سائرہ اور مائرہ صرف الحمرا کی چار دیواری میں محفوظ ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیض تہوار میں ڈرامہ شروع ہونے سے ذرا پہلے ہال میں بلھے شاہ کی کافی چینڑاں ایں چھڑیندا یار چل رہی تھی سو ڈرامے سے پہلے ہی ڈرامے کی معنویت پرت در پرت کھلتی چلی گئی اور اس مزاحمتی تھیٹر کے اغراض و مقاصد کا مفہوم بھی واضح ہوتا چلا گیا۔ یہ کافی پٹھانے خان نے گا کر خود کو بھی امر کر دیا اور اس کافی کو بھی مگر اس کافی کا جو مطلب ڈرامہ سائرہ اور مائرہ دیکھنے سے پہلے ہی سمجھ میں آیا اس کی پراسراریت ہی اور تھی۔ شاہد ندیم اگر ابتدائی جملوں میں اجوکا، اس ڈرامے اور مزاحمتی تھیٹر کا تعارف نہ بھی کرواتے تو فرق نہ پڑتا کیونکہ انہوں نے اس ڈرامے کا تعارف بلھے شاہ کی ان لائنیوں کی وساطت سے کروا دیا تھا۔

چینڑاں ایں چھڑیندا یار

چینڑاں ایں چھڑیندا۔

آج کا تھیٹر جس بے سمتی کا شکار ہے وہاں اجوکا کا قائم و دائم رہنا دائمی سچائیوں کا اظہاریہ ہے۔ سائرہ اور مائرہ دو لڑکیوں کی کہانی ہے۔ سائرہ کی کہانی پسند کی طلاق اور مائرہ پسند کی شادی کر کے موت سی زندگی گزارنے پر استوار کی گئی ہے۔ سائرہ کا تعلق پشاور سے اور مائرہ کا تعلق لاہور سے ہے۔ وہ دونوں معاشرے کے جبر کا شکار ہو کر آخرِ کار عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑنے والی سیما جمیل کے ادارے آغوش میں پناہ لیتی ہیں۔

اجوکا مزاحمت کا استعارہ ہے جیسے مدیحہ اس سسٹم کو کہہ رہی ہو

جب تک دنیا تنگ رہے گی

تیری میری جنگ ریے گی

اور مزاحمت کا سفر کہیں اور کبھی نہیں رکتا۔ سائرہ اور مائرہ میں مدیحہ کی روح حلول ہو کر الحمرا کے ہال نمبر دو میں ظاہر ہوئی تو اس کی فکر کی روشنی سے آنکھیں چندھا سی گئیں۔ نہ بچپن کی عادتیں زینتِ طاقِ نسیاں ہوتی ہیں اور نہ لڑکپن کی محبت جان چھوڑتی ہے۔ اجوکا کی فکر سے کون اختلاف کر سکتا ہے یہ ایک تحریک ہے جو ذہن در ذہن سفر کرتی ہے اور ایک الگ قسم کے ذائقے کا رسیا بناتی ہے اور بتاتی ہے کہ جہالت اور جہالت بھری رسموں اور افکار سے معاشرہ کیسے بچ کر آگے بڑھ سکتا ہے۔

اور جو معاشرے فرسودہ نظام میں گلتے سڑتے ہیں وہاں نسلیں کیسے برباد ہوتی ہیں اور ان کا جوہر کیسے مر جاتا ہے۔ اجوکا کی لڑائی فرسودہ نظام اور اس ان رسوم و رواج سے ہے جو جہالت سے جنم لیتی ہیں یعنی لایعنی رسوم کا مقامِ تولد جہالت ہی ہوتا ہے۔ یہ جنگ کسی فرد کے خلاف نہیں اس گلے سڑے نظام سے ہے جس کی زنجیروں میں ہماری عورت بندھی ہوئی ہے۔ اس جنگ میں عدالت کے اندر ڈر نہیں لگتا مگر جو عدالتیں معاشرے نے باہر لگائی گئی ہیں ان سے ڈر لگتا ہے۔ ہنود و یہود ہونے یا نہ کا حکم یہ معاشرہ لگاتا ہے۔

جو عمر بچی کی گڑیوں سے کھیلنے کی ہوتی ہے اس عمر میں انہیں شادی کے جہنم میں جلنے کے لئے چن لیا جاتا ہے۔ یہ ستی کی طرح کی رسمیں ہی صرف اجوکا کا موضوع بن سکتی ہیں اور کس میں ہمت ہے۔ جو تھیٹر کی درگت آج کل بنی ہوئی ہے اس سے بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا۔

سی ایس ایس کے تحریری امتحان لاہور مرکز میں امریکن ہسٹری کے پرچے والے دن مدیحہ گوہر میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی تھی اگرچہ ہمارا براہِ راست تعارف نہیں تھا مگر میں ان کے نام سے بخوبی آگاہ تھا۔ کمرہ أمتحان میں چونکہ ابھی پیپر شروع نہیں ہوا تھا تو پنجابی سٹائیل شور برپا تھا۔ جب کسی نکتے پر ہمارے آس پاس کرسیوں پر بیٹھے امیدوار چپ سادھ گئے اور ہم نے اس خاص واقعہ کی توضیح کی تو مدیحہ کہنے لگیں کاش میری سیٹ آپ کے ساتھ ہو جائے۔ چند ماہ قبل ان کی 63 ویں سالگرہ پر شاہد ندیم کا ڈرامہ ”بری“ دیکھنے کا بھی موقعہ ملا۔ مدیحہ عمر میں بھی ہم سے بڑی تھیں اور صلاحیتوں کے اعتبار سے بہت بڑی تھیں۔

بری جو پہلی دفعہ آمریت کے دور میں سٹیج کیا اس کا سحر ایک ربع صدی گزرنے کے بعد بھی کم نہیں ہوا۔ ڈرامہ سٹیج ہونے سے پہلے شاہد ندیم نے اپنی مختصر اور جامع گفتگو میں یہ ڈرامہ لکھنے کی تاریخ بیان کی کہ جب وہ لندن میں مقیم تھے تو کیسے اصرار پر انہوں نے یہ ڈرامہ لکھا۔ شاہد نے اپنی زبان سے اس گفتگو میں اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے بارے میں ایک لفظ تک نہ کہا بلکہ اشارةً بھی کوئی ذکر نہ کیا کہ یہ سب کچھ تو وہ ڈرامے میں کہانی کی صورت بیان کرنا چاہا رہے تھے یعنی جو وہ کہنا چاہتے تھے اسے وہ کھلی آنکھوں سے ہمیں دکھانا چاہتے تھے۔

بری بھی صرف شاہد ندیم کی تخلیق نہیں ہے اس پر مدیحہ کے دستخط ہیں۔ یہ کہانی ایک لڑکی کے بارے میں ہے جس کی شادی اس کے والدین ایک بوڑھے سے کر دیتے ہیں اور وہ لڑکی اس بوڑھے کوقتل کر کے جیل پہنچ جاتی ہے۔ یہ آمریت کے دور میں ایک باغی آواز تھی جب ہما شما اور نام نہاد صحافت کی آزادی کے بزعمِ خود اسی آمر کی قربت کے متمنی تھے تب بری کی باغی آواز نے دبے ہوئے جذبوں کو مرتعش کیا۔

سائرہ اور مائرہ پدرسری معاشرتی نظام اور اس جڑی فرسودہ روایات اور رسوم و رواج سے بغاوت کا سبق پڑھاتا ہے مگر سائرہ کو سیما جمیل کے ادارے آغوش میں ماں کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا جاتا ہے اور غیرت کے نام قتل ہونے والی کی قبر کا نشان تک مٹا دیا جاتا ہے کہ وہ ماں جس کی آنکھوں کے سامنے سائرہ قتل ہوتی ہے اس کی قبر پر دو آنسو بہا سکے۔ عورت کو مرضی سے ہنسنے کا حق تو ہے ہی نہیں اسے اپنی مرضی سے اشک بہانے کا بھی اختیار نہیں ہے۔ یہ کیسی روایات ہیں جو یہاں پروان چڑھیں ہیں جس کی نظیر نہ ہمارے قانون میں ہے اور نہ ہمارا مذہب ایسی کسی تلقین کا داعی ہے۔

جہاں ہم رہ رہے ہیں یا جن فرسودہ روایات سے ہم سب کو آئے دن نبرد آزما ہونا پڑتا ہے اس میں میں سب سے مشکل کام آرٹ کے ذریعے تبدیلی لانا ہے۔ جو فنون اس تبدیلی میں ممد ثابت ہو سکتے ہیں ان میں شاعری اور افسانہ نگاری، پینٹنگ، اخبار نویسی اور تھیٹر زیادہ اہم ہیں۔ اپنے ہاں شاعروں افسانہ نگاروں اور اخبار سے متعلقہ لوگوں نے اپنی جنگ ریاست یا کاپردازانِ ریاست سے کی ہے یا ان کا ہدف حکومتِ وقت ہوتی ہے۔ مصوری کے ذریعے تبدیلی یہاں کسی تحریک نے جنم ہی نہیں لیا تو کہنے دیجیے یہ اعزاز اسی تھیٹر کو جاتا ہے جس نے اپنی لڑائی حکومت سے نہیں معاشرے اور اس میں رواج پانے والی قباحتوں سے لڑی ہے۔ اجوکا کا ہدف آج بھی وہی فرسودہ قوانین ہیں جو حکومت ہی بناتی ہے مگر اجوکا کا مہا یدھ حکومت سے نہیں اس کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی صورتِ احوال سے ہے۔ سائرہ اور مائرہ میں سب سے زیادہ جذباتی منظر بہنوں کے متعلق وہ گیت ہے جو سائرہ اور مائرہ کی متعلقین گاتی ہیں۔

دیکھو دیکھو وہ بہنیں آتی ہیں

آئیں گی ظلم مٹائیں گی

وہ تو نیا زمانہ لائیں گی

ڈرامے کا انجام اگرچہ اس پیغام پر مبنی ہے کہ بالآخر تبدیلی آئے گی مگر جہالت پر مبنی رسوم اور ان کی ہم سب پر ان دیکھی گرفت دیکھ کر مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ سائرہ اور مائرہ صرف الحمرا کی چار دیواری میں ہی محفوظ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •