دو بستر اور ایک چادر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نومبر کی ابتدائی راتیں اپنے جوبن پر تھیں۔ عاشر رات کے اس پہر میں اپنے کمرے میں کھڑکی کے راستے داخل ہونے والی مدھم چاندنی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ چاند کو پہروں تکتے رہنا اور اس کی ٹھنڈک کو اپنے وجود میں اتارنا اس کا مشغلہ تھا۔ سردیوں کی راتیں اس کا اور چاندنی کا ساتھ بھی اکثر چھین لیتی تھیں۔ وہ بادلوں کی اوٹ میں چھپے چاند کی چاندنی کو دیر رات تک کھوجتا رہتا اور پھر اداس ہو جاتا۔ یہ راتیں اسے سالوں سے بے چین ہی تو کرتی آئی تھیں۔

رات اپنے آخری پہر میں دبے پاؤں داخل ہوچکی تھی۔ اس کے دل میں عجب بہار کا موسم درآیا تھا۔ ایسا نہ تھا کہ محبتوں کے سنہری رنگ اس پر زندگی میں پہلی بار عیاں ہوئے تھے مگر عمر کے اس حصے میں اس محبت میں لطف اور لذت کی شدت اب کے قدرے منفرد تھی۔ محبت جب جنس کی قید سے آزاد ہو جائے تو یوں ہی خمار بخشتی ہے۔ وہ اپنی زندگی میں یہی شدتیں تو محسوس کرنا چاہتا تھا۔ اس کے محبوب نے اس کی اس کمی کو بھی چپکے سے پورا کر دیا تھا۔

وصال یار کے لمحات اس کی آنکھوں میں تسخیر ہو چکے تھے۔ وہ ان رنگوں کو وہ صرف اپنے حصار میں قید کرنا چاہتا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ یہ سترنگی محبت اس کے کمرے میں موجود کسی بے جان چیز پر بھی عیاں ہو کر اس کی آنکھوں میں موجود محبوب کے چہرے کو کھو ج کر اسے بے پردہ کردیں۔ اس نے پاس پڑی گرم چادر کو سر سے پاؤں تک اوڑھ لیا۔ وہ محبت کے رنگوں سے خود کو بھیگتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ یہ چادر بھی کیا زبردست شے ہے۔

کبھی یہ مردہ کیفیات کے لیے کفن کا روپ دھار لیتی ہے۔ تمام آہوں سسکیوں اور درد کو اپنی اوٹ میں چھپا کر رازداں کی شکل اختیار کر لیتی ہے، اور کبھی بندگی کے اظہار کے لئے احرام کی صورت میں بدن پر تن کر اس میں سے غرور، بغض، اور کینہ پروری کو نکال کر باہر لا پھینکتی ہیں۔ مگر آج یہ چادر جو اس نے اوڑھ لی تھی یہ تو محبوب کو اپنے اوپر طاری کرنے، جذبات کی حدت کو محسوس کرنے کے لئے اوڑھی گئی تھی۔

وہ ادب کی دنیا سے تعلق رکھنے والا ایک روایتی مگر حساس مرد تھا۔ اس کی اپنی ہی ایک تخیلاتی دنیا آباد تھی، جس میں وہ چند دن پہلے تک ہر لحاظ سے پر سکون اور مطمئن تھا۔ سب کچھ تو تھا اس کی زندگی میں محض لطف یار کے احساس کی کمی تھی، اور اب یہ کمی دور ہونے کے بعد اسے احساس ہوا تھا کہ یہ ایک کمی نہیں ایک بہت بڑا خلا تھا جس نے اس کی کرچیوں کو سمیٹ کر اس کے وجود پر محبتوں کے عطر کا چھڑکاؤ کرکے، وفاؤں اور خلوص کے پکے رنگوں کو اس کے اندر گھول کر اس خاکی جسم کی تشکیل نو کی تھی۔

دوسری طرف اس کی محبوبہ خیالوں کی دنیا میں رہنے والی ایک افسانوی لڑکی تھی دونوں کے رہن سہن اور زندگی گزارنے کے تمام پیمانوں میں ہر لحاظ سے واضح فرق تھا، صرف ایک چیز ادبی سرگرمیوں سے تعلق ان کو آپس میں باندھنے کا موجب بنی تھی۔ جو تعلق کے قائم ہونے کے چند دنوں بعد ہی ثانوی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔

وہ بھی تو عاشر کی طرح رات 10 بجنے کی ہی منتظر تھی۔ اس نے کبھی محبت کا دعویٰ نہ کیا تھا مگر سچے جذبات کو عزت دینے کے ہنر سے بخوبی واقف تھی۔ چاہے جانے کا نشہ کیسے روم روم میں اتر کر روح کو جھومنے پر مجبور کرتا ہے اس راز سے پردہ اس تعلق کے بننے کے بعد ہی تو اٹھا تھا۔ وہ محض اس کا عاشق ہی نہیں اس کا محسن بھی توتھا۔ جس سے تعلق کے محض چند دن بعد سے ہی اس کے دل کا جہان بھی آباد ہو گیا تھا دل کی یہ اجاڑ دنیا جو اس پر کبھی مہربان نہ ہوئی تھی اس کی تمام گتھیاں سلجھانے میں مصروف تھی

دس بجنے میں صرف چند لمحے ہی باقی تھے اور یہ ساعت قیامت بن کر دونوں وجودوں پر اتر رہی تھی۔ عاشر نے مچلتی دھڑکنوں اور بے ترتیب سانسوں کی موجودگی میں اس کا نمبر ملایا تھا۔

عاشر کا نام سکرین پر جگمگا رہا تھا عائشہ کو اپنی سانس ڈوبتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ کوئی بھی اس کے چہرے کے تاثرات جان کر اس کے دل کی حالت کا پتا بتا سکتا تھا مگر وہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان تمام جذبات کو عاشر پر عیاں کرنے سے گریز کر رہی تھی۔

وہ تڑپنے اور تڑپانے کے ہنر سے بھی بخوبی واقف تھی۔ جذبات کی شدتوں کو عروج پر لے جاکر بے چینیوں کا خاتمہ کرنا لذتوں کے دورانیے کو ہمیشہ بڑھا دیتا ہے۔

اب یہ لڑکی فون کیوں نہیں اٹھا رہی۔ عاشر کو شدید کوفت ہو رہی تھی۔ فون اٹھا لیا گیا تھا۔

عائشہ :ہیلو

عاشر :تم نے کال اتنی دیر سے کیوں اٹھائی؟

عائشہ :تمہارا نام دیکھ کر مجھ پر سرور طاری ہو رہا تھا

عاشر :اگر یہ سچ ہے تو تم ایک بار محبت کا اقرار کیوں نہیں کر لیتیں۔ کون سی غیبی قوتیں تم پر اثرانداز ہونے کے بعد ہر بار محبتوں کے جذبات کو بھڑکانے کے بجائے میرے روح کو سلگانے کے کام میں لگ جاتی ہیں۔ میری روح کو تپتے صحرا پر ننگے پیر رقص کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

عائشہ :محبتوں کا اقرار ہمیشہ تجسس کا خاتمہ کرتا آیا ہے میں اس تعلق میں سے تجسس کو ختم کرکے اس تعلق کی موت نہیں چاہتی تمہیں کھونا نہیں چاہتی

عاشر :ہاں تم مجھے کھو دینے سے ڈرتے ہوئے بھی مجھ سے محبت کے اقرار سے خوفزدہ ہو۔

عائشہ :عورت کا مرد سے خوف زدہ ہونا ایک فطری بات ہے

عاشر: مگر عاشق سے خوف زدہ ہونا اس کی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔

عائشہ :محبت کی شدتیں ہی تو عورت کو خوفزدہ کرتی ہیں۔

عاشر :تو کیا عورت یہ شدتیں نہیں چاہتی ہے؟

عائشہ :وہ چاہ، خواہش اور طلب کے باوجود ان سب سے خوفزدہ ہوجاتی ہے

عاشر: مگر اس سب کے پیچھے کوئی تو وجہ ہوگی؟

عائشہ :یقیناً وجہ ہے اور بہت گہری وجہ ہے

عورت محبت کو پا لینے سے پہلے ہی اس کے کھو دینے کے خوف میں مبتلا ہو جاتی ہے۔

عاشر: تو کیا وہ اس محبت کو خود پر طاری نہیں کرنا چاہتی؟

عائشہ :وہ عاشق کے محبت کے اظہار سے پہلے ہی اس کو خود پر طاری کر کے اس سحر میں جکڑی ہوتی ہے۔ عورت کی چھٹی حس بہت تیز ہے عاشر۔ مگر مرد شاید اس بات سے نا آشنا ہے اس لئے وہ محبتوں کے اظہار کے لیے الفاظ کا سہارا لیتا ہے، حالانکہ روحوں کے تعلق الفاظ کے محتاج نہیں ہوتے۔ روح کہاں یہ دنیاوی زبان سمجھتی ہے۔ وہ صرف کیفیت سمجھنا جانتی ہے اسے خود پر طاری کرنا جانتی ہے۔

عاشر :اگر یہ یوں ممکن ہے تو میں تمہارے وجود پر خود کو طاری ہوتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔

عائشہ :تم اپنی محبت کو چیلنج کر رہے ہو یا میرا امتحان لے رہے ہو

عاشر: میں تو محض تمہاری بات کی تصدیق چاہ رہا ہوں

عائشہ :میرے وجود کا تم پر طاری ہونا مجھ سے زیادہ تمہارا نقصان کرے گا

عاشر: محبت کرنے والے نفع نقصان بالائے طاق رکھ کر ہی اس آگ میں کودتے ہیں۔ سوچ سمجھ کر تو ہمیشہ کاروبار کیے جاتے ہیں۔

عائشہ :جانتی ہو ں تم لفظوں سے کھیلنے کے ہنر سے بخوبی واقف ہو

عاشر :میں محبت کرنے کے ہنر سے بھی واقف ہوں تم ایک بار میرا اعتبار تو کر کے دیکھو۔

عائشہ :چلو پھر جادوئی کھیل کا آغاز کرتے ہیں تم اپنی آنکھیں بند کرکے مجھے محسوس کرو۔

عاشر: ہاں میں تمہیں محسوس کر رہا ہوں۔

عائشہ :میری آنکھوں میں جھانکوں اور دیکھو تمہیں ان میں اس وقت کیا نظر آ رہا ہے

عاشر:خمار

عائشہ :مجھے اپنے اتنا قریب کرو کہ تمہارے وجود کی گرمی سے میرا جسم جل اٹھے اور اب دیکھو میری آنکھوں میں

عاشر: طلب، نشہ اور بے قراری اپنے جوبن پر تمہاری آنکھوں میں ناچ رہے ہیں۔

عائشہ :تمہیں ان میں وحشت کیوں نظر نہیں آرہی۔

عاشر: پاگل لڑکی وحشتیں وصال لمحوں کے لوازمات کا حصہ نہیں ہیں

عائشہ :تو پھر دیکھ لو۔ ۔ میں بغیر تمہارے لمس کو جسم پر اتارے محض تمہاری سماعت کے رستے تمہارے وجود پر اپنی حکومت قائم کرچکی ہوں۔ وصل کے یہ پاک لمحے جنس کی قید سے آزاد ہیں۔ تم جادو اور کس کو کہتے ہو؟

عاشر :جادو تو یہ ہے میں تمہارا بالوں میں اپنی انگلیوں کی پوروں سے قطرہ قطرہ سکون اتار رہا ہوں

عائشہ : اور یہ احساس بھی جنسی غلاظت سے پاک ہے۔

عاشر: اور مجھے اس محبت سے مزید اور کچھ نہیں چاہیے

عائشہ :بس یہی میری جیت ہے یہ کال تاحیات منقطع نہ ہوسکے گی۔ خوشی کی انتہاؤں پر، اداسی اور غموں کی ترپا دینے والی حالت میں یہ کال ہم دونوں پر طاری ہو کر، ہمیں اپنی چاہ کی زندگی گزارنے کی سہولت مہیا کرے گی۔

میں اب فون رکھنے لگی ہوں۔

عاشر مسکرا کر کال بند کر دیتا ہے

وہی چادر، وہی تنہائی اور وہی کال دونوں کمروں میں جھوم رہی ہے۔ دو الگ دنیاؤں سے تعلق رکھنے والی عالم ارواح میں بچھڑی ہوئی ساتھی روحوں کا ملن معجزہ نہیں تو اور کیا ہے۔ سر سے پیر تک لپٹی ہوئی دومختلف بستروں پر جسموں پر تنی چادریں، جذبات کی کیفیاتی حدت اور بے خودی کی انتہا کو جاننے کے بعد محب کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔

یہ دیوانگی چادر کے رستے منافقتوں اور بناوٹ کے غلیظ رنگوں سے پاک، خاکی جسموں کے ساتھ لپٹ کر انمول ہو کر اس محبت کو حیات بخش دیتی ہے

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •