پاسو کا اندھا کباڑی، سخی آصف خواب بیچتا ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاسو جب وطن بنا تو ہم وطنوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔لاشعوری طور پاسو کو کچھ سکھانے گیا تھا لیکن جتنا عرصہ قیام رہا وقت سیکھنے میں ہی بیت گیا۔ ایسے نوجوانوں سے ملاقاتیں رہیں جن کا نتیجہ دوستی کی شکل میں برآمد ہوا۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو گا کہ پاکستان میں مردوں کے بالوں کا فیشن یعنی ہیر سٹائل پاسو سے شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد ملک کے بڑے شہروں میں پھیلتا ہے۔ بلکہ بہت سا فیشن پاسو میں شروع ہو کر پاسو میں ہی ختم ہو جاتا کہ بڑے شہروں تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔ پہنچ پائے بھی تو شاید ابھی ہمارے معاشرے میں مجموعی طور پر ڈگر سے ہٹ کر چلنے یا دکھنے کی قبولیت ذرا کم ہی پائی جاتی ہے۔
پاسو کی سڑک پر ایک گیسو دراز اندھا کباڑی آپ کو ملے گا۔ یہ خواب فروش ہے۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں خوابوں کے رنگین غبارے ہیں۔ یہ خود دار اندھا کباڑی آپ کو سڑک پر روکے گا نہیں ۔ آپ کو خود ان غباروں کو دیکھ کر اس کی جانب جانا پڑے گا۔ لیکن یہ اندھا کباڑی اپنے خواب بقول ن م راشد سستے بیچتا ہے اس لیے خریدار شک کرتے ہیں کہ یقینا کوئی ہیر پھیر ہو گا۔
سخی آصف ہمیشہ سے خواب فروش اندھا کباڑی نہیں تھا۔ کراچی یونیورسٹی میں سوشیالوجی میں ماسٹر ڈگری کے حصول کے دوران پروفیسر نبیل زبیری کی نظر ان پر پڑی۔ روشن ذہن اور فکری چمک سے بھرپور سخی آصف کی آنکھیں پروفیسر صاحب کو بھا گئیں ۔ ڈگری کے بعد انہوں نے آصف کو کہا کہ آپ میرے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرو۔سخی آصف کی تمام صلاحیتوں سے پروفیسر صاحب واقف تھے لیکن ان کی نظروں سے یہ حقیقت اوجھل رہی کہ سخی آصف کے اندر بھکت کبیر آلتی پالتی مار کر بیٹھا ہے۔ ایک اندھا کباڑی ہے جو صرف ‘گھاٹے کا سودا ‘ کرنا جانتا ہے۔
اور ایک شام کو سخی آصف نے پروفیسر نبیل کو کہا کہ ، ”سوری سر میرے کانوں میں میرے دادا کی کہانیاں گونجتی رہتی ہیں۔ پاسو کی طویل سرد راتوں میں جب برفیلے ذرے لیے طوفانی ہوائیں چلتی تھیں تو ہم گھر کے ان گوشوں میں پناہ لیے جو خندق موافق تھے۔ طویل سرد اندھیری راتیں ہمیں داستان گو بنا دیتی ہیں۔ میرے دادا کی کہانیوں کی تان انسانیت کی خدمت، وطن کا قرض جیسے آدرشوں پر ٹوٹتی تھی۔ میں شہر آگیا لیکن میرے اندرسینے کے ایک گوشے میں پاسو سفید بکل مار کر بیٹھا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کے شہر کی ان روشنیوں کا حصہ بنوں لیکن میرے اندر یہ بکل مارے چور مجھے ا ن سرد اندھیروں کی جانب دکھیلنا چاہتا ہے۔ مجھے اپنے لوگوں کی خدمت کرنی ہے۔ مجھے پاسو واپس جانا ہے”
پاسو کا یہ اندھا کباڑی خالی ہاتھ کراچی گیا تھا۔ جب واپس پاسو کی جانب قصد سفر کیا تو دونوں ہاتھوں میں خوابو ں کے رنگ برنگے غبارے تھے۔پاسو میں ایک اور جہاندیدہ اندھے کباڑی دانشور علی قربان نے اپنے بازو وا کیے۔ علی قربان لکھنے پڑھنے والے آدمی تھے انہوں نے سخی آصف اور اپنے بیٹے کو عملی کام پر لگایا۔ سخی آصف نے دوستوں کے ساتھ مل کر ہر وہ کام شروع کیا جس میں علاقے کے لیے فلاح پوشیدہ تھی۔ اس پوشیدہ فلاح کو سخی آصف اور ان کے دوست دس ہزار پودوں کی شجر کاری کی صور ت باہر لیکر آئے۔پاکستان میں شاید ہی کوئی جگہ ہو جہاں بچیوں کے فٹ بال کی اس قدر شاندار لیگ ہوتی ہو جس میں آٹھ سے دس ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ پاسو کے نوجوان خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے اپنی بیٹیوں کو شاندار مواقع دیے۔ پاسو کی صفائی سے وال چاکنگ کے خلاف مہم تک ، بجلی کے بحران پر احتجاج کرنے سے ماحولیات کے مسائل پر شعور اجاگر کرنے تک ۔۔۔پاسو کے نوجوانوں کا ہر عمل قابل ستائش ہے۔
یہ نوجوان جہاں بہت کچھ کرنے کا عزم لیے عملی میدان میں توانائیاں بروئے کا ر لا رہے ہیں وہاں بہت سے محاذوں پر انہیں شکست کا بھی سامنا ہے۔ مثال کے طور پر دنیا بھر کے سیاحوں کے مرکز پاسو بالخصوص اور اپر ہنزہ بالعموم کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہاں وال چاکنگ بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن پاسو کے نوجوان ، کمرشل ازم کی اس طاقتور لہر کے آگے بے بس ہیں۔ ہاں حکومت کا کوئی ادارہ ان نوجوانوں کا ہاتھ پکڑ لےتو انہیں کامیابی مل سکتی ہیں لیکن کیاوال چا کنگ جیسا ”نان ایشو” کسی طور بھی ہمارے کسی حکومتی ادارے کی ترجیح ہو سکتا ہے؟
سخی آصف جیسا پاکستانی میں نے کم ہی دیکھا ہے جو صرف پاکستان سے ایمان کی حد تک محبت ہی نہیں کرتا بلکہ صبح سے شام تک اپنے خوابوں کے غباروں کو بیچنے کے لیے مزدوری بھی کرتا ہے۔ بہت سے اچھے کاموں کی تکمیل میں سخی آصف کو چیلنجز کا سامنا رہا۔ کسی جھوٹے معاشرے میں سچ بولنے والا شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ بددیانتی اکثریت میں دیانت اذیت ناک تنہائی کا شکار رہتی ہے۔
سخی آصف کو کینڈا کی آفر ملی۔ میں اس کی اس دیانت کی اذیت ناک تنہائی سے گھبرایا ہوا تھا۔ مشورہ دیا کینیڈا چلے جاؤ۔ کچھ پیسے کماؤ پھر یہاں آ کر کام کرو۔ تمہارے پاس کسی طرح کی طاقت نہیں ہے محض ایک سرگرم کارکن ہونا ہمارے جیسے معاشروں میں کافی نہیں ہوتا۔ جاؤ اس خوبصورت جوانی کو کینیڈا میں بسر کرو۔
لیکن سخی آصف نہیں مانا۔ وہ اس سچ و دیانت کی تنہائی والے کرب سے اب اس حد تک آشنا ہو چکا ہے کہ اذیت پسندی کی حدود چھونے لگا ہے۔ میں چپ کر گیا ۔ شاید میرے جیسے بزدل اور سیاست جیسے مقدس میدان سے وابستہ کارکن و رہنما کی دلیری میں یہی توفرق ہوتا ہے۔ سخی آصف ایک پیارا پاکستانی ہے۔وہ پاسو اور پاکستان کی محبت سے شرابور ہے۔
وہ اپنے خوابوں کو بیچنے کی مزدوری کرتا رہے گا۔ ہمارے جیسے خوابوں کی پوٹلی کو کہیں رکھ کر بھول جائیں گے اور دنیا کمانے کی دوڑ میں ہانپتے رہیں گے۔
کسے خبر۔۔۔جیت کس کی ہوتی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 160 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik