برف زاروں کے گیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلی پہلی چیزیں اور اولین تجربے دونوں ہی عموما یاد گار اور خوبصورت ہوتے ہیں جیسے لڑکپن کا پہلا خواب، پہلی محبت، پہلی کمائی، شادی کے اولین دن، پہلا گھر، پہلے بچے کا اولین لمس، گرمیوں کی پہلی بارش اور کینیڈا میں موسم سرما کی پہلی برف باری۔ ذرا سوچیں کھڑکی سے باہر گرتی موتیوں یا روئی کے گالوں سی نرم برف اور اندر گرم آتشدان کے قریب کمبل پاؤں پہ ڈالے مونگ پھلی کا مزہ لیتے ہوے کوئی اچھی سی کتاب۔ کسی مووی کی طرح رات میں کرسمس کی روشنیوں کے درمیان گرتی ہوئی خوبصورت برف، پس منظر میں رسیلی دھنیں بکھیرتا ہوا اکسٹرا اور اسمیں سرخ و زرد لانگ کوٹ اور جیکٹس پہنے، رنگ بر نگے ٹوپوں اور دستانوں سے خود کو ڈھانپے، لانگ بوٹ پہن کر ہاتھ میں ہاتھ ڈالے خوش گپیاں کرتے ہوے لوگ یا آس پاس برف سے سفید ہوے راستوں پہ سبک رفتاری سے چلتی ہوئی گاڑی، شیشے سے ہلکی ہلکی برف کو ہٹاتے ونڈ شیلڈ پہ وائپروں کی ہلچل، سپیکر پہ سما باندھتے رومانوی گانے اور سردی میں کافی کا گرما گرم پہلا گھونٹ۔

یہ تھا برف کے رنگوں سے سجا تصویر کا بے حد خوبصورت رخ، جو اکثر منظر سے دور رہنے والوں کو پسند آتا ہے اور ہر دوسرے دل سے یہ خواہش آہ بن کے نکلتی ہے کہ ”ہاے کاش ہم یہاں ہوتے، اب آتے ہیں تھوڑا حقیقت پسندی کی طرف۔ جیسے ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے ان منظروں کی بھی ایک قیمت ہے۔ جو برف شروع شروع میں سفید موتیوں سے پروے کسی دوشیزہ کے آنچل کی مانند نظر آتی ہے وہی کچھ دن گزرنے کے بعد کسی بیوہ کی پھیکی چادر کی طرح محسوس ہونے لگتی ہے۔

سوگوار اور اداس۔ دن پہلے ہی سردی کی وجہ سے چھوٹے ہو جاتے ہیں پھر جب گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی جاتی ہیں تو شام کے پانچ بجے ہی گھپ اندھیری رات چلی آتی ہے۔ سورج کا دورانیہ مختصر ہوتے ہی لوگوں میں ڈپریشن بڑھنے لگتا ہے۔ ایسے میں اگر خود کو مصروف نہ رکھا جائے تو اچھے خاصے ہنستے کھیلتے لوگ قنوطیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک بات بہت دلچسپ ہے، جب تک ہم یہاں آباد نہیں ہوے تھے ہماری لغت میں برف کے چند ہی نام تھے جیسے برف، اسنو یا اولے، یہاں آکے برف کے کئی مزاج پتا چلے مثلاً فریزنگ رین، فلوریز، آئس پیلٹس، آیسکلز وغیرہ وغیرہ۔

آپ کھڑکی پہ نگاہیں جماے گرما گرم کافی کے گھونٹ لیتے ہوے ہمیشہ برف کی تعریف میں رطب السان ہو کر اسے نہیں تک سکتے آپ کو اور آپ کے بچوں کو بہرحال اسکول، یونیورسٹی، دفتروں اور سودا سلف لینے کے لئے باہر نکلنا پڑتا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ گھر کے اطراف کی صفائی کی جائے۔ تازہ تازہ پڑنے والی برف کو فوری طور پہ یا درجہ حرارت مزید گرنے سے پہلے نہ صاف کیا جائے تو وہ روئی کے نرم گالوں کے بجاے فریزر میں جمنے والی آئس کا روپ ڈھال لیتی ہے اور پھر اس کو کھودنا اور کھرچنا ایک محاذ بن جاتا ہے دوسری طرف فوری صفائی اس لیے بھی ضروری ہے کہ جمی ہوئی برف پہ پھسلنے کی صورت میں آپ کافی خطرناک چوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں جو مہینوں کے لئے بھی تکلیف دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

جب تک ہم لوگ اپارٹمنٹ بلڈنگ میں رہے اس صفائی ستھرائی کی مشقت سے بچے رہے لیکن مکانوں میں اس سے بچنا ناممکن ہے۔ جب تک بچے چھوٹے ہوں یہ مشقت خود سہنی پڑتی ہے آھستہ آھستہ بچے آپ کے مددگار ہو جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود اکثر یہ کام خواتین کے سر آتا ہے۔ ہمیں بھی کچھ موقعوں پر یہ کام انجام دینے کا شرف حاصل ہے۔ ایک بار تو صورت حال خاصی عجیب تھی۔ چھوٹے بیٹے کی پیدائش سے تین ماہ پہلے صبح سب صاف ستھرا تھا اور برف کے کوئی آثار نہ تھے ورنہ عموما بچے یا میاں جانے سے پہلے صفائی کر جاتے ہیں۔

جب سب چلے گئے تو کہیں جانا بے حد ضروری تھا۔ دروازہ کھولتے ہی ادراک ہوا کہ برف گھر کے اندر آنے کو بیتاب ہے۔ مرتا کیا نہ کرتا اسی حالت میں پھونک پھونک کے قدم رکھتے ہوے پھاوڑے اور برش سے دروازے سے لے کر ڈرائیو وے تک اور پھر گاڑی کی برفیں صاف کیں۔ برابر میں ہماری سری لنکن پڑوسن بھی اسی اکٹویٹی میں مصروف تھی۔ یہاں نہ گلیوں میں کوئی چوکیدار ہوتے ہیں نہ چلتے پھرتے کام والے کہ سو دو سو روپے لے کر ”باجی“ کا کام کر دیں۔

سچ تو یہ ہے کہ یہاں جتنا ذکر لوگ اپنے پیچھے چھوڑ آنے والی ماسیوں اور نوکروں کا کرتے ہیں شاید اپنے پیاروں کا بھی نہیں کرتے۔ قصّہ مختصر، گاڑی اپنے لئے تو صاف کی ہی جاتی ہے لیکن اس کو آگے پیچھے ہر طرف سے اچھی طرح صاف کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ مبادا کہیں ڈرائیو کے دوران برف ہوا سے اڑ کر کسی اور گاڑی کی ونڈ شیلڈ پہ پڑ کر حادثے کا باعث نہ بن جائے جس کے نتائج اور خطرناک ہیں۔

ایک بارایسے ہی طوفان میں نکلنا پڑا روڈ فوری طور پہ صاف نہیں ہوتی گاڑی رینگتی ہوئی چلانا پڑتی ہے کیونکے بریک لگانے کی صورت میں برف پہ رکنے کے بجاے مزید پھسل پڑتی ہے، ہماری گاڑی 180 کے اینگل پہ گھوم گئی اور روڈ کے دوسری طرف گاڑیوں کی مخالف سمت میں جا کے رکی اسوقت بس کلمہ ہی یاد آیا۔ کل کے اسنو اسٹرام کے دوران صرف صوبہ اونٹاریو میں چوبیس گھنٹے میں چار سو ایکسیڈنٹ رپورٹ ہوئے جن میں وہ تعداد شامل نہیں جو گاڑیاں خود سے بے قابو ہو کر کنٹرول کھو بیٹھیں۔

عموما جب برف کے کسی شدیدطوفان کی وارننگ ہو تو بڑی سڑکوں پہ نمک ڈالنے کا کام رات سے شروع کر دیا جاتا ہے یہ نمک برف پگھلانے میں مدد گار ہوتا ہے سب اپنے اپنے گھروں کے آس پاس بھی اس نمک کا چھڑکاؤ کرتے ہیں۔ اسکول بورڈ صبح سوا چھے بجے تک بسوں کے چلنے یا بند رہنے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ اسکول کھلے رہتے ہیں لیکن اسکول بسیں احتیاط کے طور پہ بند کر دی جاتی ہیں۔ بڑی سڑکیں عموما جلدی صاف کر دی جاتی ہیں۔ اندر گلیوں کی برف پگھلتے دیر لگتی ہے۔

جن کے پاس گاڑی کی سہولت میسر نہیں وہ مایں شدید سردی میں اسکول جانے والے بچوں کو چھوڑنے اپنے چھوٹے بچوں کو تہہ در تہہ لپیٹ کر جس طرح بچتے بچاتے برف پہ اسٹرولر گھسیٹی ہیں ان کی عظمت کو سلام کرنے کا دل چاہتا ہے۔ اسی برف کو چھو کے جب ہوا آپ کے گلے لگتی ہے تو درجہ حرارت مزید گر جاتا ہے اور دانت خود بخود موسیقی تخلیق کرنے لگتے ہیں اور ایسے میں جب دستانے اتار کے پٹرول ڈلوانا پڑ جائے تو نانی اماں یاد آجاتی ہیں اور نہ چاھتے ہوئے بھی منہ سے نکل پڑتا ہے ”Hate this“۔

بہرحال ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے چار پانچ مہینے کی اتنی مشقتوں کے بعد جب بہار کی آمد ہوتی ہے تو کینیڈا کی کھلتی بہاریں اور گرمیاں آپ کے سارے زخم دھو ڈالتی ہیں اور کینیڈینز خوامخواہ ہی چہکنے لگتے ہیں لیکن ان موسموں سے مانوس ہونے اور دوستی کرنے میں ایک عرصہ لگ جاتا ہے۔ اب جب بھی آپ کبھی برف کے پس منظر میں اپنی سوشل میڈیا کی چھوٹی سی کھڑکی سے کسی کی مسکراتی ہوئی خوبصورت سی تصویر دیکھیں تو اس کی آسائشوں بھری اور حسین منظروں میں گھری زندگی پہ رشک کرنے سے پہلے کڑے موسموں میں اس کی جدوجہد اور سختیوں کے بارے میں بھی سوچئے گا کیونکے ہر جگہ کے اپنے مسائل اور ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں۔

اسی برف پہ پھسل کے اگر آ سکو تو آؤ

میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •