مولانا فضل الرحمن کیا کچھ حاصل کرسکے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ بات پہلے ہی طے تھی کہ مولانا فضل الرحمن کہ آزادی مارچ یا دھرنے کے نتیجے میں کوئی بڑی سیاسی یا حکومتی تبدیلی کا امکان موجود نہیں ہے۔ ویسے بھی سیاسی دھرنوں یا طاقت کے زور پرحکومتوں کو گرانا یا وزیر اعظم کے استعفی کا مطالبہ کسی بھی طور پر نہ تو قانونی تقاضوں کو پورا کرتا ہے او رنہ ہی سیاسی و جمہوری تقاضوں کو۔ کیونکہ اگر حکومت یا وزیر اعظم کی تبدیلی کا طاقت کے زو رپر یا جتھوں کی مدد سے گرانے کا سیاسی رواج کو بنیاد بنالیا گیا تو مستقبل میں کوئی بھی سیاسی اور جمہوری حکومت اپنی مدت پوری نہ کرسکے گی۔ اس کا نتیجہ کمزور سیاسی وجمہوری نظام اور قومی سطح پر اداروں کی تباہی کی صورت میں پیدا ہوگا۔ سیاسی اور جمہوری قوتوں کا سیاسی اجتجاج یا دھرنے دینا سیاسی او رجمہوری حق ہے، شرط صرف یہ ہونی چاہیے کہ یہ عمل سیاسی اور قانونی دائرہ کار اور عدم تشدد پر مبنی نہ ہو۔

مولانا فضل الرحمن اور جے یو آئی کو اس لحاظ سے داد دینی ہوگی کہ وہ اپنے آزادی مارچ او رپلان اے میں سیاسی اور قانونی دائرہ کار اور عدم تشدد کی پالیسی پر عمل کرکے قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریز کیا۔ اس سے یقینی طور پر مولانا فضل الرحمن او رجے یو آئی کے بارے میں وہ تمام خدشات درست ثابت نہیں ہوئے کہ وہ تشدد کی بنیاد پر تصادم چاہتے ہیں۔ اس سے یقینی طور پر جے یو آئی کا سیاسی بہتر ہوا اور ان کو میڈیا کی سطح پر جو پزیرائی ملی وہ بھی ان کی سیاسی ساکھ کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔ اس آزادی مارچ کے نتیجے میں مولانا فضل الرحمن کی سیاسی تنہائی بھی کم ہوئی ہے اور وہ سیاسی محاذ پر اپنی اہمیت کو منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

لیکن مولانا فضل الرحمن کے جو بنیادی سیاسی مطالبات تھے جن میں وزیر اععظم کا استعفی اور نئے انتخابات کا مطالبہ کی کوئی سیاسی منطق نہیں رکھتا تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اپنی تحریک کے مطالبہ پر سیاسی پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔ اس سیاسی پسپائی میں اب ان کی توجہ کا مرکز پلان بی ہے۔ اس پلان کے تحت انہوں نے ملک بھر میں جلسے، جلوس، مختلف صوبائی ہیڈ کواٹر میں دھرنے، بڑی شاہراوں کوبند کرنا یا شٹر ڈاون کرنا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے بقول ان کی تحریک وزیر اعظم کے مستعفی ہونے او رنئے انتخابات تک جاری رہے گی او راس کے لیے اگر ان کو پلان سی، ڈی یا اس سے بھی آگے جانا پڑا تو ہم گریز نہیں کریں گے۔

مولانا فضل الرحمن کو سمجھنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ ان کی آزادی مارچ کا جو اہم ٹارگٹ تھا وہ کیونکر ناکام ہوا۔ ا س ناکامی کی چار بنیادی نوعیت کی وجوہات ہیں۔ اول جن دو بڑی جماعتوں یا دیگر اپوزیشن جماعتوں پر انحصار کرکے مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کیا او ران کو یقین تھا کہ مختلف صوبوں اور حتمی طو رپر اسلام آباد مارچ میں یہ جماعتیں زیادہ متحرک او رفعال کردار ادا کرکے حکومت پر ایک بڑا سیاسی دباؤ کو پیدا کرنے کی سیاست میں ان کی پشت پر کھڑے ہوں گے۔

