بادشاہ کون؟
چوتھی بار کا ذکر ہے کہ ایک جنگل تھا جس میں سب جانور انسانوں کی طرح رہتے تھے۔ جانوروں کے رہن سہن میں تبدیلی آچکی تھی۔ کئی بار تو ایسا ہوا کہ جنگل کی طرف آنے والے انسان بھی جانوروں کو دیکھ کر حیران ہوتے تھے۔ جو جانور ”شہر“ کا ایک چکر لگا آتے ان کے تو انداز ہی بدل جاتے۔ وہ شہر واپسی کے بعد بالکل ایسے ہو جاتے جیسے کسی تیسرے ملک کا شہری امریکہ سے واپسی پر تبدیل ہوتا ہے۔ کچھ نر جانور شہر جاتے تو اپنی ماداؤں کے لئے منی اسکرٹ لانا نہ بھولتے۔
لومڑی نے لومڑ سے فرنچ کٹ کی درخواست کر رکھی تھی۔ جبکہ شیرنی روز شیر کو کلین شیو کا مشورہ دیتی۔ ہرنی اپنی غزال آنکھوں کو آئی لائنر سے مزید نمایاں کرتی۔ بندر شہر جاتا تو بندریا کے لئے جینز اور ٹی شرٹ لانا نہ بھولتا۔ جب بندریا جینز پر ڈیپ گلے کے ساتھ سلیولس پہنتی تو بندر کی اماں جان شرم سے پانی پانی ہوجاتی۔ اور بندریا اک ادا سے کہتی یہ تو فیشن ہے۔ سب جانور انسانوں کی طرح رہتے تھے تو یہ لڑتے بھی انسانوں ہی کی طرح تھے۔
دن بھر لڑتے اور رات کو سب مل کر رقص و سرود کی محفل جماتے۔ جس میں ہرنی کا ڈانس ہوتا تو مورکا رقص۔ شیر کی بانہوں میں بلی جھولتی اور چیتے کے پہلو میں شیرنی ہوتی۔ کوئلیں کوکتیں بلبلیں چہچہاتیں، چمگادڑیں خوش تھیں تو الو نہال۔ دن بھر لڑنے والے رات کو ایک ہی حرم میں بلا تفریق اکٹھے ہوتے جام سے جام ٹکراتے اور پھر سحر کے قریب سب تھک ہار کر سو جاتے۔ جنگل میں الیکشن کا زمانہ تھا۔ صدیوں سے شیر کی حکمرانی تھی لیکن زمانہ بدل چکا تھا اگر زمانہ بدلا تھا تو اس کے اثرات جنگل میں بھی ظاہر ہوتے تھے۔
شیر اب کی بار ہار گیا۔ جنگل میں غیر معمولی تبدیلی آئی۔ لگڑبگا جیتا نہ چیتا۔ حکمرانی کے لئے کسی شُتر بے مہار کو چُن لیا گیا۔ ان سب کو اگر کسی پر اعتراض تھا تو وہ گدھے تھے۔ سب جانوروں کا خیال تھا کہ گدھے کم عقل اور ڈھیٹ ہونے کی بنا پر جنگل کا ماحول خراب کر رہے ہیں اور ڈھینچوں ڈھینچوں کی آواز سے جنگل کا امن بھی متاثر ہوتا ہے سو سب جانوروں نے مل کر فیصلہ کیا اور گدھوں کو جنگل بدر کر دیا۔ اور انھیں شہری آبادی میں دھکیل دیا انسانوں نے گدھوں کو خوش آمدید کہا۔
پچھلے کچھ عرصہ سے گدھے کے گوشت بکنے کی جو بازگشت سنائی دی تھی وہ اسی وجہ سے تھی۔ ہمیں بہت بعد میں پتہ چلا اس کی وجہ گدھوں کی فراوانی تھی کہ حضرتِ انسان نے اپنی عقل کا استعمال کر کے ان سے فائدہ اٹھایا۔ گدھوں کو پکڑکر ذبح کیا جاتا، گوشت الگ بک جاتا اور کھال الگ۔ منافع بخش کاروبار تھا اگر ”مل جل“ کر اتفاقِ رائے سے کام ہوتا تو سب خوش رہتے۔ اس میں نقصان کسی کا نہیں تھا بالخصوص ہماری خواتین کو زیادہ فائدہ تھا کہ ان گدھوں کی وجہ سے بہت سوں کے گھر آباد ہوئے۔
کیا ہے کہ لیلیٰ کے کالے ہونے کی مثالیں بہت پرانی ہو چکیں آج کا مجنوں لیلیٰ گوری ہی پسند کرتا ہے۔ سو لیلیٰ کے نخروں کے لئے گدھوں کی قربانی جائز ہے اور اس کے لئے گدھے بہت خوش ہیں کہ ان کی کھال خواتین کے سولہ سنگھار کے کام آتی ہے گدھے جنگل میں اپنی ناقدری کا دکھ بھول کر اترائے اترائے پھرتے۔ ایک خیال آتا ہے اگر موجودہ دور میں گدھے نہ ہوتے تو خواتین کا کیا ہوتا؟ اس کے لئے ہمیں گدھوں کا شکر گزار ہونا چاہیے جنھوں نے خواتین کی عظیم خدمت کی۔
ہم ان کے گوشت سے بھی مستفید ہو رہے تھے کہ گذشتہ حکومت نے ان پر پابندی لگا دی خدشہ تھا کہ اس سے عوام گدھوں جیسی عادات اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں یہ کہنا کہ عوا م گدھوں کا گوشت کھا کر خود گدھے بنتے جا رہے ہیں یقیناً گدھوں کے ساتھ زیادتی تھی کہ گدھے ہم سے تھوڑے دانا ضرور ہوتے ہوں گے۔ دوسرا گدھے انسانیت کی خدمت کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ حکومت نے گدھوں کی بقاء کے لئے ان کی ”چمڑی“ بکنے پر پابندی لگا دی یوں ہم نے گدھوں کو تحفظ دے کر کئی گدھوں کو خود پر مسلط بھی کر لیا۔
یہاں تک کہ گدھوں کے تحفظ کے لئے بھینسوں کو بیچ دیا لیکن گدھے محفوظ رکھے۔ گو کہ گدھوں کو خود پر مسلط کرنے کا چلن ہمارے ہاں بہت پرانا ہے۔ یوں تو گدھوں اور گدھوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے یا یوں کہہ لیں ہم گدھوں کے بغیر نہیں رہ سکتے اور گدھے ہمارے بغیر۔ اب کی بار گدھوں اور انسانوں میں سرد جنگ جاری ہے اور دونوں اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ وہ بادشا ہے۔ معاملہ جنگل کی عدالت میں چلا گیا کہ فیصلہ کیا جائے کہ ہم دونوں میں بادشاہ کون؟ عدالت نے فیصلہ کیا جو دانا ہوگا وہ بادشاہ ہوگا۔ تو اب دونوں روز لڑتے ہیں کہ ہم دونوں میں دانا کون؟


