آئینہ در آئینہ کا شاعر۔ حمایت علی شاعر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر: طاہر منصور قاضی اور نزہت صدیقی  

حمایت علی شاعر [جولائی 14، 1926۔ جولائی 16، 2019 ] کے نام کے ساتھ شاعری کا ایک پورا عہد وابستہ ہے۔ ان کی پیدائش پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے درمیانی عرصے میں ہوئی۔ پہلی جنگ عظیم کے اختتام کے بعد یورپ کے ایک جرنیل نے کہا تھا، اچھا ہوا کہ آنے والے بیس سال کے لئے عارضی جنگ بندی ہو گئی ہے۔ اور یہ پیش گوئی حرف بحرف درست ثابت ہوئی۔ انہوں نے پہلی جنگ عظیم کے بعد کی زخم زخم دنیا میں آنکھ کھولی اور دوسری عالمی جنگ کو رومان پرور جوانی کے دنوں میں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

دوسری عالمی جنگ ان کے لئے صرف خونچکاں حکایت نہیں تھی، یہ ان کا ذاتی مشاہد ہ تھی۔ یہ وہی زمانہ تھا جب پورا یورپ مٹی اور راکھ ہو کر رہ گیا تھا۔ جاپان پر ایٹم بم کی تباہی آئی اور بنگال کا قحط لاکھوں انسانوں کے لئے پیغام اجل ثابت ہوا۔ اس زمانے کی تار تار حسیات کے نمائندہ اور باقی صدی کے سوختہ حمایت علی شاعر اپنی سوچ میں اور شاعری میں کبھی طربیہ گیت کے لبادے میں نظر آتے ہیں اور کہیں حقیقت نگار کی شکل میں، جن کی شاعری اور نثر میں دکھ اورسکھ بس ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

بات اتنی سی ہے کہ بہت سے شاعر، ادیب اور دوسرے انسان بھی شدت جذبات کی نہایت پر، خواہ وہ المیہ کیفیت ہو یا طربیہ، کبھی شعوری اور کبھی غیر شعوری طور پر حقیقت سے نظر چرانے کے واسطے اساطیر ی سوچ میں پناہ لیتے ہیں۔ حمایت علی شاعر نے اسطورہ اور حقیقت کے درمیانی منطقے میں جسے رومان کا علاقہ کہا جا سکتا ہے، اس میں زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی اور یہیں پر زندگی کے جور و جفا سے پنا ہ لی۔ حمایت علی شاعر کی ساری شاعری، رومانٹک اور حقیقت نگاری کی ادبی ٹیکنیک تو ہے ہی، مگر اس کے ساتھ جڑے ہوئے شعور کی شاعری ہے جس میں ذاتی یا انفرادی حسیات ہیں اور سماجی تلخیاں اور نظریات بھی۔

نظریاتی شاعری کے علم برداروں پر بالعموم نعرہ بازی کی تہمت لگتی ہے۔ حمایت علی شاعر کی شاعری نظریاتی وابستگی کے باوجود نعرہ بازی سے دامن بچا کر چلتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں احتجاج نہیں کرتے۔ ان کی شاعری اپنے اظہار میں احتجاج کی توانا آواز ہے۔ جیسے ایوب خان کی آمریت کے زمانے میں حسن ناصر کی شہادت پر ان کی نظم ہے، اور کئی اور نظمیں بھی مثال کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں۔ اس نظم کو اور اس جیسی دوسری نظموں کو ادبی تنقید کے بنیادی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو حالات و واقعات کی ساری شکست و ریخت کے باوجود، اور نظم کا ”ہیرو“ حسن ناصر ذاتی طور پر ہلاک ہو جانے کے باوجود اپنے اوصاف حمیدہ کی بنا پر سوسائٹی کی اعلیٰ اقدار کو قائم کرنے میں اپنا حصہ ڈال کو زندہ جاوید ہو جا تا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ بہت سے احباب شہیدحسن ناصر پر کہی گئی نظم کو کسی ادبی غلط فہمی کی بنیاد پر یا کسی بھی وجہ سے ”ٹریجڈی“ سے تعبیر کریں، مگر لٹریری اصولوں میں یہ ہیرو اور ہیرو ازم کی جیت ہے۔ یہ نظم ”کامیڈی“ یا جیت کا نغمہ ہے اور بقا کا نور ہے جس میں رومانویت کو تصور انقلاب کی خشت اول قرار دیا جاتا ہے۔ اس بات کی تفہیم میں کینڈا کے مشہور ادبی نظریہ ساز نارتھرپ فرائی کو اس جگہ تفصیل کے ساتھ بیان کرنا تو ممکن نہیں البتہ ایک وضاحت ضروری ہے کہ لٹریری رومانٹکس اور جمالیات کا آپ میں گہرا تعلق ہے۔

حمایت علی شاعر اپنی شاعری میں جمالیات بڑے قرینے سے ہر جگہ برقرار رکھتے ہیں۔ مشکل لمحات میں بھی زندگی کے لطیف جذبات کا اظہار ان کی غزل اور ان کے گیتوں میں بڑا واضح دکھائی دیتا ہے جو کہ ان کے شعری سرمائے ”کلیات شاعر“ میں اور انٹرنیٹ پر بآسانی دستیاب ہے۔ ہمارے لئے مشکل یہ ہے کہ ان کے کلیات شعر میں سرمایہ اتنا زیادہ ہے کہ کون سے گیت یا کون سی غزل کا حوالہ یہاں دیا جائے اور کس کو چھوڑا جائے۔ حقیقی دنیا کے اندر رہتے ہوئے لطافت میں رچی ہوئی ایک غزل کے دو شعر۔ ع:

آج اے دل، لب و رخسار کی باتیں ہی سہی

وقت کٹ جائے گا کچھ پیار کی باتیں ہی سہی

زندہ رہنے کی کبھی تو کوئی صورت نکلے

عالم عشرت دیدار کی باتیں ہی سہی۔

حمایت علی شاعر کی شاعری میں انفرادی دکھ کے ساتھ ساتھ سماجی شعور کی کئی پرتیں ہیں جن کے ادراک کے لئے بنگال کے قحط کا ذکر ان کے اپنے الفاط میں جاننا بہت ضروری ہے :۔ ”دراصل بنگال کے قحط کا جنگ سے تعلق میرا بنیادی موضوع ہے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ بنگال کا قحط قدرتی نہیں بلکہ مصنوعی تھا اور اس کا عالمگیر جنگ کی تباہ کاریوں سے ایک تعلق ضرور تھا“۔ اور اس تعلق کو شعوری طور پردیکھنے اور تاریخ کے کینوس پر سمجھنے کے لئے وہ اپنے دوست کامریڈ افتخار کو ہمیشہ اپنا محسن سمجھتے رہے۔

بات بے شک طول پکڑ رہی ہے مگر بات یہ ہے کہ حمایت علی انسان اور انسانیت کے شاعر تھے۔ انہوں نے ہندوستان میں آنکھ کھولی، 1947 میں استعماراتی قوتوں کے ہاتھوں مادر وطن کو دو لخت ہوتے دیکھا، مہا ویرا اور مہاتما بدھ کے ہندوستان کی زمین پر خون کی ہولی دیکھی اور پھر شاہ بھٹائی کی زمین کو گلے لگا لیا۔ اور شاہ سائیں کی دھرتی بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ جسم و جان کو پکڑ لیتی ہے۔ ع:

اے شاہ اجازت ہو تو یہ خاک اٹھا لوں

اس خاک کو چوموں، اسے آنکھوں سے لگا لوں۔

اور ایک دوسری نظم ”پرانے سلسلے نئے رابطے“ میں کہتے ہیں۔ ع:

میں اپنی چاہ میں رانو، وفا میں رائے ڈیاچ

مرا سکون ہے سورٹھ، مرا جنوں بیجل

مرے وجود میں شہباز، روح میں سرمد

مرا دماغ لطیفی تو میرا دل سچل۔

ادب اور فن کے اہل نظر انہیں اردو زبان کا سرمایہ سمجھتے ہیں اور ان کی یہ سوچ بالکل بجا ہے مگر یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ بات صرف زبان کی نہیں۔ بات دراصل انسان کی اور اس کے لا شعور سے خام مادہ نکال کر شعور کی سطح پر تجربات کی ہے اور زبان ان تجربات کی ترسیل کا ایک وسیلہ ہے۔ اسی واسطے زبان انسان کے ارتقاء کی دلیل ٹھہرتی ہے۔ درحقیقت انسان کا شعری ورثہ ادبی اور آرٹ میں ارتقاء انسان کے ارتقاء کی دلیل ہے۔

ادب اور شاعری دراصل تاریخ کے بیانیہ کا دوسرا نام ہے۔ ادبی تاریخ میں معاشرت کی پرتیں کھلتی ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ اس میں زندگی اور لطافت کا پر تو ہے اور تسلسل بھی۔ زندگی اور انسان لطافت سے بے بہرہ ہوں تو شاعری کی دیوی بھی منہ موڑنے لگتی ہے۔ شاعری کی دیوی کے بغیر شاعری جو بھی ہو سو ہو، مگر اس میں سے پیغمبری کا وہ عنصر عنقا ہو جاتا ہے جس کی طرف پرانے بزرگ انبیاء نے توجہ دلائی ہے۔ ع:

پھر یوں ہوا کہ چھڑ گئی یوسف کی داستاں

پھر میں تھا اور پاکیء دامن کا امتحاں

اک سانپ بھی تھا آدم و حوا کے درمیاں

[انجیل کی روایت]

حمایت علی شاعر ایک جگہ پر انجیل کی روایت کے امین ہیں، تو وہیں شاہ بھٹائی کی زمین اور اس کی سادگی کے آئینہ دار بھی۔ اور یہ بات پھر سے کہنے میں کیا حرج ہے کہ وہ اسی زمین پر جئے ہیں جہاں شاہ لطیف نے زندگی گزاری تھی۔ اس بات کا ذکر اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہجرت کے بعد نئی زمین میں بس جانے کے ساتھ ان کی شاعری میں انسان اور زندگی اپنے وسیع تر معنوں میں سامنے آتے ہیں۔ ع:

میں نے ٹھانی ہے اور ہے دل میں

چاہے وہ بات، بات ہو کہ نہ ہو

میں سنواروں گا گیسوئے ہستی

زندگی کو ثبات ہو کہ نہ ہو۔

گیسوئے ہستی کو سنوارنے کے آدرش کی بات کرتے ہوئے حمایت علی شاعر، شاعری کے لوازمات کی تنگنائے سے نکل کر نثر میں بات کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فلسفہء تاریخ پہ ان کی نظر کتنی گہری ہے : ”تاریخ ادوار کے واقعاتی تسلسل کا نام نہیں بلکہ معاشرتی ارتقاء کے جدلیاتی تسلسل کا نام ہے۔ جب تک ہم تاریخ کے مادی حقائق کی کسوٹی پر بحث طلب مسائل کو نہیں پرکھیں گے، کھرے کھوٹے کا فرق ظاہر نہیں ہو گا، ظاہر ہے کہ یہ کام وہی فنکار انجام دے سکتا ہے جو ادب کو دل کا مشغلہ نہیں بلکہ دماغ کی زندگی سے تعبیر کرتا ہے اور ایسے فنکار کے نزدیک نہ صرف اپنے عہد کی اقدار مقدم ہوتی ہیں بلکہ روایتی اقدار بھی، کیونکہ ہر نو زائدہ قدر ماضی میں اپنا ایک تسلسل رکھتی ہے اور اپنی جگہ آئندہ امکانات کے ایک لامتناہی سلسلے کا نقطہء آغاز بنی رہتی ہے“۔

حمایت علی شاعر کا یہ تاریخی شعور ہے جو ان کے فن کی حدت سے وجود میں آتا ہے۔ ان کے اپنے قول کے مطابق ان کے فن شعر میں موضوعاتی اعتبار سے تین باتیں ہیں۔ غم جاناں، غم وطن اور غم کائنات۔ بظاہر یہ تین مختلف موضوعات ہیں لیکن حقیقت میں یہ ایک ہی موضوع جسے زندگی کہیے۔ اس کے تین زاویے ہیں اور یہ سب ایک ہی سماجی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ اس بات کی وضاحت میں ان کی مشہور ثلاثی کی مثال بے محل نہ ہو گی۔ ع:

یہ ایک پتھر جو راستے میں پڑا ہوا ہے

اسے محبت تراش لے تو یہی صنم ہے

اسے عقیدت نواز دے تو یہی خدا ہے۔

بے شک کہ اس ثلاثی کو غم وطن کی مثال کے طور پر تو پیش نہیں کیا جا سکتا، تاہم یہ مثال ہمیں اردو شاعری کی ایک نئی فارم کی طرف لے آتی ہے۔ نظمیہ روایت جو زینہ زینہ ارتقاء کرتی حمایت علی شاعر تک پہنچتی ہے تو وہ اردو شاعری کو اور اردو ادب کو ایک نئی شکل فراہم کرتے ہیں جسے ثلاثی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ تین مصرعوں میں مکمل نظم ہے۔ ادب کے بہت سے طالب علم خیال کرتے ہیں کہ ثلاثی کی بنیاد میں جاپان کی ہائیکو ہے اور حمایت علی شاعر نے ثلاثی کے تعارف میں پنجابی کے ”ماہیے“ کی بات بھی کی ہے۔ یہ ساری باتیں درست ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حمایت علی شاعر نے ثلاثی کی شکل میں شاعری کو رباعی کی جکڑ بندیوں سے آزاد کرنے کی سعی کی ہے اور اردو زبان میں اس صنف کا یہ پہلا کامیاب تجربہ ہے۔

” ثلاثی“ کا تعلق جتنا جاپان سے ہے اتنا ہی پنجاب سے بھی ہے مگر اس سے یہ تو طے ہوا کہ ادب عالیہ جغرافیائی حد بندیوں سے ماورا ہے اور تو اور اسے زمان و مکاں کی حد بندیوں میں بھی جکڑنا مشکل ہے۔ ثلاثی کے ضمن میں بات کو واپس اپنے موضوع کی طرف لاتے ہیں۔ ہائیکو کے تین مصرعوں میں کل سترہ اجزا ہوتے ہیں جو اس کی ٹیکنیک کی بات ہے۔ ہائیکو اپنی حسیات میں ایک تصویر کشی ہے جو مظاہر فطرت کے تصور کو ایک جذباتی یا روحانی بصیرت عطا کرتی ہے۔ جہاں تک ہم سمجھے ہیں، اردو میں اس نئی صنف ثلاثی میں بحر کی قید نہیں مگر یہ ضروری ہے کہ ثلاثی تصویر کشی کے ساتھ ساتھ موضوعی اعتبار سے بھی بات کو مکمل کرے۔ ع:

الہام۔

کوئی تازہ شعر اے رب جلیل

ذہن کے غارِ حرا میں کب سے ہے

فکر، محو انتظار جبرئیل۔

شاعر کے ذہن کے غار حرا میں رب جلیل کی جانب سے تازہ شعر کی واردات ہماری توجہ پی۔ بی۔ شیلے کے مشہور زمانہ مقالے ”شاعری کا دفاع“ میں بیان کیے گئے ایک اہم نکتے کی طرف مبذول کرواتی ہے کہ شاعری زندگی کی اصلی شبیہ ہے جو ازلی سچائیوں کی نقیب ہے اور الوہی ہے۔ اس میں اخلاقیات کا اسم اعظم محبت کی شکل میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔

بڑی شاعری میں انسان کا ادراک اور الہام جاگ اٹھتا ہے اور اس کے لا شعور میں چھپے ہوئے امکا ن کو اجاگر کرتا ہے۔ ایسی شاعری زمانے کی دھول میں اٹے ہونے کے باوجود تاریخ کا پردہ چاک کرتی ہے۔ ان کی نظم ”ہارون کی آواز“ اس سلسلے کی ایک اہم نظم ہے۔ حوالے کے طور پر آخری حصہ۔ ع:

یوں بھی ہوا۔ دہائی اکائی میں ڈھل گئی

خورشید کے الاؤ ء میں ہر شے پگھل گئی

جب یوں نہ ہو سکا تو یہ تاریخ ہے گواہ

اٹھے عصا بدست، غلامان کج کلاہ

زیر زمیں کشادہ ہوئی زندگی کی راہ

اور کچھ نہ کر سکی، کسی فرعون کی سپاہ

ہر موج نیل، سانپ سی بل کھا کے رہ گئی

اہرام کی نگاہ بھی پتھرا کے رہ گئی

اضداد کی یہ جنگ، اصول قدیم ہے

اور اب کہ آدمی کی اکائی دو نیم ہے

افلاک تلے سہی، مٹی عظیم ہے

ہارون کی زبان بھی، لوح کلیم ہے

حد سے گزر نہ جائیں کہیں کمترین لوگ

موسیٰ کے انتظار میں ہیں بے زمین لوگ

انسان کی معاشی اور معاشرتی تاریخ جنگ و جدل کی پیہم ستیزہ کاری ہے۔ اس کے باوجود انسان کی جبلت میں زندہ رہنے کی اشد خواہش ہے اور راگ، رنگ اور موسیقی سے لگاؤ اس کی دلیل ہے۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ راگ، رنگ، موسیقی اور ادب عالیہ نفسیاتی اور معاشرتی ردعمل ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان نے اپنی اخلاقیات کے تمام اصول و قوانین محبت کی تختی پر لکھے ہیں۔ انسان جب کبھی اپنے معاشرتی رخ پر محبت سے نظر کرتا ہے تو وہ خود ہی اپنے آپ کا آئینہ بن جاتا ہے اور یوں آئینے کے سامنے انسان اپنے اصلی چہرے کے ساتھ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ آپ اسے ”انٹرو سپکشن“ یا خود بینی بھی کہہ سکتے ہیں۔ نظم آئینہ در آئینہ۔ ع:

اس بار وہ ملا تو عجب اس کا رنگ تھا

الفاظ میں ترنگ نہ لہجہ دبنگ تھا

اک سوچ تھی کہ بکھری ہوئی خال و خط میں تھی

اک درد تھا کہ جس کا شہید انگ انگ تھا

اک آگ تھی کہ راکھ میں پوشیدہ تھی کہیں

اک جسم تھا کہ روح سے مصروف جنگ تھا

میں نے کہا کہ یار تمہیں کیا ہوا ہے یہ

اس نے کہا کہ عمر رواں کی عطا ہے یہ

میں نے کہا کہ عمر رواں تو سبھی کی ہے

اس نے کہا کہ فکر و نظر کی سزا ہے یہ

میں نے کہا کہ سوچتا رہتا تو میں بھی ہوں

اس نے کہا کہ آئینہ رکھا ہوا ہے یہ

دیکھا تو میرا اپنا ہی عکس جلی تھا وہ

وہ شخص میں تھا اور حمایت علی تھا وہ

حمایت علی شاعر کی اس نظم کے روح خیال کے لئے ہم نے خود بینی کا لفظ استعمال کیا ہے۔ شاید خود شناسی اس سے بھی زیادہ موزوں لفظ ہو یا شاید دونوں الفاظ ہی مناسب ہوں۔ مگر بات یہ ہے کہ قرآن میں فطرت انسانی کے لئے ”احسن تقویم“ کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ نوع انسان کی تقویم کے اس ”احسن“ مقام تک پہنچنا خود شناسی اور خود بینی کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ بات جتنی انفرادی طور پر درست ہے، مجموعی اور معاشرتی سطح پر بھی اتنی ہی درست ہے۔ حمایت علی شاعر کی نظم آئینہ در آئینہ کے تناظر میں۔ ”میں اور وہ“ کا ڈائیلاگ ہمارے عہد کے انسان کا اور ایک عہد کا آئینہ ہے۔ حمایت علی شاعر، شاعری کا ایک عہد تھے اور وہ اپنے عہد کا ایک آئینہ تھے۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •