بیجنگ سے دو شکایتیں – مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیجنگ سے دو شکایتیں تھیں، ایک سردی جعلی ہے اور دوسرے کافی پینے کا سلیقہ نہیں۔ سردی کا گلہ تو بیجنگ نے ایسے دور کیا ہے کہ چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں۔ چنگ شا سے جب جہاز بیجنگ میں لینڈ کیا تو ایسے لڑکھڑایا جیسے فلموں میں ہیرو محبوبہ کی بے وفائی پر شراب پی کر لڑکھڑانے کی ایکٹنگ کرتا ہے، وجہ بیجنگ کی تیز ہوا تھی، بیجنگ میں چاہے سورج نکلا ہو مگر جب ہوا چلتی ہے تو دو منٹ کھڑے رہنا محال ہو جاتا ہے، لگتا ہے جیسے ٹھنڈ ہڈیوں کے اندر گھس رہی ہو۔

رات کومیں فقط کوٹ پینٹ پہن کر ہوٹل سے نکلا، ارادہ تھا کہ کھلی ہوا میں چہل قدمی کروں گا، ابھی چار قدم بھی نہ چل پایا تھا کہ جیک لنڈن کا افسانہ To build a fireیاد آ گیا، الٹے قدموں واپس ہو لیا، کچھ دیر اور باہر رہتا تو چینیوں نے مجھے ”ممی“ بنا کر ہنوط کر لینا تھا۔ چنگ شا میں ہمارے گائیڈ مسٹر رے نے بتایا تھا کہ کچھ چینی لوگ اِس موسم میں خود کو گرم رکھنے کے لیے کتے کا گوشت نہایت رغبت سے کھاتے ہیں اور وہ یہاں کافی مہنگا ہے۔

کتے ہمارے ملک میں بکثرت پائے جاتے ہیں مگر شاید وہ چین کو ایکسپورٹ کرنے کے قابل نہیں، کیونکہ بھونکتے بہت ہیں جبکہ چین میں بھونکنے پر پابندی ہے۔ بیجنگ سے کافی کا گلہ بھی کسی حد تک دور ہو گیاہے، ایسا نہیں کہ یہاں کافی نہیں ملتی یا مشہور کافی چینز نہیں ہیں، سٹار بکس سے لے کر کوسٹا سب ہیں مگر جو قوم جگ میں لسّی کی طرح کافی سرو کرتی ہواُسے کیا سمجھائیں کہ کافی صرف مشروب نہیں اس کے لیے ایک ماحول بھی ہونا چاہیے، جس طرح یورپ میں سڑک کے کنارے خوبصورت کیفے میں بیٹھ کر آپ کافی انجوائے کر سکتے ہیں وہ ماحول مجھے بیجنگ میں نظر نہیں آیا اور اگر کہیں یہ ہے تو کم از کم فدوی اس سے محروم رہا۔

بہرحال جو بھی ہو اب بیجنگ مجھے اور میں بیجنگ کو کچھ کچھ پسند آ گیا ہوں، اُبلی ہوئی مچھلی اور نوڈلز کھا کھا کر میری شکل چینیوں سے ملنے لگی ہے، بات بات پر نی ہاؤ کہتا ہوں، اور اب تو سوچ رہا ہوں کیوں نہ چین کی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو جاؤں۔ یہاں ایک کروڑ لوگ اِس پارٹی کے رکن ہیں، یہ نظریاتی کارکن ہیں اور اِن کے عہدے حکومت کے ہر کارخانے، کمپنی، دفتر، کارپوریشن حتّیٰ کہ فوج میں بھی ہیں۔ سیاسی طور پر کمیونزم کا ماڈل یہاں مغربی جمہوریت کا متبادل ہے جسے لوگوں نے بظاہر قبول کر رکھا ہے مگر مجموعی طور پر چین سرمایہ دارانہ نظام میں رنگ چکا ہے۔

مسلمان اقلیتوں کو یہاں واقعی بہت مشکلات کا سامنا ہے، ایک عام چینی باشندے کو پاسپورٹ لینے میں زیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا مگر سنکیانگ کے مسلمان کے لیے پاسپورٹ کا حصول آسان نہیں، اکثر و بیشتر اِن پر مظالم کی خبریں عالمی میڈیا میں آتی رہتی ہیں جن کا چینی اخبارات میں شائع ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہانگ کانگ، تائیوان اور مکاؤ سے چین کے تعلقات کی نوعیت بہت دلچسپ ہے، ہانگ کانگ والے تو خیر اب چین سے آزادی چاہتے ہیں جو شاید ممکن نہ ہو، تائیوان کو چین اپنا صوبہ سمجھتا ہے جبکہ مکاؤ کا بھی ویزہ چین سے علیحدہ ہے اور ہانگ کانگ کی طرح یہاں قانون بھی مختلف ہے، لیکن ایک بات طے ہے کہ ہانگ کانگ کی بڑی کمپنیاں ہوں یا مکاؤ کے جوئے خانے، سب چکا چوند چین کے دم سے ہے، اگر چینی ارب پتی یہاں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو ان ممالک کی معیشت چار دن نہ نکال سکے۔ ہانگ کانگ کی معیشت کو حالیہ ہنگاموں سے خاصا نقصان پہنچا ہے مگر اپنی آزادی کی یہ قیمت چکانے کے لیے ہانک کانگ والے تیار نظر آتے ہیں۔

بیجنگ میں ہوتے ہوئے پرل مارکیٹ جانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا دیوار چین دیکھنا، آپ بے شک قسم کھا کے جائیں کہ کوئی خریداری نہیں کرنی پھر بھی یہاں کی سیلز گرلز آپ کو دو چار سو کی چیز بیچ ہی دیں گی، یہ سیلز گرلز ہزار یوان سے چیز کی قیمت شروع کرتی ہیں اور پھر کیلکولیٹر آپ کو تھما کے کہتی ہیں ”یو ٹیل، وٹ از یور پرائس“۔ اس کے بعد بھاؤ تاؤ کرتے کرتے ہزار کی چیز ڈیڑھ سو میں دے دیتی ہیں اور ساتھ ہی برا سا منہ بنا کے کہتی ہیں ”یو آر نو گڈ، آ میک نو پرافٹ“۔

اس سودے بازی کے دوران وہ آپ کو دکان سے باہر قدم نہیں رکھنے دیتیں اور تقریباً دس مرتبہ ایسا مرحلہ آتا ہے جب وہ کہتی ہیں ”اوکے، فائنل پرائس، ٹو ہنڈرڈ، یس اور نو“! دکان داروں سے سودے بازی امریکہ اوریورپ میں بھی ہوتی ہے مگر جو کمال کی سیلز مین شپ اِن لڑکیوں کی ہے وہ میں نے کہیں اور نہیں دیکھی۔ سفر دراصل اپنے اپنے تجربے کا نام ہے، ہمیں کسی ملک میں کوئی باتونی ٹیکسی ڈرائیور مل جائے تو کہتے ہیں اِس ملک کے لوگ بہت باتونی ہیں، کہیں کوئی عورت فلرٹ کرے تو کہیں گے یہاں کی عورتیں عاشق مزاج ہیں اور کہیں کوئی سیلز مین دھوکہ دے تو پورے ملک پر لیبل لگا دیں گے کہ یہاں کے لوگ بے ایمان ہے۔

یہ بات یہاں کے یونیورسٹی پروفیسروں سے ملاقات کے دوران یاد آئی، اِن پروفیسروں سے مل کر احساس ہوا کہ وہ کو ئی بہت زیادہ جینئس نہیں، انگریزی میں اظہار بھی اِن کے لیے ایک مسئلہ ہے لیکن جس موضوع پر بھی انہوں نے رائے زنی کی توایسے کوئی موتی نہیں بکھیرے کہ چُننے کی ضرورت پیش آ تی۔ مگر وہی بات کہ اتنے بڑے ملک کے دو چار پروفیسروں سے مل کر یہ تاثر بنانا درست نہیں، آخر چینیوں کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اوراُن کی جامعات کی عالمی درجہ بندی بھی ہم سے بہتر ہے۔

یہ بات بھی ہم نے فرض کر رکھی ہے کہ چین میں چونکہ لیبر سستی ہے اِس لیے ہم عالمی منڈی میں اُن کا مقابلہ نہیں کر پاتے، حقیقت یہ ہے کہ ہم سے زیادہ سستی لیبر کہیں نہیں، مصیبت مگر یہ ہے کہ لیبر ہنر مند نہیں، آپ ایک کارخانہ چین میں لگائیں اور ایک پاکستان میں، ایک جیسی مشینری ہو، ایک ہی مالک، مگر لیبر کی نالائقی کی وجہ سے پاکستانی کارخانے کی پیداوار چینی کے مقابلے میں کہیں کم ہو گی۔ دراصل انسانوں کی زندگی میں تبدیلی کا ایک لمحہ آتا ہے جسے ہم tipping pointکہتے ہیں، یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب مسلسل جدو جہد کے بعد کوئی شخص کامیابی کی لکیر یوں پار کر لیتا ہے کہ زندگی کے نارمل فکر و غم سے آزاد ہو جاتا ہے، اسی طرح قوموں کی زندگی میں بھی ایسا ہی تبدیلی کا لمحہ آتا ہے جب انہیں ترقی کا گئیر لگتا ہے، چین کو یہ گئیر 1978 میں لگا، ہم ابھی تک گاڑی بھی سٹارٹ نہیں کر پائے ہیں۔

بیجنگ کے کئی رنگ ہیں، اگر آپ زیدان کے علاقے میں نکل جائیں تو یوں لگے گا جیسے امریکہ کے کسی بڑے شہر میں آ گئے ہوں، وہی چکا چوند وہی چہل پہل، ڈاؤن ٹاؤن کی وہی رونق اور اگر تیامن اسکوائر کی طرف چلے جائیں تو بیجنگ کا کرو فر اپنے عروج پر نظر آئے گا، اُس کی پانچ ہزار سال کی تاریخ سمٹ کر آپ کی آنکھوں کے سامنے آ جائے گی۔ مگر اپنے تمام کروفر، تاریخ اور ثقافت کا مرکز ہونے کے باوجود بیجنگ میں آپ کو مغربی ممالک کے سیاحو ں کی وہ چہل پہل نظر نہیں آتی جس کا یہ شہر مستحق ہے اور اِس کی بنیادی وجہ غالباً زبان اور انٹر نیٹ کی بندشیں ہیں، آج کل کا سیاح ائیر بی این بی، اوبر، ہوٹل ڈاٹ کام، سکائی سکینر اور گوگل مترجم کے بغیر دو قدم نہیں چلتا۔ بیجنگ میں پت جھڑ کے بعد اب جاڑے کا موسم ہے، درختوں کی شاخیں ٹنڈ منڈ ہو چکی ہیں، بہار میں یہ یہاں پھر رنگ بھر جائیں گے، ایک ہم ہیں، برسوں سے ایک ہی موسم میں جی رہے ہیں!

(ہم سب کے لئے خصوصی طور پر ارسال کیا گیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 36 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada