مولانا کا احتجاج اور کچھ یادیں مفتی محمود غفرلہ کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فضل الرحمن صاحب نے دھرنا ختم کرنے اپنے پلان بی کی طرف پیش قدمی کرنے کا اعلان کیا۔ اب اسلام آباد سے دھرنا ختم ہو رہا ہے اور اُن کے کارکنان شاہراہوں کا رخ کریں گے۔ انہوں نے دھرنے سے آخری خطاب میں کہا کہ احتجاج کرنا ہمارا حق ہے اور ہم تصادم کا راستہ نہیں اختیار کر رہے تو کوئی اور ادارہ تصادم کا راستہ کیوں اختیار کرے؟ عوام کو تسلی دینے کے لئے انہوں نے اعلان کیا کہ ہم شہروں کی سڑکوں پر نہیں بیٹھیں گے کیونکہ اس سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہوتی ہے اور وہ سودا سلف خریدنے نہیں جا سکتا۔

اس لئے ہم شاہراہوں پر بیٹھیں گے۔ اور کارکنوں کو ہدایت دی کہ کسی مریض، کسی میت یا کسی ایمرجنسی کا راستہ نہ روکیں۔ اس سے پہلے بھی جب فضل الرحمن صاحب کا مارچ اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا تو فضل الرحمن صاحب نے اعلان کیا تھا کہ اگر حکومت نے اُن کا راستہ روکنے کی کوشش کی تو ان کے کارکنان صوبوں میں مختلف سڑکوں پر ٹریفک روک دیں گے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جماعت سڑکوں کو روکنے کو اپنے لئے ایک اہم سیاسی ہتھیار سمجھتی ہے۔

ایک بات ہماری سمجھ سے بالا ہے کہ شہروں کی سڑکوں کا رُخ تو اس لئے نہیں کیا جا رہا ہے کہ اس سے عام شہری کی زندگی متاثر ہوتی ہے، تو کیا جب کسی بڑی شاہراہ کا راستہ روکا جائے تو کیا اس سے صرف خاص لوگوں کی زندگی پر اثر پڑتا ہے اور عام آدمی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیا وہ شخص جو دوسرے شہر یا قصبے اپنی ملازمت یا کاروبار پر جاتا ہے، اس کی زندگی یا کاروبار پر کوئی اثر نہیں پڑتا؟ کیا وہ طالب علم جو اپنی تعلیم کے سلسلے میں دوسرے شہر جاتا ہے اس کی تعلیم کا حرج نہیں ہوتا۔

وہ کسان جو اپنی پیداوار کو منڈی میں لے کر جاتا ہے کیا اُس کا حق نہیں مارا جاتا؟ شاہراؤں کو روک کر میڈیا کے پروگراموں میں زیادہ توجہ تو حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ شہر کے اندر دھرنوں کی نسبت زیادہ تو جہ حاصل کی جا سکتی ہے لیکن معاف فرمائیے یہ دعویٰ میری عقل سے بالا ہے کہ آپ عام شہری کی زندگی پر بد اثر ڈالے بغیر شاہراؤں کو بند کریں گے۔

اس دھرنے کی تقریروں میں آئین و قانون کی بالا دستی کی باتیں ہوئیں۔ یہ ذکر بھی بار بار کیا گیا کہ موجودہ حکومت بنیادی حقوق کو سلب کر رہی ہے۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا آئین اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ زیادہ آگے پڑھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ آئین کے شروع میں ہی اس کا ذکر مل جائے گا۔ آئین کا آرٹیکل 15 کہتا ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کو

”۔ پاکستان میں داخل ہونے اور اس کے ہر حصے میں آزادانہ نقل و حرکت کرنے اور اس کے کسی حصے میں سکونت اختیار کرنے اور آباد ہونے کا حق ہوگا۔ “

جمیعت العلماء ِ اسلام تو علماء کی جماعت ہے۔ میں ایک کم علم انسان ہوں۔ لیکن مجھے کوئی یہ تو سمجھائے کہ کیا آئین میں یہ حق صرف میت، مریض اور ایمرجنسی کے شکار لوگوں کو حاصل ہے کہ وہ آزادانہ نقل و حرکت کریں یا پاکستان کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے؟ یقینی طور پر یہ حق پاکستان کے ہر شہری کو حاصل ہے۔ فضل الرحمن صاحب نے درست فرمایا کہ احتجاج کرنا اُن کا حق ہے لیکن صاحب! میرا بھی تو حق ہے اور ہر شہری کا بھی یہ حق ہے کہ وہ آزادانہ طور پر جہاں چاہیں جا سکیں۔

