بچے اور ان کی تربیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل کے بچے اپنے والدین کا احترام کیوں نہیں کرتے۔ وہ والدین جو اپنی ساری زندگی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، اچھی تعلیم دیتے ہیں ہر خواپش پوری کرتے ہیں۔ اپنی خواہشات، آرام و سکون بھول جاتے ہیں۔ اور جب وہی اولاد ان کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہو جاتی ہے‘ جائیداد میں حصہ مانگتی ہے، یا بوڑھے والدین کو چھوڑ کر چلی جاتی پے تو ان پر کیا گزرتی پے۔

اس کے پیچھے بہت سے محرکات کار فرما ہیں :

بچوں کی تربیت میں ہمارے اردگرد کا ماحول بہت اہمیت رکھتا پے۔ بچے ہر چھوٹی چھوٹی بات کو محسوس کرتے پیں اور مشاہدہ کرتے پیں۔ اگر ماں باپ کی آپس میں نہیں بنتی تو وہ ایک دوسرے کے خلاف بچوں کے ذہن میں بات ڈالیں گے بے شک یہ کام وہ ڈائریکٹ نہ کریں بچے دیکھتے پیں کہ کون کس سے کیسے بات کر رہا ہے کس کی کتنی اہمیت ہے جیسے ہم گھر میں ملازم سے بات کرتے ہیں ان کو آڈر دیتے ہیں بالکل اسی طرح بچے بات کرتے ہیں آپ کا لہجہ اپناتے ہیں۔ ان کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ وہ ملازم ہے اور اس سے کیسے بات کرنی ہے وہ آپ کو دیکھتا ہے اور آپ کا لہجہ اپناتا ہے۔ آپ سے سیکھتا ہے۔

جب بچہ کسی سے بدتمیزی سے بات کرتا ہے تو یہ سب کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس کو سمجھائیں کیونکہ تربیت کرنا صرف ماں کا فرض نہیں۔ گھر کا ہر فرد تربیت کرنے کے عمل میں شامل ہوتا ہے۔ اور گھر کا ماحول بناتا ہے۔

ہم شروع سے ان کے دماغ میں ڈالتے ہیں کہ تم نے بڑے ہو کر ڈاکٹر ’انجینئیر وغیرہ بننا ہے پیسہ کمانا ہے بس یہی بات اس کے دماغ میں رہ جاتی ہے۔ انسانی قدریں‘ محبت ’احساس‘ فرض شناسی ’ملک و قوم سے محبت نہیں رہتی بڑا آدمی تو بن جاتا ہے پیسہ تو کما لیتا ہے لیکن احساس مر جاتا ہے۔ پھر اپنے چھوٹے سے گاؤں میں رہنا پسند نہیں کرتا۔ گاؤں سے شہر اور شہر سے دوسرے ملک جانے کی خواہش رکھتا ہے۔ وہ کبھی بھی اپنے لوگوں کی اپنے ملک کی نہں سوچے گا۔ جب بھی سوچے گا اپنا سوچے گا کیونکہ اسے سکھایا ہی یہی گیا ہے۔

کیونکہ مساوی مواقع حاصل نہں اس لیے اپنے گھر کو چھوڑ کر ’اپنے شہر کو چھوڑ کر ان کو دوسرے شہر جانا پڑتا ہے حتی کہ ملک سے باہر جانا پڑتا ہے۔ ایسے میں وہ اپنے والدین کو ساتھ رکھتے ہیں تو ان کا نئی جگہ پر دل نہیں لگتا کوئی بات کرنے والا نہں ملتا اردگرد کا ماحول نیا ہونے کی وجہ سے وہ جلدی اکتا جاتے ہیں اور طبیعت میں چڑچڑا پن آ جاتا ہے۔ جس سے گھر کا ماحول خراب ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں بچے اپنے ماں باپ کو اولڈ ایج ہاؤس میں رکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اس بات کو بھی ہمارے معاشرے میں برا سمجھا جاتا ہے۔

اور بچوں کو نافرمان سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف بہو اور ساس کی آپس میں نہں بنتی، روز کے جھگڑوں سے تنگ آ کر بھی والدین کو اولڈ ایج ہاؤس بھیجنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ تاکہ ماں باپ اور وہ خود بھی سکون سے زندگی گزار سکیں۔ اگر بچوں کو تعلیم اور روزگار کے یکساں مواقع مل جائیں تو ان کو اپنے والدین کو چھوڑ کر جانا نہ پڑے اور نہ ہی والدین کو اولاد کے مستقبل کی خاطر اپنا گھر بار اور اپنی جگہ ’شہر کو چھوڑ کر کہیں جانا پڑے۔

اب اگر ہم ٹین ایج کے بچوں کی بات کریں تو ان کی تربیت میں بھی بہت سے محرکات نظر آتے ہیں۔ جس میں سب سے اہم کردار سوشل میڈیا کا ہے۔ بے جا انٹرنیٹ کے استعمال نے بچوں اور بڑوں دونوں کو رشتے ناتوں سے دور کر دیا ہے۔ اب ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کی بجاے سوشل میڈیا جیسا کہ فیس بک ’یوٹیوب وغیرہ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اگر والدین بچوں کو منع کرتے ہیں تو وہ آگے سے کہتے ہیں کہ آپ بھی تو استعمال کرتے ہیں۔ وہی بات ہے کہ اگر ماں کتاب کا مطالعہ کرے گی تو بچہ بھی کرے گا بچہ جو دیکھتا ہے وہی کرتا ہے۔

آج کل کی مائیں بچوں کے ہاتھ میں موبائل پکڑا کر خود اپنی زمیداریوں سے آنکھیں چرا لیتی ہیں۔ جب بچہ اس کا بے جا استعمال کرتا ہے تو پریشان ہوتی ہیں۔ بچہ اپنے اردگرد کے لوگوں سے سیکھتا ہے۔ آج کل کے بچے بہت اچھا مشاہدہ رکھتے ہیں اور ہر چیز کے بارے میں سوال جواب کرتے ہیں۔ اور چیزوں کے بارے میں اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔

غیر مساوی دولت کہ تقسیم کی وجہ سے بھی والدین پریشان ہیں کیونکہ جب ان کے بچے کا دوست فیس بک پر اپنی گاڑی کی ’بڑے گھر کی‘ برینڈڈ کپڑوں جوتوں کی تصاویر لگاتا ہے یا ریسٹورنٹ میں کھانے کی تصاویر لگاتا ہے ان کے بچے کا دل بھی خراب ہوتا ہے جو کہ ایک ظاہری بات ہے ’اور وہ اپنے ماں باپ سے بھی فرمائیش کرتا ہے جو کہ پوری نہ ہونے کی وجہ سے بچہ اپنے ماں باپ کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے اور بدتمیزی کی ہر حد پار کرنے کو اپنا فرض سمجھتا ہے۔

ایک اور وجہ جو سامنے آتی ہے وہ فرسٹ جنریشن اور تھرڈ جنریشن کی دوری ہے۔ آج کل کے بچے سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کی وجہ سے اپنے بڑوں اور بزرگوں کے ساتھ وقت نہیں گزارتے ان کو اچھے برے کی تمیز نہیں آتی۔ گھر کے بزرگوں نے اپنی زندگی سے بہت کچھ سیکھا ہوتا ہے ان کا علم ’تجربہ‘ مشاہدہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ہمیں ان کے علم سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور وہ تبھی ممکن ہے جب ہم اور ہمارے بچے ان کے ساتھ وقت گزاریں گے۔ اور جب بڑوں کا احترام سکھایا نہیں جائے گا تو ان سے توقع کیسے کر سکتے ہیں کہ وہ ہمیں احترام ’عزت دیں گے۔ جیسا آپ کریں گے ویسا آپ بھریں گے یا آپ کے سامنے آٰئے گا۔

ضرورت اسں بات کی ہے کہ ہمیں معاشرے میں بہتری لانے کے لئے بہت سے مثبت کام کرنے پڑیں گے۔ سب سے پہلے مساوی بنیادوں پر تعلیم کو عام کرنا ہوگا گورنمنٹ اور پرائیویٹ سکولوں میں ایک جیسی تعلیم کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے تاکہ کسی کو اپنے والدین کو چھوڑ کر کہیں جانا نہ پڑے۔ پھر روزگار کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے تاکہ وہ اپنے والدین کے پاس رہ کر ان کی خدمت کر سکیں اور ان کی دعائیں لے سکیں۔

ہمیں اپنے سوشل میڈیا پر پابندی لگانی ہو گی تاکہ وہ اپنے کلچر کو فروغ دیں اور شعور اجاگر کریں۔ اپنا مثبت کردار ادا کر کے ان کے اخلاق کو سنواریں اپنے دین اسلام کے مطابق زندگی کے اصول سکھائیں تاکہ وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔ بہتر زندگی گزار سکیں۔ ہمیں اپنی اخلاقی قدروں کو بدلنا ہو گا۔ خود اپنے اندر تبدیلی لانی ہو گی۔ تبھی ہم اپنا رول ادا کر سکیں گے۔ اور ہمارا ضمیر مطمئن ہو سکے گا۔ اور ہماری آنے والی نسلیں اعلی اقتدار کا مظاہرہ کریں گی۔ ان کو بگاڑنے اور سنوارنے میں ہمارا اپنا ہاتھ ہے۔ لہذا پہلے خود میں تبدیلی لائیں بچے آپ کو دیکھ کر سیکھیں گے۔ وہ نہیں جو آپ سکھانا چاہ رہے ہیں۔ بلکہ وہ سیکھیں گے جو وہ آپ کو کرتا دیکھ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •