مولانا کی پھونک اور گلابی پھونک
سن گلاسز کی مدد سے آ پ لوگوں کو بآسانی ٹکٹکی باندھ کر دیکھ سکتے ہیں اور ان کو پتہ بھی نہیں لگتا بالکل فیس بک کی طرح۔
اس کا مطلب سن گلاسز حقیقی زندگی کے فیس بک ہیں۔
ویسے شٹل کاک برقعہ سے بھی یہی کام بخوبی لیا جا سکتا ہے۔ جن حضرات کو ٹکٹکی باندھنے کی اتنی عادت ہوتی ہے کہ انہیں ٹکٹکی پر چڑھانے کا دل کرتا ہے وہ شٹل کاک برقعہ پہن کر یہ شوق پورا کرسکتے ہیں۔ ابھی کل پرسوں ایک خبر نظر سے گزری کہ ایک نو عمر لڑکا برقعہ پہن کر خواتین کی محفل میں موجود تھا کہ دھر لیا گیا۔ اب ملک میں پہلے ہی دھرنا دینے والے اتنے مستعد ہیں کہ ان کو دھرنے والے بھی موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ دھرنا دینے والے چاہتے ہیں کہ وزیراعظم استعفیٰ دھر دیں لیکن انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ جو بندہ چائے کے ساتھ بسکٹ نہ دھرتا ہو وہ استعفیٰ کیسے دھر سکتا ہے۔
ویسے بھی اب تو پلان بی کی باتیں ہورہی ہیں۔ یہ پلان بی ہمیں تو انڈے کی کوئی قسم لگتا ہے۔ جیسے گھر میں دال سبزی پکنے پر سب منہ بسورے گھوم رہے ہوں تو خاتون خانہ جھٹ پلان بی سوری انڈا تل دیتی ہیں اور بسورتی شکل پر پلان بی سوری انڈے کو دیکھ کر رونق آ جاتی یے۔ تو دیکھتے ہیں کہ سیاسی پلان بی کس بسورتی شکل پر مسکراہٹ لانے کا سبب بنتا یے۔
ایک کارٹون بھی بہت مقبول ہو رہا ہے۔ آ پ نے بھی دیکھا ہو گا مولانا صاحب ایک سیڑھی پر چڑھے دیوار کے دوسری جانب بغیر سن گلاسز پہنے ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے ہیں اور سیڑھی کا زیریں حصہ ”ن“ نکال کے لے جاتی ہے۔ مولانا صاحب ٹکٹکی پر چڑھ گئے اور ”ن“ یہ جا وہ جا۔
سیاسی لیڈروں کی پلیٹیں کم ہو جائیں تو بھی اچھی خاصی بھگدڑ مچ جاتی ہے حالانکہ سیاسی لیڈروں کو پلیٹوں سے زیادہ چمچوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب پلیٹوں کی رپورٹ تو روزانہ آ تی ہے کہ آ ج اتنی مزید کم ہو گئیں۔ چمچوں کی رپورٹ کسی نیوز چینل پر نہیں آ رہی۔ اصل میں سچ پوچھیں تو جب لیڈر پر برا وقت آ تا ہے تو چمچے بھی خودبخود غالب ہونے لگتے ہیں۔ قومی ائر لائن کے زوال کا بھی ایک بڑا سبب چمچے غائب ہونا یے۔ مسافروں نے سرونگ والے چمچے پار کیے اور دوسری جانب اوپر سے نیچے تک جس سے ممکن ہوا اس نے اپنے سیاسی چمچے ائر لائن کے انتظامی امور چلانے کے لئے بے جا استعمال کیے اور ان چمچوں نے ائر لائن کو مفت کا حلوہ سمجھ کر چمچے سے کھانا شروع کر دیا۔ اب سنا ہے کہ پڑوسی عرب ملک کی ائر لائن نے مل کر کام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ بہتری کی امید رکھنی چاہیے۔
بس ملک میں جہاں جہاں سدھار کی ضرورت ہے وہاں ایک گلابی پھونک کی ضرورت ہے۔ جب ایک سدا کا آزادی پسند انسان امریکہ میں اقوام متحدہ میں زوردار تقریر کر کے سب کے دل ایک بار پھر جیت سکتا ہے۔ وطن آ مد پر ائر پورٹ پر ہی گلابی پھونک والی کا ساری دنیا کے سامنے اظہار تشکر کرسکتا ہے۔ گھر پہنچنے کا بھی انتظار نہیں کرتا تو مانو پھونک میں بہت اثر ہے۔
ہماری ایکسپورٹ میں ایک نیا آ ئٹم ”پھونک“ بھی متعارف کروایا جاسکتا ہے۔ ایک بوتل میں پھونک مار کر اس کو ائر ٹائٹ کر دیا جائے اور پھر حسب ضرورت ایکسپورٹ کر دیا جائے۔
کہاں ٹکٹکی لگانے سے بات شروع ہوئی اور پھونک تک پہنچ گئی۔ کیا کریں جب کچھ بس میں نہ رہے تو بس پھونکیں ہی بچتی ہیں۔ آ ئیں مل کر پھونک ماریں۔ ہم بھی کوئی ایسے گئے گزرے نہیں کہ ہماری پھونک رائیگاں جائے۔
اور کچھ نہیں تو غباروں میں پھونک بھر کے دھرنے والوں کے حوالے کر دیں۔ جھولے جھول جھول کر بور ہو گئے ہوں گے۔ کچھ دیر غباروں سے بھی کھیل کر دیکھیں۔ غباروں پر کوئی پیغام لکھ کر وزیراعظم ہاؤس کی طرف بھی چھوڑ ا جا سکتا ہے۔ دیکھتے ہیں مولانا کی پھونک میں اثر ہے یا گلابی پھونک میں۔