لیکن عملی طور پر دونوں بڑی جماعتوں نے ان کو مایوس کیا اور خود آزادی مارچ میں بھی ان کی شرکت بہت ہی زیادہ غیر موثر تھی۔ دوئم اس آزادی مارچ میں عام لوگوں، نوجوانوں، بزرگوں، کسانوں، مزدوروں، عورتوں، استاد، سمیت دیگر شعبہ جات کی کوئی نمائندگی نظر نہیں آئی۔ یہ دھرنا محض جے یو آئی کا تھا اور اس پر دینی مدارس کے طلبہ وطالبات سمیت مدارس سے جڑے اساتذہ تھے۔ یہ نہ تو حکومت کے خلاف کوئی عوامی تحریک تھی او رنہ ہی اس میں عوامی تحریک کی کوئی جھلک ہمیں دیکھنے کو مل سکی، اس لیے اس تحریک کا ناکام ہونا فطری امر تھا۔

سوئم مولانا فضل الرحمن کے پاس بنیادی مطالبہ انتخابی دھاندلی یا سلیکٹڈ حکومت کا تھا۔ مگر اجتجاج میں سارے نعروں میں مذہبی کارڈ، یہودی اور اسرائیلی ایجنٹ، کشمیر کا سودا، مودی کا ایجنٹ، لادین وزیر اعظم سمیت ایسے نعرے یا تقرریں کی گئیں جس میں انتخابی دھاندلی کا مسئلہ کمزور او رمذہبی کارڈ نمایاں تھا۔ یہاں تک کہ انتخابی دھاندلی کے حوالے سے کوئی شواہد بھی ان کے پاس موجود نہیں تھے۔ چہارم ایسے لگتا تھا کہ استعفی کے مطالبہ کے علاوہ کوئی او رمطالبات نہیں تھے او رنہ ہی اس آزادی مارچ کو میڈیا، اہل دانش اور رائے عامہ بنانے والوں کی طرف سے کوئی بڑی پزیرائی نہیں مل سکی۔

جو لوگ یہ دلیل دیتے تھے کہ مولانا فضل الرحمن کے پیچھے پس پردہ قوتوں کا عمل دخل تھا او روہ عمران خان کے مقابلے میں ایک متبادل سیاسی حکمت عملی پر غور کررہے ہیں۔ یہ تجزیہ بھی غلط ثابت ہوا اور فوج نے براہ راست مولانا فضل الرحمن کے الزامات کا جواب بھی دیا او رخود کو اس سیاسی مہم جوئی سے لاتعلقی کا اعلان کرکے دھرنا سیاست کو کمزور کیا۔ ایک خیال تھا کہ مولانا فضل الرحمن کو آزادی مارچ کے خاتمہ کی صورت میں حکومتی سطح سے کچھ نہ کچھ حاصل ہوگا۔

چوہدری برادران کی بھی کوشش تھی کہ فریقین میں کوئی ایسا سمجھوتہ ہو جو آزادی مارچ کو بھی سیاسی طور پر مطمن کرسکے۔ لیکن مولانا فضل الرحمن اس محاذ پر بھی کچھ حاصل نہیں کرسکے اس کی بڑی وجہ ان کی سیاسی ہٹ ڈھرمی بھی تھی، حالانکہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لچک دار او رکچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر حاصل کرنے کا فن رکھتے ہیں، مگر یہاں کچھ نہیں مل سکا۔

مولانا فضل الرحمن نے عملی طور پر متحدہ یا مشترکہ اپوزیشن کی سیاست کو بھی کمزور کیا۔ کیونکہ سیاست میں بار بار اس طرح کی بڑی سیاسی سرگرمی یامہم جوئی آسان نہیں ہوتی۔ اب فوری طو رپر حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کے خلاف کسی بڑی تحریک میں اس انداز میں شدت پیدا نہیں کرسکیں گی۔ اس آزادی مارچ کی ناکامی کی ایک وجہ حزب اختلاف کی جماعتوں میں عدم اعتماد کا فقدان بھی تھا۔ دونوں بڑی جماعتیں کسی بھی صورت میں مولانا فضل الرحمن کو تحریک کی قیادت عملا دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔

جے یو آئی کے مختلف اجلاسوں میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے کردار پر سخت تنقید ہوئی او رکہا گیا کہ ان دونوں جماعتوں کا کردار درست نہیں تھا۔ مولانا فضل الرحمن کی ایک غلطی یہ بھی تھی کہ وہ مختلف سیاسی جماعتوں سمیت اپنی ہی قیادت کو عملی تحریک کے اقدام سے آگاہ نہیں کرسکے۔ ابتدا سے لے کر آزاری مارچ کو ختم کرنے تک گوں مگوں کی کیفیت کا شکار رہے۔

اس آزادی مارچ کا ایک فائدہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو یہ ہوا کہ مولانا فضل الرحمن کے سیاسی دباؤ کی وجہ سے ان کے بہت سے سیاسی معاملات میں ان کو کافی فائدہ ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی نے عملی طور پر اپنے اپنے مفاد میں اس آزادی مارچ کو اپنے حق میں استعما ل کرنے کی کوشش کی۔ ان جماعتوں کے سامنے بڑے مفادات کی اہمیت کم او رچھوٹے چھوٹے یا ذاتی مفادات کی اہمیت زیادہ بالادست نظر آئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمن کی تحریک ختم ہوگئی ہے۔

یقینی طور پر مولانا فضل الرحمن خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ وہ اپنی اس تحریک کو آگے بڑھانا چائیں گے۔ لیکن ان کے سامنے چیلنجز ہیں۔ اصل مسئلہ کیا واقعی آگے جاکر جے یو آئی کی یہ تحریک متحدہ اپوزیشن کی تحریک میں بدل سکے گی۔ کیونکہ جب تک یہ تمام متحدہ جماعتوں یا حزب اختلاف کی تحریک نہیں ہوگی اس سے وہ کسی بھی شکل میں حکومت پر بڑا دباؤ نہیں ڈال سکیں گے۔ اسی طرح اگر ان کے پاس انتخابی دھاندلی کے شواہد ہیں تو وہ اس پر ایک بڑا وائٹ پیپر جاری کیا جائے تاکہ واقعی ثابت ہوسکے کہ دھاندلی کے شواہد بھی موجود ہیں۔ اس کے لیے ان کو اداروں پر اعتماد کرنا ہوگا اور یہیں سے ان کو دادرسی کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔

حال ہی میں ہم نے دنیا کے مختلف ملکوں میں وہاں کی حکومتوں کے خلاف تحریکیں دیکھی ہیں او راس تحریک میں ان کو کامیابی ملی، لیکن اس کی بنیادی وجہ ایک بڑی عوامی تحریک تھی جس پر وہاں کی حکومت کو سیاسی پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ اس لیے اگر واقعی حکومت کے خلاف کوئی بڑی تحریک چلانی ہے تو اس کو عوامی تحریک میں بدلنا ہی حزب اختلاف کی کامیابی ہوگی۔ وگرنہ محض چند جماعتوں کے سیاسی کارکن یا کسی مذہبی گروہ کی بنیاد پر حکومتوں کو گرانا سودمند نہیں ہوگا او رنہ ہی اس طرح سے کوئی بڑی سیاسی کامیابی حاصل کرسکیں گی۔ برحال تحریک انصاف کے خلاف تحریک چلانا حزب اختلاف کا حق ہے، لیکن دیکھنا ہوگا کہ وہ ایسے کون سے سیاسی کارڈ کھیلتے ہیں جو واقعی حکومت کو سیاسی پسپائی پر مجبور کرسکے یا حکومت یا وزیر اعظم کو تبدیل کرسکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •