فوجیوں کی گواہی پر ملزم کو مجرم بنانا ہے تو عدالت کو حراستی مرکز میں منتقل کر دیں: چیف جسٹس

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ کہیں وہ اس بات پر تو یقین نہیں رکھتے کہ ‘محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔’ اس پر عدالت میں قہقہ بلند ہوا

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ فوج کے زیر انتظام چلنے والے حراستی مراکز میں رکھے گئے افراد کے خلاف مقدمات کے فیصلے اگر فوجی افسر کی گواہی پر ہی ہونے ہیں تو پھر بہتر ہے کہ عام عدالتوں میں ہزاروں افراد کے خلاف دائر مقدمات کو حراستی مراکز میں منتقل کر دیا جائے۔ انھوں نے یہ بات صوبہ خیبر پختونخوا میں فاٹا اور پاٹا سے متعلق جاری کیے گئے آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے کے خلاف وفاق کی طرف سے دائر کی گئی اپیل کی سماعت کے دوران کہی۔

انھوں نے کہا کہ قانون کی نظر میں ایسے فیصلے کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہوتے جس میں ملزم کو دفاع اور گواہ پر جرح کا حق نہ دیا گیا ہو۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جہاں ملزم کو دفاع کا حق نہ دیا جائے وہاں ٹرائل اور انصاف کے تقاضے کیسے پورے ہو سکتے ہیں؟

آصف سعید کھوسہ نے طنزیہ انداز کہا کہ اگر سکیورٹی اداروں نے کسی ملزم کو گرفتار کیا ہے اور اس کے خلاف کسی فوجی افسر نے بیان دیا ہے تو پھر اس ملزم کو مجرم ثابت کرنے کے لیے کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ تو قانون شہادت کو بھی بائی پاس کر گیا ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے وفاق اور خیبر پختونخوا کی حکومت کی طرف سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے خیبر پختونخوا میں رائج ایکشن ان ایڈ اینڈ سول پاور آرڈیننس 2019 اور حراستی مراکز کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے اس کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا تھا۔

حراستی مراکز
عدالت نے استفسار کیا کہ جب تک فوج اس علاقے میں موجود رہے گی تو کیا اس وقت تک گرفتار ہونے والے افراد حراست میں ہی رہیں گے

جمعرات کو اٹارنی جنرل انور منصور نے اپیل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حراستی مراکز میں جتنے افراد رکھے گئے ہیں ان کو دفاع کا حق دیا گیا ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو پھر پشاور ہائی کورٹ کو اس صدارتی آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے کی ضرورت کیا تھی۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جس علاقے میں حراستی مراکز ہیں وہاں امن و امان کی صورت حال خراب اور دہشت گردی عروج پر تھی اسی لیے دہشت گردی اور فرنٹیر کرائم ریگولیشن کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو گرفتار کر کے حراستی مراکز میں رکھا جاتا ہے تاکہ ان کی اصلاح کی جاسکے۔

بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جنیوا کنونشن کے تحت جنگی قیدیوں کو بھی دفاع کا حق دیا جاتا ہے لیکن حراستی مراکز میں پاکستانیوں کو دفاع کا حق نہیں دیا جاتا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ امریکہ نے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے ان کے لیے گوانتنامو بے میں حراستی مراکز بنائے اور اپنے شہریوں کو محفوظ رکھا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے برعکس پاکستان میں ایسے حراستی مراکز بنائے گئے جہاں پاکستانیوں کو رکھا گیا اور انھیں دفاع کا حق بھی نہیں دیا جاتا۔

عدالت نے جب استفسار کیا کہ جب تک فوج اس علاقے میں موجود رہے گی تو کیا اس وقت تک گرفتار ہونے والے افراد حراست میں ہی رہیں گے تو اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کسی کو حراست میں رکھنا سزا نہیں ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ حراستی مراکز سے نکلنے والوں کو قانون کے حوالے کرنا دہری سزا کی طرح ہو گا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس بیان پر حیرت ہوئی ہے کہ حراست میں رکھنا سزا کے ذمرے میں نہیں آتا۔

مسنگ پرسنز
کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ کسی بھی ملزم کو دفاع کا حق دیے بغیر مجرم گردانا جائے

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فوج اور سویلین حکام ہر چار ماہ کے بعد ان افراد کے مقدمات کا جائزہ لیتے ہیں جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ واقعی ایسا ہوتا ہے یا پھر یہ زبانی جمع خرچ ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کڑوروں افراد کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے اگر چند ہزار لوگوں کو حراست میں رکھا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر ایک کروڑ افراد کے تحفظ کی خاطر ایک بھی شخص کو حراست میں لے جائے جس کا کوئی قصور بھی نہ ہو تو وہ کروڑوں افراد کے ساتھ نہیں بلکہ اس فرد واحد کے ساتھ ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ کسی بھی ملزم کو دفاع کا حق دیے بغیر مجرم گردانا جائے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ صدارتی آرڈیننس کے بجائے یہ معاملہ قانون سازی کے لیے پارلیمان کو بھیج دیا جاتا۔ اُنھوں نے کہا کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب اسمبلیاں فعال ہیں تو انھیں بائی پاس کیوں کیا جاتا ہے؟

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہیں وہ اس بات پر تو یقین نہیں رکھتے کہ ’محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔‘ چیف جسٹس کے اس ریمارکس پر عدالت میں قہقہ بلند ہوا۔ عدالت کے استفسار پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فاٹا اور پاٹا کے لیے آرڈیننس حالات کو دیکھتے ہوئے لایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے چیلنج ہونے والے آرڈیننس آئین کے مطابق ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حراستی مراکز کے بارے میں معاملہ 11 سال تک زیر التوا ہے اور معلوم نہیں کہ کتنے ہزاروں افراد اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عدلیہ کی حالیہ تاریخ کا یہ سب سے بڑا کیس ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی شخص کی آزادی سے بڑھ کر اور کیا کام ہو سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے اس اپیل کی سماعت کو تین روز کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کی جو مسترد کر دی گئی۔

واضح رہے کہ اٹارنی جنرل انور منصور نے گذشتہ سماعت کے دوران اس پانچ رکنی بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی موجودگی پر اعتراض اٹھایا تھا تاہم چیف جسٹس نے یہ اعتراض مسترد کر دیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں ایک سربمہر رپورٹ پیش کی جس میں صوبہ خیبر پختونخوا میں بنائے گئے حراستی مراکز اور اس میں رکھے گئے افراد کی تعداد کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11190 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp