غصے اور جلال میں نظر ارہے تھے۔

مولانا فضل الرحمان کئی بار کہہ چکے ہیں کہ بندوق اٹھا کر ملک میں اسلامی نظام کی بات کرنا دہشتگردی ہے تو آئین و قانون کے تحت اسلامی نظام کے نفاذ کا راستے روکنا بھی انتہاپسندی ہے۔ مولانا یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت ان قوتوں کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ملک میں شائیاں بائیاں کرکے قوم کو یرغمال بنالیں۔ مولانا فضل الرحمان زیرخ سیاستدان ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ جس طرح جس طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں اسے بغیر جانی نقصان کے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے، مولانا صاحب نے ‏کارکنان جمعیت کے لئے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ہم نے تشدد سے دور رہنا ہے ہم نے آئین و قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا ہم نے تصادم سے خود کو بچانا ہے۔

عدم تشدد کی راہ میں ہم نے جو قربانیاں دی ہیں وہ قربانیاں ضائع نہیں ہونے دینی۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ پیپلز پارٹی، اے این پی، جمعیت اہلحدیث اور ن لیگ کے سوا تمام اپوزیشن کی جماعتیں ساتھ ہیں اور ان کی مشاورت سے پلان بی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن نرم مزاج اور ہنسی مذاق کرنے والے مدبر سیاسی بصیرت رکھنے والے معتبر سیاستدان ہیں۔ مولانا کو اللہ تعالیٰ نے وہ صلاحیتیں دی ہیں جو شاید اس وقت کسی میں بھی نہیں ہیں، مولانا فضل الرحمان اس وقت اسلام آباد میں آزادی مارچ کا خاتمہ کرکے واپس اپنے اپنے چاروں صوبوں میں دھرنے دینے جا رہے ہیں۔

دو ہفتوں تک لاکھوں کارکنان جم کر بیٹھے رہے، پانچ وقت باجماعت نماز، روزانھ ہزاروں افراد روزہ رکھ رکھے ہوئے تھے، ان غریب مسکین کارکنوں کی معاشی حالت اتنی بہتر بھی نہیں تھی، لیکن یہ لاکھوں افراد اپنے قائد کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے جانیں قربان کرنے کے لئے تیار تھے اور ہیں۔ شاید ایسی جماعت اور ایسے منظم کارکن کسی اور جماعت میں کہاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن شہر اقتدار اسلام آباد میں جم کر نہ صرف حکومت کو للکار گئے ہیں۔

بلکہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کو بھی لال جھنڈی دکھا کر گئے ہیں۔ مولانا کے مطابق پاکستان مذہب کے نام پر بنا تھا یہاں کلمہ طیبہ والا نظام لاگو ہوگا نہ کہ اب وائیٹ ہاؤس اور تل ابیب کی ایجنڈا باقی رہے گی، مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کو دو ہفتے مکمل ہونے کے بعد اختتام کرکے پلان بی کی طرف جا چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اتنے ضدی ہیں کہ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ لیکن وہیں لچک بھی رکھتے دروازے بھی کھلے رکھتے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مولانا کے آزادی مارچ سے اس وقت نواز شریف اور آصف زرداری فائدہ اٹھا چکے ہیں، تاریخ میں نظر ڈالتے ہیں کہ مولانا جو سیاسی بصیرت رکھنے والے مدبر بابائے جمہوریت سیاستدان ہیں وہ اتنی کٹر مذہبی کیوں ہیں؟ برصغیر میں انگریز کا دور تھا، خیبر پختون خواہ کے علاقے عبدالخیل ڈیرہ اسماعیل خان میں ل سرکاری اسکول میں ایک انگریز افسر کا دورہ تھا، جب انگریز کلاس میں داخل ہوا تو پوری کلاس احتراما کھڑی ہوگئی، ایک بچہ تھا جو بیٹھے رہا، اساتذہ دیکھتے رہے مگر وہ اٹھا، یہ بات محکمہ تعلیم کے افسران اور اساتذہ کے لئے شرم کی بات تھی۔

انگریز افسر بچوں سے مختلف سوالات پوچھ رہے تھے۔ وہ تمام سوالات بچوں سے مستقبل کے بارے میں کیے جا رہے تھے، کہ بڑا ہو کر وہ کیا بنیں گے؟ ہر بچہ اپنی سوچ کے مطابق جواب دیتا کوئی ڈاکٹر، کوئی انجینئر، کوئی پائلٹ کوئی ٹیچر وغیرہ۔ سوالات کا یہ سلسلہ چلتا رہا، آخر ایک بچے کے جواب نے انگریز کو خوف اور اساتذہ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ اس بچے کا جواب سب سے مختلف تھا، جب انگریز نے اس سے پوچھا کہ وہ بڑا ہو کر کیا بنے گا؟

بچے نے بلا جھجھک جواب دیا کہ میں بڑا ہو کر انگریز کو اس ملک سے نکالوں گا، فوراً ایک استاد آگے بڑھا، اور بچے کی گال پر ایک زور دار تھپڑ رسید کر دیا۔ جب انگریز افسر چلا گیا کافی دیر بعد استاد نے بچے کو بلایا کہ شاید تھپڑ کھانے سے ڈر گیا ہو گا، دوبارہ وہی سوال کیا جواب اب بھی شاندار تھا کہ ”انگریز کے ساتھ ساتھ میں اس کے چمچوں کو بھی نکالوں گا“ وقت بدل گیا انگریز واپس چلا گیا، وہ بچے کوئی اور نہیں بلکہ اسلام آباد میں آزادی مارچ کرنے والے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود رحمہ اللہ تھے، انگریز یہاں سے چلا گیا، پاکستان کا قیام عمل میں آیا، مفتی محمود نے جے یو آئی کے پلیٹ فارم سے سیاسی طور الیکشن میں حصہ لیا اور منتخب ہوکر آگئے، انگریز کو منہ پر جواب دینے والے وہی مفتی محمود تھا جس نے آئین پاکستان میں ختم نبوت کی شق ڈالی، حرمت رسول کا مقدمہ لڑا اور 1974 ع میں قادیانیوں کو پارلیمنٹ میں بحث کے بعد غیر مسلم قرار دیا گیا۔

جمعیت علمائے اسلام کو مذہبی پارٹی کے ساتھ سیاسی جماعت کے طور پر متعارف کروایا۔ آج اسی مفتی محمود کا بیٹا مولانا فضل الرحمان ہے جو 25 جولائی 2018 کے انتخابات کو پہلے ہی روز سے مسترد کر چکے ہیں۔ مگر ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں، مفتی محمود کا بیٹا فضل الرحمان نہ تو اتنا ضدی ہے نہ ہی سیاست کے میدان میں کبھی دروازے بند رکھتا ہے بلکہ وہ ہر وقت اپنے دروازے ہر جماعت کے ساتھ کھلے رکھتا ہے۔ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی جماعت اقتدار میں آئی۔

عمران خان نیازی وزیر اعظم بن گیا۔ مولانا نے کہا میں نہیں مانتا۔ اپنے والد کی بچگانہ والی بات ہے قائم رہے۔ ایک سال کے اندر 16 ملین مارچ کرکے 27 اکتوبر کو کراچی سندھ سے آزادی مارچ کی قیادت کی اس وقت اسلام آباد میں دو ہفتے گزر گئے ہیں مگر مولانا فضل الرحمان حکومت کے خاتمے، وزیر اعظم کی استعفی اور نئے انتخابات کے مطالبے پر قائم ہیں۔ پلان اے کے بعد پلان بی پر اس وقت تک عمل پیرا ہیں۔ 12 ربیع الاول کو سیرت النبی کانفرنس منعقد کی جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

مولانا کا حوصلہ اور بڑھا۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ پہلے حکومت کی قائم کردہ کمیٹی پرویز خٹک کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کر رہی تھی جو کسی نتیجے پر پہنچے پھر چودھری برادران پرویز الاہی اور چودھری شجاعت حسین نے ملاقاتیں کی مگر بات نہ بنی۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کو کہا گیا کہ اگر آپ بات نہیں مانیں گے تو حکومت حرکت میں آئے گی۔ اور پھر بہت نقصان ہوگا۔ مولانا نے حکومتی کمیٹی اور چوہدری برادران کو واضح پیغام دیا کہ اب نئے الیکشن اور وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے سوا کوئی بات نہیں ہوگی۔

مرحوم رثائرڊ جنرل حمید گل کے بیٹے عبداللہ حمید گل نے مولانا فضل الرحمن سے دو گھنٹے تک ملاقات کی اور مولانا کو کہا کہ وہ ریاست کی طرف سے آئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے اسے بھی وہی پیغام دیا کہ نئے الیکشن کرائے جائیں ورنہ ہم آگے کی طرف جائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان سے جب نجی ٹی وی کے اینکرپرسن خاتون نے پوچھا کہ آپ کیا حکومت سے لڑیں گے؟ مولانا کا جواب تھا کہ ہم گولیاں کھائیں گے، شہادتیں پائیں گے اور لاشیں اٹھائیں گے مگر واپس نہیں جائیں گے۔

اس وقت تک میاں نواز شریف طبی ضمانت پر رہا ہوکر رائیونڈ جاتی امرا اپنی رہائش گاہ پر پہنچ چکے ہیں ساتھ میں اس کی بیٹی مریم نواز بھی رہا ہوگئی ہیں۔ آصف علی زرداری، خورشید شاھھ۔ بھی ہسپتال پہنچ چکے ہیں، مگر زرداری اور خورشید شاہ فی الحال طبی بنیادوں پر ضمانت لینا نہیں چاہتے۔ مولانا فضل الرحمان نے اس وقت تک کیا کھویا کیا پایا ہے؟ یہ سوال ہر کسی کی زبان پر ہے۔ عام طور پر تاثر دیا جا رہا ہے کہ مولانا اصل میں نواز زرداری کو رہا کرانے کے لئے آزادی مارچ کر رہے ہیں۔

لیکن اس وقت مولانا اکیلے ہی کنٹینر پر کھڑے نظر آئے، سوائے مولانا اویس احمد نورانی، اے این پی اور محمود اچکزئی کارکنوں کے ساتھ پہلے دن سے ہی کنٹینر پر ساتھ تھے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ن لیگ کے وقتی صدر شہباز شریف جو پہلے دن پر آئے اس کے بعد کبھی پیپلزپارٹی کا قیوم سومرو نظر آرہا ہے کبھی ن لیگ کے مقامی رہنما خطاب کر رہے تھے، بارشوں اور سردی کے باوجود مولانا کے کارکن ڈٹے ہوئے نظر آئے۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں قومی شاہراہیں بلاک کرانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان پر آزادی مارچ کے حوالے سے سابق آرمی کے افسران، رٹائرڈ جرنیل بھی تقسیم ہو چکے ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ، میجر جنرل ریٹائرڈ عابد علی کھل کر مولانا فضل الرحمان کو نہ صرف سپورٹ کر رہے ہیں بلکہ حکومت کو مشورے بھی دے رہے ہیں کہ مولانا کی باتیں ٹھیک ہیں مانی جائیں تو ملک و قوم کے لئے بہتر رہے گا۔

سابق آرمی چیف جنرل رثائرڊ اسلم بیگ نے 92 نیوز کے میزبان ڈاکٹر دانش کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن بالکل ٹھیک کر رہے ہیں۔ یہ نظریاتی اختلاف ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہ دیا کہ جیت بھی مولانا کی ہوگی۔ اگر طاقت کا استعمال کیا گیا تو بہت نقصان ہوگا، جنرل ریٹائرڈ اسلم نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 19 15 ع میں انڈونیشیا میں اس طرح ہوا تھا پھر 15 سے 16 لاکھ سے زائد افراد مارے گئے، انڈونیشیا جزیرہ پر تھا پاکستان جزیرہ پر نہیں ہے ایک طرف اسلامی انقلاب ایران ہے تو دوسری جانب جہادی افغانستان ہے جبکہ مولانا کے ساتھ بھی لاکھوں لوگوں کا اجتماع ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے جس وقت پشاور میں ملین مارچ سے خطاب کر رہے تھے اسی وقت ہی تقریر میں کہا تھا کہ وہ گھر سے کفن ساتھ لے کر نکل ائے ہیں۔ اس وقت مولانا فضل الرحمان اور اس کے ساتھ جو جذباتی اور جان دینے تک ڈتے ہوئے کارکن ہیں ان کے ذہن سے مولانا فضل الرحمن نے کسی بھی طرح کا خوف ختم کردیا ہے۔ جب ان کے کارکنان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس مقصد کے لئے آئے ہیں ان کا موقف یہی ہوتا ہے کہ عمران خان نیازی یہودیوں کا ایجنٹ ہے۔

پاکستان میں قادیانیوں کی حکومت ہے وہ کسی بھی طرح واپس نہیں جائیں گے اگر قائد مولانا فضل الرحمان نے حکم دیا تو وہ شہید ہونے کے لئے اور قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ آزادی مارچ میں اکثریت غریب لوگوں کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آدھے سے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے پہلی مرتبہ اسلام آباد دیکھا ہے۔ پھٹے ہوئے کپڑے، ٹوٹی ہوئی چپلیں۔ ایک دن روزہ رکھ رہے ہیں تو دوسرے دن کھانہ کھا رہے ہیں مگر پراعتماد اتنے کہ جبل استقامت کی طرح ہیں۔

مولانا فضل الرحمان موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے بہت شکوہ بھی کرتے ہیں اور نالاں بھی ہیں۔ وہ خود کہتے ہیں کہ شکوہ بھی اپنوں سے کی جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کشمیر مسئلے پر پہلے ہی دن سے موقف اختیار کر چکے ہیں کہ موجودہ حکومت نے کشمیر کا سودا کیا ہے۔ وہ کشمیر کو آزادی دلائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے 9 اکتوبر یوم اقبال ڈے کے موقع پر کرتاپور راہداری کھولنے پر حکومت کے خلاف تنقید کے تیر چلائے ان کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال کا دن ختم کرکے سکھوں کا ڈے منایا گیا۔

مولانا فضل الرحمان کرتاپور راہداری کے بھی پہلے دن سے خلاف ہیں کہ سکھوں کے نام پر وہ قادیانیوں کے لئے راستے کھول رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ایک طرف کشمیر پر قبضہ دوسری جانب بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اس ایجنڈے کے پیچھے امریکا اور اسرائیل ہے۔ اس میں کتنی حقیقت ہے یہ ریاست ہی بجانتی ہے۔ اس حکومت نے واقعی عوام کا جینا اجیرن کردیا ہے، آٹا کلو 50 سے 55 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے، ٹماٹر دو سے تین سو روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں۔

غریب عوام ایک وقت کی روٹی کے لئے ترس رہا ہے جبکہ تاجر طبقہ کی قمر توڑدی گئی ہے۔ عوام سے ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھر تعمیر کرکے دینے کے جو وعدے کیے گئے تھے اس میں ایک بھی واعدا پورا نہیں ہوا ہے۔ شاید پاکستان میں دو نوکریاں دی گئی ہیں ایک مشیر خزانہ اور دوسری ایف بی آر کے چیئرمین کی ہے شاید دونوں آئی ایم ایف کے ملازم ہیں جن کو پاکستانی معیشت پر مسلط کیا گیا ہے۔ عمران خان سے ملک کا ایک ایک شخص نالاں ہے اور ہر شخص موجودہ حکومت کے خاتمہ کا منتظر ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ پلان بی کے بعد پلان سی کی ضرورت پڑتی ہے یا پلان سی بھی آجاتا ہے اور پلان ڈی جو کہ نہ صرف مشکلات کا سبب ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ خیر کرے کہ لوگ ایران انقلاب اور فرانس انقلاب کو بھول جائیں گے۔ جے یو آئی کی قیادت کی جانب سے چاروں صوبوں میں قومی شاہراہوں کو بند کرنے کا اعلان اس طرح کیا گیا ہے جہاں قومی شاہراہیں بند کی جائیں گی وہاں پر ایمبولینس، ہسپتال جانے والے بیمار، سکول کی گاڑیاں، اور باہر ملک جانے مسافروں کی گاڑیاں قطعاً نہ روکی جائیں گی۔

انڈس ہائی وے مکمل بند کیا جائے گا۔ پشاور لاہور موٹروے بند کیا جائے گا۔ چکدرہ کے مقام پر سوات دیر چترال اور باجوڑ کے لائنز بن ہوں گے۔ شاہراہ قراقرم بند کیا جائے گا۔ کراچی سے بلوچستان کا گیٹ وے حب ریور روڈ پر بند کیا جائے گا کراچی کے کارکن وہاں پہنچیں گے۔ جیکب آباد اور ملحقہ اضلاع جیکب آباد کے مقام پر دھرنا دے کر سندھ بلوچستان شاہراہ بند کریں گے۔ پنو عاقل اور ملحقہ اضلاع گھوٹکی کے مقام پر سندھ پنجاب کا رابطہ توڑینگے۔

سکھر کے مقام پر سکھر ملتان موٹروے کو بند کیا جائے گا۔ کوئٹہ چمن شاہراہ مکمل بند ہوگا۔ ایران تفتان شاہراہ بند کیا جائے گا۔ بلوچستان کراچی شاہراہ خضدار کے مقام پر بند کیا جائے گا۔ پنجاب بلوچستان شاہراہ ڈیرہ غازی خان باونڈری پر بند کیا جائے گا۔ کوٹ سبزل رحیم یارخان پر پنجاب سندھ، شاہراہ بند کیا جائے گا۔ ڈیرہ غازی خان میں انڈس ہائی وے بند کیا جائے گا۔ راولپنڈی میں اسلام آباد کے دو داخلی مقامات پر دھرنا دے کر بند کیا جائے گا۔ جب جب انقلاب آئے ہیں تو خون بھی بہت بھایا گیا ہے اللہ کرے تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •