موجودہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں جسے کوئی کام نہ ہو، وہ دوسروں کو مشورے دیا کرے۔ آج کل میں فرصت سے تھا، تو مشورہ مفت کا کلینک کھول لیا (خدارا اسے ’کلنک‘ پڑھنے سے احتراز کیجیے گا)۔ ارادہ یہ تھا، کہ میرے مشورے اگر کارگر ثابت ہوئے لگے، تو مستقبل میں مشورے کی فیس بھی رکھوں گا۔ فی الحال کمپنی کی مشہوری کے واسطے فی سبیل اللہ مشورے دیتا ہوں۔ کسی دانا کا قول ہے، مفت کی بیماری بھی ملے تو لوگ انکار نہیں کرتے۔ اگر کسی دانا نے ایسا نہیں کا، تو آپ اس قول کا میرا ہی جانیے۔ گزشتہ ہفتے مشورہ کلینک کی جھاڑ‌ پونچھ ہی کر رہا تھا، تو کچھ پراصرار بندے (پلیز ’’پراسرار‘‘ نہ پڑھیے گا) مشورے کے لیے تشریف لے آئے۔ وہ چاہتے تھے، میں انھیں ایسا تیر بہ ہدف مشورہ دوں، جس مشورے کی روشنی میں وہ کوئی ایسا اقدام لیں، تا کہ موجودہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا جا سکے۔ پہلے ہی دن اتنا آسان کیس ہاتھ آئے تو کون ہے جو خوشی سے پاگل نہ ہو جائے۔ میں بھی ہو گیا تھا۔

میں جانتا ہوں، آپ میں سے بہت سوچ رہے ہوں گے کہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا جانا اتنا آسان کیسے ہے کہ میں خوشی سے یا خوشی خوشی پاگل ہو گیا۔ عوام کی تعلیم کے لیے یہاں ایک بھی ایک مفت مشورہ دیتا چلوں۔ جب آپ کسی کو مشورہ دینے لگیں تو ہمیشہ تاریخ سے رہ نمائی لیں۔ تاریخ سے مراد ’ڈیٹ‘ نہیں ہے، بل کہ وہ تاریخ ہے، جیسا کہ چنگیز خان کی تاریخ، میسور کے ٹیپو سلطان کی تاریخ، صلاح الدین ایوبی کی تاریخ، مغلوں کی تاریخ، سندھ کی تاریخ، پاکستانی عدالتوں کی تاریخ، پاکستان کی تاریخ۔ بس یہیں ٹھیر جائیے، چوں کہ مشورہ پاکستان سے متعلق ہے، تو باقی تاریخ کو چھوڑ‌ کے پاکستان کی تاریخ ہی کو مد نظر رکھتے ہیں۔

تاریخ کے سیکڑوں پنے کیا پھرولنے، ایک دو سال پہلے کے، یا چند برس پرانے اخبار ہی دیکھ لیں، کہ ہماری تاریخ کیسی شان دار رہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ ایسی روشن ہے، کہ یہاں وزیر اعظم بھی غلطی کرے، تو کٹہرے میں ہوتا ہے۔ عدالتوں سے خواہ کوئی عامی سولہ سولہ سال بعد انصاف پائے، جب کہ اسے فوت ہوئے بھی عرصہ بیت گیا ہو، لیکن وزیر اعظم کو پل میں سولی چڑھایا جا سکتا ہے۔ آپ کو یاد ہو کہ نہیں، ایک وزیر اعظم کو عدالت کے حکم پر خط نہ لکھنے کی پاداش میں علامتی طور پر پچیس سیکنڈ کی سزا دی گئی تھی! یوں وہ خط جس کے لکھنے نہ لکھنے سے رتی بھر فرق نہ پڑتا، اس کے نہ لکھے جانے پر عوام کے ووٹوں سے منتخب وزیر اعظم کو نا اہل قرار دے دیا گیا۔ اتنا ہی نہیں آیندہ دو سالوں تک وہ نا اہل، الیکشن میں حصہ لینے کا اہل بھی نہ رہا۔

پاکستان ہی کی تاریخ سے دوسری مثال لیجیے، کہ اس فیصلے کی گونج ابھی تک مدھم نہیں ہوئی۔ ’پاناما‘ نامی اس مشہور مقدمے میں ایک اور وزیر اعظم کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا گیا۔ وزیر اعظم کے ’پاجامہ‘ سے کچھ نہ بر آمد ہو سکا، تو اُن کے کھیسے سے (جیب سے) ’اقامہ‘ نکال دکھایا۔ جب تقدیر فیصلہ کر لے، تو وزیر اعظم کی نا اہلیت کا ذمہ کسی عاصی کے شانے پر کیوں کر ہونے لگا! ذہن نشین رہے، تاریخ کے فیصلوں پر بحث نہیں ہو سکتی، تاریخ بس تاریخ ہوتی ہے، اگر یہ عدالت کی ہو، تو رعایا کو تاریخ پر تاریخ مل سکتی ہے، تا کہ وہ بتا سکے کہ اس کی تاریخ مختصر نہیں، بہت طویل ہے۔

پاناما کہ جس کا نام اس دور میں ہر ’اینکر‘ کے لبوں پر تھا، کہا جاتا رہا، کہ جونھی ’بڑے‘ کو سزا ملی، پاناما لیکس میں آئے تمام پاکستانیوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے گا۔ کیوں کہ یہ ’بڑا‘ ہی انصاف کی راہ میں‌ رکاوٹ ہے، تو اسے عبرت کا نشان بنا دیا جائے۔ ماضی قریب کی اس تاریخ کا سرسری سا مطالعہ کریں، تو معلوم ہوتا ہے، وزیر اعظم کیا نا اہل ہوا، جیسے سب کے لبوں پر مہریں لگ گئی ہوں، کہ خبردار اب جو پاناما کا نام بھی لیا۔ آج کوئی نہیں پوچھتا، پاناما لیکس میں شامل چار سو کے لگ بھگ باقی ملزموں کے ٹرائل کا کیا ہوا۔ اسے تاریخ کا المیہ کہیں گے، یا حالات کا جبر، یہ کوئی تاریخ دان ہی بتا سکے گا، ہم تو مشورہ مفت والے ہیں۔

ان دو مثالوں ہی پر اکتفا کرتے میں نے ُپر اصراروں‘ کو (آپ ’پراسرار‘ پڑھنا چاہیں تو مجھے اعتراض نہیں) مشورہ دیا، کہ موجودہ وزیر اعظم کو کیسے نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ آپ کہیں گے، موجودہ وزیر اعظم کا نام تو پاناما لیکس میں نہیں! تو سابق کا نام پاناما لیکس میں کب تھا؟ لیکن چھوڑیے اس بحث کو، موجودہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دینے کے لیے میرے ذہن میں جو تاریخ تھی، وہ 19 اکتوبر 2012 کی نکلی۔ اس تاریخ کو اصغر خان کیس کا فیصلہ آیا تھا۔ عدالت نے ہدایت دی، کہ سیاست دانوں میں بطور رشوت رقم بانٹ کر آئی جے آئی بنانے کا اعتراف کرنے والے عزت مآب جنرل رٹائرڈ اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق چیف اسد دُرانی کا کورٹ مارشل کیا جائے، کیوں کی ملزمان نے عدالت کے رو برو اپنا جرم تسلیم کر لیا ہے۔ ساتھ ہی ان سیاست دانوں کو رقم دیے جانے کی تحقیق بھی کی جائے، تا کہ مجرموں کو قرار واقعی سزا دے کر انصاف کا بول بالا کیا جا سکے۔ یہ وہ تاریخی فیصلہ ہے، جس پر ابھی تک پتا نہیں ہل کے دیا۔ اس بیچ میں راجا پرویز شرف، نگران وزیر اعظم، نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، پھر نگران وزیر اعظم، اور اب پانچویں وزیر اعظم عمران ہیں، لیکن مجال ہے کسی مرحلے پر عدالتی فیصلہ پر عمل در آمد ہونے کا مکان بھی دکھائی دیا ہو، بل کہ ایف آئی اے تو کیس داخل دفتر کرنے کی درخواست لیے پھر رہا ہے۔

’’پر اصراروں‘‘ میں سے ایک نے ہونق پن سے پوچھا، ’’تو اب ہم کیا کریں‘‘؟
میں نے چہرے پر دانش وروں کی سی مسکان سجائے جواب دیا، ’’عدالت میں ایک درخواست لے جائیے، کہ وزیر اعظم کو پا بند کیا جائے، وہ اس عدالتی حکم نامے پر عمل در آمد کروائیں، وگرنہ انھیں عدالت کے حکم پر عمل نہ کرنے کی پاداش میں ایک اور سابق وزیر اعظم کی طرح نا اہل کیا جا سکتا ہے‘‘۔
’’اگر وزیر اعظم نے عدالتی حکم پر عمل در آمد کیا تو‘‘؟ دوسرے نے ہونق پن سے سوال کیا۔
’’کوئی وزیر اعظم اس اہل نہیں، کہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھ سکے۔ سو یہ وزیر اعظم بھی ایسا نہیں کر پائیں گے، اور عدالت انھیں نا اہل قرار دے دے گی۔ کیسا‘‘؟

مجھے نہیں معلوم ان ’’پر اصراروں‘‘ نے میرے مشورے پر عمل کرنے کی ٹھانی یا نہیں۔ کیوں کہ ہمارے یہاں مفت مشورے کی وقعت بھی تو نہیں ہوتی، چاہے کتنا ہی عمدہ کیوں نہ ہو۔ ہاں! مجھے آج ہی مشورہ کلینک بند کرنے کا نوٹس موصول ہوا ہے، جس میں لکھا ہے، آپ پہلے ’نادرا‘ سے تصدیق کروا کے بتائیے، کیا آپ پاکستانی شہری بھی رہے ہیں یا نہیں۔ آپ میں سے کوئی ہے جو مجھے مفت مشورہ دے، کہ مجھے اب اپنی پاکستانی شہریت بچانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 291 posts and counting.See all posts by zeffer-imran