جو قافلے تھے آنے والے، کیا ہوئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دھرنا کامیاب ہوا یا ناکام۔ ظاہر بات ہے کہ دونوں پارٹیوں کے حامیوں کے پاس اندھا دھند دلائل ہیں اس لئے ہم اس پہ اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔ اس دھرنے کے اثرات پہ بات کر کیتے ہیں اور کچھ ایسی تجاویزکو تحریر کی شکل دے دیتے ہیں جن کے بارے میں معلوم تو ہے کہ انجام کیا ہوگا لیکن کاش کہ ایسا ہوجائے۔

عمران خان اور ان کے سیاسی کزن کا 126 دن کا دھرنا ہو یا مولانا کا 13 دن کا دھرنا، نتائج اس وقت تک نہیں نکل سکتے جب تک بقول خان صاحب امپائر کی انگلی نہ اٹھے۔ کاش تمام پارٹیاں امپائر کی انگلی کی بجائے اپنی لائن اینڈ لینتھ پر توجہ دیں۔

دھرنوں میں بیٹھنے والے کوئی اور ہوتے ہیں، مقاصد کوئی اور پورے ہوتے ہیں۔ عوام کو سردی اور انہیں حلوہ کھانے کو مل جاتا ہے۔ کاش یہ ایک ایک ہزار سکہ رائج الوقت کے خطیر بونس کے لئے گرتی دیواروں کو دھکہ دینے کی بجائے اپنی محنت سے دھکہ لگا کر اتنے عرصے میں پچاس ہزار کمانے کی سعی کریں۔

فردوس عاشق اعوان، شیخ رشید اورمفتی کفایت اللہ جیسوں نے لطیفہ نما بیانات سے بے ہودگی کا بازار گرم رکھا۔ مولوی فضل الرحمن، اعظم سواتی اورمنظورمینگل جیسے کردار مذہب کی کیاری میں نفرت کی سپرے چھڑکتے رہے۔ کاش ہمارے قانون کے اداروں میں وہ ہمت پیدا ہوجائے کہ ایسے زباں درازوں کا منہ نوچ لے کوئی۔

پارلیمنٹ میں پہنچنے کی شدیدخواہش مند حکومت جیسے تیسے بھی پارلیمنٹ میں پہنچی اب وہ اس ”مقدس ایوان“ کو عزت دینے کی قائل مظر نہیں آرہی۔ بجائے جمہوری طریق اختیار کرنے کے صدر مملکت کو مصروف کیے ہوئے ہے، آرڈینیس پہ آرڈینس آرہے ہیں۔ دوسری طرف اپوزیشن بھی بحث کی بجائے سستے نعروں پہ یقین کیے ہوئے ہے۔ کاش حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت ڈالے اور اپوزیشن ”سلیکٹڈ“ کے شورسے آگے بڑھ کر اسمبلی میں پیش کیے گئے ڈیفیکٹڈ قوانین سازی کی نشاندہی کرسکے۔

اسٹیبلشمنٹ کے نعرے، فوج کے دائرہ اختیار کی باتیں بجا کہ ایوب خان، جنرل جیلانی، آئی جے آئی، جنرل راحیل، کیانی اور جنرل پاشا کو عام آدمی سے بہت زیادہ میاں صاحبان سے لے کر عمران خان اور زرداری صاحب سے لے کر فضل الرحمن اور سراج الحق صاحب جانتے ہیں۔ مسئلہ یہ کہ سبھی کو یہ صحیح بات غلط وقت پر یاد آتی ہے۔ کاش حکومت اور اپوزیشن کو یہ صحیح بات صحیح وقت پر یاد آجایا کرے تو پوری قوم ہاں، نہیں کی پہیلیوں سے نکل سکے۔ طاہر عدیم نے بھی کسی پوشیدہ طاقت کے حوالے سے لکھا تھا، یہاں منطبق ہے کہ

کبھی ہاں نہیں کی پہیلیوں سے نکل کہ مجھ کو پتہ چلے

اے مسافر شب دشت دل تو یقین ہے کہ گمان ہے

ستر سال میں ترقی معکوس کا شکار پاکستانیوں کے پاس ملکی ترقی کے حوالے سے ماضی کی چند یادوں کے سوا کچھ نہیں۔ نئی نسل کی لغت میں دہشت گردی، منی لانڈرنگ، پارک لین فلیٹس، سرے محل، پانامہ، وکی لیکس، سلائی مشینوں، جعلی اکاونٹس اور تو کافر وہ غدار کے سوا کچھ نہیں۔ کاش آنے والی نسل کے ذہن کی سلیٹ پر اوپر لکھا مٹ کر ترقی، خوشحالی، امن، سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت، سیاحت، ایجادات، ورلڈ چمپیئن اور میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے، نقش ہوجائے۔ اس کے لئے ہمیں اپنے اپنے حصے کی شمع جلانی ہوگی وگرنہ اندھیرا عمیق ہوتا جائے گا اور پھر ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے گا اور شمع جلانی بھی چاہو جلا نہ سکو گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •