آین آر او تو دینا پڑا، اور رسوائی جو ہوئی، سو ہوئی
عمران خان نے وزارت اعظمیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی یہ بات اپنی ہر تقریر و خطاب کا حصہ بنا لی تھی، کہ میں این آر او نہیں دوں گا، میں کوئی بھی ڈیل یا ڈھیل نہیں دوں گا۔ نواز شریف اور آصف زرداری جن کو وہ چور، لٹیرے، ڈاکوؤں جیسے لفظوں سے نوازتا تھا، ان کو عمران خان بالآخر ڈھیل دینے پر آمادھ ہو ہی گئے، یا یوں کہا جائے کہ ان کو جبراً راضی کر لیا گیا۔ جوں ہی عمران خان بڑی کرسی پر برجمان ہوئے، تو نواز شریف اور زرداری کو جیل کی کال کوٹھری میں بھیج دیا گیا۔
اور کپتان کی زبان پر ایک ہی رٹ تھی کہ میں این آر او نہیں دوں گا۔ پھر ہونا کیا تھا، نواز شریف کے جیل میں بیمار ہونے کی خبریں آنی لگیں، جو کہ کپتان کو مذاق لگتی تھیں۔ وہ ان کی بیماری کی خبروں پر کبھی ہنس لیتا تو کبھی کرپشن کا طعنہ دے دیتا، پر ایک بات ضرور دھراتا کہ میں این آر او نہیں دوں گا۔ پھر بقول میڈیا اور مسلم لیگ ن، نواز شریف کی حالت بگڑتی گئی، اور ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہوگئے۔
گردے کے امراض کے علاوہ اس کے خون کے پلیٹیلیٹس کم ہونے لگے۔ پھر تو عمران خان پر دن بہ دن بوجھ پڑتا چلا گیا۔ اس نے اپنے تمام وزراء اور پارٹی رہنماؤں کو تاکید کی کہ نواز شریف کے صحت کے حوالے سے دل آزاری والے بیان دینے سے اجتناب کریں۔ آہستہ آہستہ سے مسلم لیگ ن والے بھی بوجھ بڑھاتے گئے کہ نواز شریف کو اگر کچھ ہوئا، تو ذمے دار موجودہ حکومت ہوگی۔ ان کو سروسز اسپتال میں داخل کیا گیا، اس کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو ان تک رسائی دی گئی۔
پھر بھی عمران خان کا یہ بیان آتا رہا کہ این آر او نہیں دوں گا، کسی کو باہر بھاگنے نہیں دوں گا۔ اپوزیشن لیڈر برائے قومی اسمبلی شہباز شریف کے ہتھکنڈوں اور لکا چھپی کی بھاگ ڈور نے بھی کچھ رنگ دکھایا، اور یہ طے پایا کہ نواز شریف کو بیماری کے سبب ضمانت پر رہائی دی جائے، ساتھ ہی مریم نواز کے لیے بھی یہ ہی درخواست کی گئی۔ عدالت نے بلا تاخیر درخواست سنی، اور صحت کی بنیادوں پہ نواز شریف کو ضمانت دے دی۔ اس پر نواز شریف بضد ہوگئے کہ، ان کی صاحبزادی مریم کو ضمانت ملے گی، تو ہی وہ گھر کو روانہ ہوں گے۔
ادھر کپتان کی ٹیم میں اختلافوں کے باوجود، مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان صاحبہ کو مجبوراً اپنی زبان پر لچک دکھا کہ کہنا پڑا کہ، ہمارا مقابلا بیمار نہیں بلکہ صحتمند نواز شریف کے ساتھ ہے، لہذا وہ چاہیں تو اپنا علاج بیرون ملک سے بھی کروا سکتا ہے۔ ادھر مسلم لیگ ن کو بھی تھوڑا سکھ کی سانس لینے کا موقع ملا، کہ دیر آید درست آید۔ پھر کہا گیا کہ اب باپ بیٹی کو ضمانت تو مل چکی ہے، پر اب یہ غیرملکی سفر کس طرح سے کریں گے؟
تو پھر کسی ڈھیل اور ڈیل کا سہارا لیتے ہوئے اوپر سے حکم صادر ہوئا کہ، نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا جائے جیسے وہ اپنے بہتر علاج کے لیے، برطانیا جا سکے۔ پیر کے دن نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج ہونا تھا، پر عمران خان کو دل سے یہ بات نہ بھائی، اور اس کو برا لگنے لگا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو این آر او دینا پڑ رہا ہے۔ ہائے رے قسمت! وزیراعظم ہو کر بھی اتنا بے اختیار ہوں، جیسا کہ مقبوضہ کشمیر کا باسی ہوں۔
ایئر ایمبولینس تیار کھڑی تھی، سارے انتظامات مکمل کر لیے گئے تھے، پر نام ای سی ایل سے نہ نکلنے پر دن ڈھلتے ہی، مسلم لیگ ن کی طرف سے حکومت پر اور دباوٴ ڈالا گیا، جس کا زیادہ وزن کپتان کو برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔ اور اس نے یہ کہہ کر جان چھڑائی، کہ صبح ہونے دو، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس کا حتمی فیصلہ کروں گا۔ اور پھر منگل کے دن وفاقی کابینہ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط اجازت دے ڈالی، کہا گیا اپنے سیکیورٹی بانڈ جمع کروائیں، پھر جہاں آپ کا دل چاہے اڑان بھریں۔
وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بھی یہ کہہ ڈالا کہ اگر مریم بی بی کو بھی صحت کے مسائل درپیش ہوں تو وہ بھی ملک کے باہر جا سکتی ہے۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی سربراہی میں جب سات ارب کے سیکیورٹی بانڈز جمع کرانے کا بولا، تو دراصل یہ ان کا اپنی بات کو ٹور مڑور کر پیش کرنے کا طریقہ تھا، جیسے سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی محفوظ ہو۔ کیونکہ کوئی بھی سزا یافتہ قیدی یوں ملک چھوڑ کے نہیں جا سکتا، پر نواز شریف کو جن جرائم میں جو جو سزا ملی، سب مشکوک عمل تھا، اسی لیے ان کو باہر جانے کے لیے اجازت دینا پڑی، بھلے وہ مشروط اجازت ہی کیوں نہ ہو۔
یہ سب سننے اور دیکھنے کہ بعد عمران خان اب کس طرح سے بولے گا کہ میں این آر او نہیں دوں گا، جو جنرل پرویز مشرف نے دیا تھا۔ میں چوروں لٹیروں کو نہیں چھوڑوں گا، میں کرپٹ مافیا سے عوام کا بدلا لوں گا۔ اسی لیے سیانے سچ کہتے ہیں، پہلے تولو پھر بولو۔ عمران خان نے اپنے کارکنوں کے طعنوں سے بچنے اور فیس سیونگ کے لیے یہ شرط تو لگا لی کہ میاں صاحب سیکیورٹی بانڈ جمع کرائے پھر روانہ ہوں، پر یہ بات اتنی اہم نہیں تھی، جتنا اس بات میں وزن تھا کہ، عمران خان جن مخالفین کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا تھا، ان کو اب جانے کی اجازت مجبوراً دے رہا ہے۔
ساتھ ہی کتنی درست بات کہی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے، جن کا اپنی وزارت پر دھیان کم کم ہے اور میڈیا پہ آ کر پیش گوئیاں کرنا زیادھ پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔ وہ صاحب کہتے ہیں ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے بیچ پلی بارگین ہوگئی ہے، پہلے نواز شریف جائے گا، اس کے بعد آصف زرداری کو بھی جانے کا پروانا مل ہی جائے گا۔ ساتھ ہی یہ باتیں بھی گردش کر رہی ہیں، مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ جو کہ دھرنے کا چہرا لے چکا تھا، اس کو کرایا ہی اسی لیے گیا تھا کہ، اپوزیشن جماعتوں کو ریلیف مل سکے۔
اور اب جوں ہی ریلیف ملنا شروع ہو رہا ہے تو سمجھو مولانا کا دھرنا کیش ہو چکا اور وہ اپنے کارکنوں سمیت بوریا بستر اٹھا کر اسلام آباد سے کوچ کر چکا ہے۔ بیچارہ عمران خان نادانی کر بیٹھا، اور یہ تک سمجھ نہ پایا، کہ جس طرح سے اسے اقتدار میں لایا گیا ہے، اسی طرح سے وہ مکمل طور پر اقتدار پر قابض کبھی ہو نہ پائے گا۔ اور اس کی یہ غلط فہمی تھی کہ وہ اقتدار میں رہتے اپنی ذاتی دشمنیاں بھی نکالتا رہے گا۔ کچھ عرصے کے لیے اسے لگا بھی کہ اس کی خواہش پوری ہونے جا رہی ہے، پر پاکستانی سیاست میں لین دین نہ ہو، پردے کے پیچھے ڈیل نہ ہو، یہ کبھی ہوا ہی نہیں۔ عمران کی آنکھ اب جا کہ کھلی ہے، جب اس اپنے اس زبان سے مکرنا پڑ رہا ہے، جس پہ وہ اپنے ووٹروں کی دل جیت کر بیٹھا تھا، اور پی ٹی آئی والے سمجھنے لگے تھی کہ ان سابق حکمرانوں سے پیسہ وصول کر کہ عوام کو سستی اشیاء مہیا کی جائیں گی، اور ٹماٹر کبھی سینچری پار کرنے کی جرات نہ کر سکے گا۔