آپ احتجاج ضرور کریں لیکن اس طرح کہ کسی اور کے بنیادی حقوق سلب نہ ہوں۔ فضل الرحمن صاحب نے کہا کہ وہ عام آدمی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ تو کیا وہ عام آدمی کا بنیادی حق سلب کر کے اُس کی جنگ لڑ رہے ہیں؟ فض الرحمن صاحب اپنے پلان بی کو چلا سکتے ہیں کہ نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن اس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں، اس کے متعلق تو پہلے سے سوچنا ہوگا۔

یہاں فضل الرحمن صاحب کے والد مفتی محمود صاحب کے ایک دلچسپ واقعہ کا ذکر کرنا مناسب ہو گا۔ جب پاکستان کا موجودہ آئین بن رہا تھا اور اس پر بحث ہو رہی تھی، تو یکم مارچ 1973 کی کارروائی کے دوران خان عبد القیوم خان صاحب نے ذرا اونچی آواز میں تقریر کر دی۔ اس پر مفتی محمود صاحب نے کہا

”جناب ِ والا! میں ایک نقطہ استحقاق پیش کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ ہمارے کان پھٹتے جا رہے ہیں۔ یہ ذرا آہستہ بولیں۔ ہمارے کان پھٹتے جا رہے ہیں۔ ہمیں بھی حق ہے۔ “

مطلب واضح ہے کہ ان کو اظہار ِ رائے کا حق ہے میرے کان کے پردے پھاڑنے کا حق نہیں ہے۔ اسی طرح فضل الرحمن صاحب کو احتجاج کا حق ہے لیکن کسی اور کا راستہ روکنے کا حق نہیں ہے۔ 1973 میں آئین کی یہ شق جب بحث کے لئے قومی اسمبلی میں پیش ہوئی تھی تو اُس وقت جمیعت العلماءِ اسلام بھی اسمبلی میں موجود تھی۔ اُ س وقت انہوں نے یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ احتجاج کے لئے دوسروں کے راستے روکنے کا حق ہونا چاہیے۔ آج بزنجو خاندان اس تحریک کی حمایت کر رہا ہے۔

اُس وقت میر غوث بخش بزنجو صاحب نے کہا تھا کہ نہ صرف ملک کے اندر نقل و حرکت کی آزادی ہونی چاہیے بلکہ ہر شہری کو ملک سے باہر جانے اور پھر واپس آنے کا بھی مکمل حق حاصل ہونا چاہیے۔ علماء میں سے ظفر احمد انصاری صاحب نے اس شق پر یہ رائے دی تھی کہ اس شق کو ”قانون کے ذریعہ عائد کردہ کسی معقول پابندی کے تابع“ کیوں رکھا گیا ہے۔ اس حق پر کوئی شرط نہیں ہونی چاہیے۔ اس کارروائی کے صفحہ 1226 سے 1236 تک یہ بحث ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

دوسال پہلے اور وہ بھی نومبر ہی کے مہینے میں فیض آباد پر تحریک ِ لبیک پاکستان کے دھرنے کی وجہ سے راستہ روکا گیا تھا خادم حسین رضوی صاحب اس دھرنے کی قیادت کر رہے تھے۔ فضل الرحمن صاحب تو ملک بھر کی شاہراؤں کو روکنے کی بات کر رہے ہیں، انہوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان انٹرچینج پر دھرنا دے کر ان شہروں میں زندگی کو مفلوج کرنے کی کوشش کی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق لاکھوں گاڑیاں روزانہ اس انٹرچینج سے گزرتی ہیں، ان کا راستہ روک دیا گیا تھا۔ طالب علم اپنے کالجوں اور یونیورسٹیوں تک نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ تعلیم کا حصول بھی تو ایک بنیادی حق ہے۔ اس طرح انہیں اس حق سے محروم کیا جا رہا تھا۔ جنہوں نے سپریم کورٹ جانا تھا وہ وہاں نہیں جا پا رہے تھے تاکہ اپنے لئے انصاف حاصل کر سکیں۔

سپریم کورٹ نے اس کا از خود نوٹس لے کر یہ فیصلہ سنایا تھا کہ اُن احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جو کہ احتجاج کے نام پر دوسروں کا راستہ روکتے ہیں۔ اب صرف آئین کے آرٹیکل 15 کی بات نہیں بلکہ اس کی بنیاد پرسپریم کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے کہ حکومت سڑکوں کو روکنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ اس پس منظر میں کیا یہ حکومت کا فرض نہیں کہ وہ شاہراہوں کو روکنے والوں کے خلاف کارروائی کرے؟ اگر حکومت ایسا کرے گی تو یقینی طور پر اسے تصادم کا نام دے کر جارحانہ اقدامات کا جواز بنایا جائے گا۔ یہ پورے پاکستان کا فرض ہے کہ وہ ایسی صورت ِ حال نہ پیدا ہونے دیں جس سے ملک میں فسادات کا راستہ کھلے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •