سوشل میڈیا کا طوفان کہاں لے جائے گا؟


ایک طرف میڈیا مثبت رول ادا کر رہا ہے تو دوسری طرف منفی رجحان بھی عروج پا چکا ہے جس کے نتیجے میں پورے ملک کے اندر افراتفری پھیلی جا رہی ہے لیکن ہر طرف خاموشی کا بول بالا ہے۔ سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا کے بہ نسبت زیادہ جھوٹ، افواہ اور دہشت پھیلا رہا ہے۔ کہی کچھ پڑھ رہا تھا کہ ایک بندے نے دوسرے سے شکایت لگا دی کہ ہمارے ملک پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگوں کے بیچنے میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اس کے جواب میں سامع نے فرمایا کہ ”جو لوگ رات کو سوتے ہیں تو کیا صبح مرے ہوئے ہوتے ہیں نہیں ناں بالکل اس کے برعکس ہمارے ہاں ہوتا ہے“۔

انٹرنیٹ نے جہاں وسائل کو جنما ہے تو وہاں کیے مسائل کو بھی جنما ہے۔ ان مسائل کی تخلیقات کو بروئے کار لانے والا خود انسان ہے۔ جہاں تک ان میں مضحکہ آمیز مواد کا اطلاق ہے تو بر عکس سنجیدہ پہلو بھی نمایاں ہیں۔ ایک سنجیدہ پہلو اس میں سوشل ذرائع ابلاغ (سوشل نیوز) کا ہے۔ جس طرح پشتو زبان کے شعرإ گلی گلی میں ہیں، اسی طرح فیس بک پر صحافت کا کام بھی زوروں پر ہے۔ سوشل ذرائع کی مثبت پہلو کثرت سے ہیں اور منفی پہلواقلِ قلیل ہے لیکن یہ منفی پہلو بہت ہی مضر ہیں۔ ایک دن پہلے دوست نے ایک ویڈیوں دکھائی تھی جس میں ایک باپ کو مرا ہوا بچہ واپس مل گیا تھا۔ اِس ویڈیو کو تعجب کے ساتھ دیکھ رہاتھا کہ کیا ایسا ممکن ہے؟ جب سارے کوائف سامنے آئے تو راقم کا قلم لکھنے کو بیتاب ہوا اور رقم کرتا رہا۔

ہہم پرورش لوح وقلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتھے رہیں گے

اب کہانی پہ آتے ہیں جو نیچے سطور میں مذکور ہے۔ والد کا بین تھا کہ میرا یہ بچہ چھ/ 6 مہینے پہلے فوت ہو چکا تھا اور اب یہ اللہ کی قدرت سے زندہ ہوکر گور سے واپس آچکا ہے۔ یہ بات سنتے ہی یکایک اس گاٶں کا ایک نو تبلیغی مبلغ نے بِنا تحقیق کیے ہوئے اس حادثے کو اللہ کا معجزہ قرار دے دیا۔ اور اللہ اکبر کے نعرے بلند کرنے کے ساتھ وعظ بھی شروع کیا۔ (اللہ کن فیکون ذات ہے ان کے معجزوں میں کوئی شک نہیں ) بچہ جس شخص کی آغوش میں تھا وہ اُس کو اپنا والد مانتا تھا۔ جب اینکر نے بچے سے نام پوچھا تو اُس نے اپنے نام کے ساتھ ساتھ والد کا نام بھی بتایا۔ جس پر سوشل نیوز کے اینکر نے والد سے سوال پو چھا ”کیا آپ اس بچے کی قبر پر گئے ہیں؟ “

والد کا جواب ”نہیں، میں نے قبر کا جائزہ نہیں لیا ہے۔ “ پھر دوسرا سوال کیا ”کیا اس کی صورت آپ کے بچے سے ملتی ہے؟ “ والد کا جواب ”بس آنکھیں اس کی طرح ہیں“۔ والد نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی آجائے اور کہے کہ یہ میرا بچہ ہے تو میں رکاوٹ نہیں بنوں گا۔

بنا تحقیق کی، اور اتنے سنجیدہ جوابات سننے پر بھی اینکر نے جذبات کی شدت سے سامعین و ناظرین سے کہا ”دیکھو اللہ کا معجزہ! کہ چھ مہینے پہلے جو بچہ فوت ہوچکا تھا، آج اللہ نے اس بچے کو دوبارہ زندگی سے نوازا۔ ان کے ہاں ایک لڑکا تھا جو چھ مہینے پہلے فوت ہو چکا تھا۔ اللہ نے اپنے بندے کا درد سمجھا اور اس کا دامن پھر سے اس بچے سے بھر دیا۔ “ یہ کلمات سنتے ہی گاٶں والوں نے اللہ اکبر کے نعرے بلند کیے۔

آج اُس دوست نے اُس ویڈیوں کی دوسری قسط دکھائی، جس میں وہ بچہ اپنے حقیقی والدین کو مل گیا تھا جو چند دن پہلے اپنے والدین سے گم ہوگیا تھا۔

اس وقت بھی ایک صحافی نے سوشل صحافیوں سے التفات کی کہ خدارا اس طرح کے کارناموں سے باز آٶ اور تحقیق کرتے ہویے دوسروں تک ابلاغ پہنچایا کرو مگر ابھی تک کوئی بھی صحافی اس پر عمل پیرا ہوکر دکھائی نہیں دیا۔ سوشل میڈیا نے ایک مسئلہ تو یہ حل کیا کہ گم شدہ بچے کو اپنے حقیقی والدین سے ملا یا، لیکن دوسرا اہم مسئلہ یہ کھڑا کر دینا تھا کہ اس بچے کو اللہ کا معجزہ قرار دے رہا تھا چوں کہ در حقیقت ایسا نہیں تھا۔ اس کے بر عکس اِس بات کا خوف تھا کہ کہیں ہمارا معاشرہ اس بچے کو اللہ کا معجزہ قرار دے کر اس بچے کو شفا بخش بچہ قرار نہ دے۔ جس سے لوگ اپنی تمناٶں کی دعا کے اصرار کے ساتھ پیسے بھی دیتے ہیں۔

میری سوشل ذرائع ابلاغ سے التماس ہے کہ پہلے تحقیقی عمل کرو پھر اپنی خبر دوسروں تک پھیلاٶ۔

اس کہانی کے ساتھ ایک اور کہانی بھی یاد آگئی کہ پیچھلے ہفتے فیسبک اوپر نیچے کر رہا تھا کہ ہمارے قابل اور بہترین دوست نے ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں ایک ظالم اور درندہ صفت انسان ایک معصوم بچے کو اس وجہ سے مار رہا ہے کہ آپ کھڑے کیوں نہیں ہوسکتے؟ بچہ تقریباً چھ سات مہینوں کا ہوگا لیکن ظالم اس قدر تیز تیز تھپڑ مارتا ہے کہ جی چاہتا ہے اس کو زندہ درگور کر دوں۔ بہت زیادہ افسوس ہوا دو تین دن تک وہ چھوٹا سا بچہ راقم کے دماغ میں گھومتا رہا کہ کاش کاش یہ جانور اس پھول جیسے بچے کو نہ مارتا۔ نہ کھانے کو من کرتا تھا اور نہ پڑھنے کو بس بور بور تھا پھر اس دوست کے ساتھ منہ ماری بھی کی کہ شرم کرو ایسی گھٹیا نیچ حرکت کیوں کی؟ وہ ویڈیو رحم دل انسان شیئر نہیں کرسکتا لیکن آپ۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس معاملے میں راقم کچھ زیادہ ہی حساس ہے اس وجہ سے برداشت نہیں ہوسکتا اور خود کو تکلیف کے سوا اور کچھ ہو بھی تو ہو نہیں سکتا، تو خاموشی سے خود کو تکلیف میں مبتلا کیا۔ لیکن نامعقولوں کو اس چیز کا کوئی احساس نہیں بس فن سمجھ کر شیئر کرتے ہیں۔ تمام بھائیوں سے ایک عاجزانہ التماس ہے کہ خدارا خدارا ایسی چیزیں مت شیئر کریں کہ جس سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہو۔

Facebook Comments HS