سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے مکاتب فکر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی ملک کا سیاسی نطام جو بھی ہو مگر آج کے دور میں اس کا معاشی نطام سرمایہ دارنہ (کیپٹلسٹ اکانومی) ہی ہے ؛ فرق بس اتنا ہے کہ مختلف ملکوں میں سرمایہ دار مختلف ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام آسان لفظوں میں ایک ایسے معاشی نظام کو کہتے ہیں جس میں سرمایہ دار (کیپٹلسٹ) اپنے استعمال کے لیے چیزیں بنانے کی بجائے خالصتاً منافع کمانے کے لیے چیزیں بناتا ہے۔ سوشلسٹ خیال کے حامل لوگ سمجھتے ہیں کہ عام لوگوں (پرائیویٹ کیپٹلسٹس) کی بجائے صرف سرکار کو سرمایہ دار ہونا چاہیے۔

تاکہ سرکار منافع کمائے اور پھر اس منافع کو مساوی طور پر عوام میں تقسیم کرے۔ ہر دونوں صورتوں میں سرمایہ دار ہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ عام طور پر سرمایہ سے مراد وہ مشینیں (ٹولز) لی جاتی ہیں جن سے منافع بخش چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس خام مال (را مٹیریل) کو نہ سرمایہ سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی خام مال رکھنے والوں کو سرمایہ دار۔ مثال کے طور پر ٹیکسٹائل کی صنعت میں ٹیسکٹائل مل کا مالک تو سرمایہ دار ہے مگر کپاس کا مالک سرمایہ دار نہیں۔ پیسے کو عام طور پر صرف سرمایہ کہنے کی بجائے مالی سرمایہ (فنینشل کیپیٹل) کہا جاتا ہے۔

سرمایہ کار اپنی سرمایہ (مشینوں ) سے چیزیں بنانے کے لیے لوگوں کو ایک مقررہ تنخواہ پر نوکری دیتا ہے، یہ لوگ مزدور (ویج لیبر) کہلاتے ہیں۔ سرمایہ دار اپنی سرمایہ سے مزدوروں کے ذریعے سے بنائی ہوئی چیزیں بیچ کر منافع کماتے ہیں۔ منافع کی شرح کا انحصار سرمایہ داروں کے درمیان مقابلے پر ہے۔ جس چیز کا مقابلہ مارکیٹ میں زیادہ ہو اس پر سرمایہ دار کو کم منافع ملتا ہے اور اس کے برعکس جس چیز کا بنانے والا صرف ایک ہی سرمایہ دار ہو اس میں اس کی من مانی ہوتی ہے اور وہ زیادہ منافع کماتا ہے۔

اس کے علاوہ بعض اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ کوئی چیز ایک سے زیادہ سرمایہ کار بنا رہے ہوتے ہیں مگر آپس کی ملی بھگت سے مقابلہ ختم کرکے من مانی کی فضا بنائی جاتی ہے۔ ان دونوں صورتوں میں ساری مارکیٹ پاور سرمایہ داروں کے پاس آجاتی ہے اور وہ جان بوجھ کر ایسے حربے استعمال کرتے ہیں جن سے منافع بڑھائی جا سکے۔ مثال کے طور پر سرمایہ دار سپلائی (رسد) کم کرکے مصنوعی طور پر ڈیمانڈ (طلب) بڑھا کر قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس طرح کی من مانی کو معیشت کی توازن کے لیے بہت خطر ناک تصور کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں مقابلے کا قانون (کمپٹیشن لاء) کے ذریعے اس قسم کی منافع خوری روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

آج کے دور میں سرمایہ دار عام طور پر اشخاص نہیں بلکہ تجارتی ادارے (کارپوریٹس) ہوتے ہیں۔ ان کارپوریٹس میں شامل ہر فرد کے پاس سرمایہ کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ کارپوریٹس میں سرمائے کا حصہ سٹاک مارکیٹ میں فنیینشل کیپیٹل کے بدلے شئیرز خرید کر حاصل کی جاتی ہے۔ شئیر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی شخص کے پاس سرمایہ کا کتنا حصہ ہے۔ اس سرمایہ دارانہ نظام میں توازن کو بگاڑے بغیر معیشت کیسے ترقی کر سکتی ہے اس حوالے سے لاتعداد فلسفے ہیں۔ ان سب کا احاطہ نہ تو میں کر سکتا ہوں اور نہ ہی کسی ایک مضمون میں ان کا احاطہ ممکن ہے ؛ اس لیے صرف فلسفوں کا ذائقہ آپ تک پہنچانے کے لیے تین مشہور مکاتب فکر (سکول آف تھاٹ) ، کلاسیکل، نیوو کلاسیکل، اور مارکسٹ، کا تعارف پیش کرونگا۔

کلاسیکل سکول کو جدید معیشت کا سب سے قدیم فلسفہ مانا جاتا ہے۔ اس فلسفے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سرمایہ دار کو ہر قسم کی بندشوں سے آزاد ہونا چاہیے۔ اس طرح معیشت خودبخود متوازن ہوگی جو تمام طبقوں کے لیے سود مند ہوگی۔ اس کے پیچھے دراصل یہ سوچ کار فرما ہے کہ جب سرمایہ دار آزاد ہوں گے تو آپس میں مقابلے کی وجہ سے سستی سے سستی چیزیں بنائیں گے اور خریدنے والوں کو معیاری اور سستی چیزیں دستیاب ہوں گی۔ بنانے والوں کے اس مقابلے اور خریدنے والے کی سستی اور معیاری چیز کی تلاش کو معیشت میں خفیہ ہاتھ (انویزیبل ہینڈ) کہا جاتا ہے۔

کلا سیکل فلسفے میں چیز کی قیمت کا تعین اس پر لگنے والے اخراجات (کاسٹ) سے کیا جاتا ہے۔ کلاسیکل فلسفے میں ایک اور قانون ”سیز لاء“ کو اہم مقام حاصل ہے۔ اس قانون کے مطابق سپلائی اپنی ڈیمانڈ خود بناتی ہے، اس لیے کسی چیز کی سپلائی نہ روکی جائے۔ نظریہ یہ ہے کہ زیادہ سپلائی پیدا کرنے کے لیے سرمایہ دار کو زیادہ مزدور رکھنے ہوں گے جس سے زیادہ لوگوں کے پاس پیسے آ جائیں گے اور نتیجتاً خریدنے والے لوگ خود بخود بڑھ جائیں گے۔ کلاسیکل سکول میں آزاد مارکیٹ کی طرح آزادانہ تجارت کا فلسفہ بھی ہے۔ اس فلسفے کے مطابق اگر اپنے ملک میں جو چیز سستی نہیں بن سکتی وہ دنیا میں جہاں کہیں بھی سستی مل سکتی ہو وہیں سے لینی چاہیے۔

کلاسیکل سکول میں معاشی ترقی کا یہ طریقہ بتایا جاتا ہے کہ منافع کا زیادہ حصہ سرمایہ دار کے پاس جانا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دار پھر سرمایہ کاری (انویسٹ) کرے گا جس سے مزید منافع اور مزید نوکریاں پیدا ہوں گی۔ کلاسیکل فلسفہ میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ معیشت کی ترقی میں ورکرز کوئی کردار نہیں ادا کر سکتے۔ ان کے پاس منافع کا زیادہ حصہ جانا پیسے کا ضیاع ہے کیونکہ وہ سارا پیسہ اپنی ضروریات پوری کرنے میں خرچ کریں گے اور اس کا کوئی فائدہ ملکی یا قومی معیشت کو نہیں ہو گا۔

دور حاضر میں معیشت کا ایک مشہور مکتب نیوو کلاسیکل سوچ ہے۔ اس فلسفے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ سرمایہ کار کو آزاد کرنے کی بجائے خریدنے والے فرد کو آزادی دی جائے۔ فرد کی آزادی کے پیچھے مفروضہ یہ ہے کہ وہ خود غرض اور عاقل ہوتا ہے اس لیے وہ اپنے فائدے کا ہی فیصلہ کرے گا۔ اس فلسفے میں بھی گورنمنٹ یا کسی بھی اور ایکٹر کی معیشت پر اثرانداز ہونے کی گنجائش اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک مارکیٹ میں کوئی خرابی (مل فنکشنیلٹی) نہ آجائے۔

کلاسیکل سوچ کے برعکس اس فلسفے میں چیز کی قیمتوں کا تعین یہ بات کرے گی کہ اس چیز کی مارکیٹ میں کتنی اہمیت ہے۔ قطع نظر اس سے کہ اس کے بنانے میں خرچہ کتنا آیا؛ اس لیے مزدوروں کو بھی اس بات کی بنیاد پر تنخواہیں نہ دی جائیں کہ انہوں نے کام کتنا کیا یا محنت کتنی کی بلکہ تنخواہوں کا تناسب مارکیٹ میں بننے والی چیز کی اہمیت پر ہونی چاہیے۔ اس طرح اس مکتب میں توجہ کا مرکز پیداوار (پروڈکشن) کی بجائے کھپت (کنسمپشن) ہے۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کے بارے میں اس سکول کے لوگ بھی خودکار توازن (ایکیولبریم) پر یقین رکھتے ہیں۔

معیشت کا ایک اور مشہور فرقہ مارکسٹ سوچ کے حامل لوگوں کا ہے۔ اگرچہ اس سکول کا بھی بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نطام سے ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے مگر ان کے خیال میں نجی سرمایہ کاری (پرائیویٹ کیپٹلسٹس) ترقی کو صرف ایک طبقے تک محدود کرتی ہے۔ اس فلسفہ کو اس پہلو میں کلاسیکل سکول سے بہت مماثلت ہے کہ یہ بھی فرد کی بجائے طبقوں کی بات کرتا ہے۔ یہ بھی مزدوروں کو ان کے کام کی بنیاد پر مراعات دینے (لیبر تھیوری آف ویلیو) پر یقین رکھتا ہے، اور کلاسیکل تھیوری کی طرح پیداوار پر فوکس کرتا ہے۔

جو چیز اس تھیوری کو کلاسیکل سے مختلف بناتی ہے وہ طبقوں کے درمیان فرق کی اہمیت ہے۔ یہ فلسفہ طبقوں کے درمیان تفاوت کو انتہائی سنگین قرار دیتا ہے۔ کلاسیکل تھیوری کے برعکس اس سکول کے لوگ مزدور کو معاشی ترقی کے لیے ایک غیر فعال طبقہ نہیں سمجھتے۔ ان کے خیال میں سرمایہ دار کے علاوہ مزدور بھی معیشت کی ترقی میں یکساں اہم ہیں۔

ان تین فلسفوں کی طرح بقیہ مکاتب کے حدود بھی آپس میں غیر واضح ہیں۔ بہت سی چیزیں ایک دوسرے میں مشترک بھی ہیں اور بہت سی چیزیں مختلف۔ کسی بھی فلسفے کو کسی دوسرے پر نہ کوئی برتری ہے اور نہ کسی ایک کے اپنانے سے معیشت کے سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں، کیونکہ ہر فلسفہ کچھ مخصوص حالات کو فرض کرکے بنایا گیا ہوتا ہے۔ اس لیے مختلف حالات میں اس کے فوائد اور نقصانات مختلف ہوتے ہیں۔

اگلی قسط میں انشا اللہ میں حقیقی زندگی میں معشیت پر اثر انداز ہونے والے کرداروں مثلاً کارپوریٹ، گورنمنٹ اور لیبر یونینز وغیرہ کے بارے میں لکھوں گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •