عبدالسلام کی بچی اٹلی نہ جا سکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انہیں میں نے انٹرنیشنل فارمرز مارکیٹ میں دیکھا۔

انٹرنیشنل فارمرز مارکیٹ بہت بڑی دکان ہے، یہاں زندہ مچھلی سے لے کر ہر قسم کا گوشت ہر قسم کے لوگوں کے لئے اور دنیا بھر میں اُگنے والی ہر طرح کی سبزی، دنیا کے ہر ملک نسل اور اقوام کے مصالحہ جات اور تقریباً ہر قسم کے پھل ملتے ہیں۔ اُس دکان کے ایک طرف سے دوسری طرف جانے میں تقریباً گھنٹہ لگ جاتاہے۔ پورے کا پورا علاقہ مصنوعی طور پر ٹھنڈا رکھا گیا ہے تاکہ کوئی بھی چیز خراب نہ ہو۔ ایک وقت میں ہزار وں آدمی اس بڑی سی فارمرز مارکیٹ میں خریداری کرسکتے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزیں مصالحہ جات، پھل، سبزی اور چین سے لے کر برما، پاکستان سے لے کر ویتنام، عربستان سے شمالی امریکہ اور روس سے لے کر انگلستان تک کی چیزوں کی خوشبوؤں کی وجہ سے ایک عجیب قسم کی ملی جلی خوشبو ساری مارکیٹ میں پھیلی رہتی ہے۔

مارکیٹ انٹرنیشنل ہے تو لوگ بھی انٹرنیشنل ہی نظر آتے ہیں۔ چینی، کورین، بھارتی، برمی، بنگالی، اسپینی، ترک، عربی اور نہ جانے کہاں کہاں کے لوگ اپنے اپنے ملکوں کے کپڑے پہنے ہوئے اپنے ملکوں کی چیزوں کی خریداری کرنے آتے ہیں۔ ایک طرح سے میلہ سا لگا رہتا ہے یہاں پر۔ کسی ایک جگہ پر کھڑے ہوکر اگر لوگوں کو دیکھا جائے، ان کی باتیں سنی جائیں تو ایک عجیب طرح کے قوس قزح کا منظر ہوتا ہے۔ مختلف زبانیں مل کر مزید مختلف ہوجاتی ہیں۔ طرح طرح کے کپڑوں کا امتزاج نئے رنگ بکھیرتے ہیں اور لوگوں کے ملنے جلنے سے ایک بین الاقوامیت کا احساس ہوتا ہے۔

میں پالک، لہسن، مولی، لیمو اور مرچیں لے کر جلدی جلدی ٹل کاؤنٹر کی طرف گیا تاکہ رقم ادا کرکے باہر نکلوں تو مجھے وہ نظر آگئیں۔ مجھے ایسا لگا کہ میں نے انہیں کہیں دیکھا ہے اور بہت دیکھا ہے۔ لیکن باوجود کوشش کہ میں انہیں پہچان نہیں سکا۔ وہ میرے سامنے والے دوسرے کاؤنٹر پر ٹل مشین پر بیٹھی ہوئی تھیں اور جو لوگ پیسے ادا کررہے تھے ان سے رقم کی وصولی کرتی جارہی تھیں، اپنے کام میں مکمل طور پر منہمک۔

شکل بہت زیادہ جانی پہچانی ہونے کے باوجود میری یادداشت اپنے تمام تر کوششوں کے باوجود انہیں اُبھار کر سامنے نہیں لاسکی۔ جانی پہچانی شکل مگر کہاں دیکھی تھی میں نے۔ مجھے یاد نہیں آیا وہ تھیں تو کوئی پاکستانی ٹائپ کی خاتون یا ہندوستان کی ہوں گی۔ انہوں نے فارمرز مارکیٹ کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ میں انہیں گھورتا ہوا، اسٹور سے باہر نکل کر برفباری میں چلتا ہوا اپنی کار میں آبیٹھا۔ گاڑی کے انجن کو اسٹارٹ کرنے کے بعد سے ہی وہ خاموشی سے میرے ذہن کے پردے سے فضا میں کہیں تحلیل ہوگئی تھیں۔

رات کو پاکستانی ٹیلی ویژن پر خبریں دیکھ رہا تھا کہ خبرنامے میں لاہور میں کسی بم کے دھماکے کی خبر آئی۔ خبریں دینے والا نیوزکاسٹر لاہور کی سڑکوں گلیوں سے کیمرہ گھماتا ہوا بتارہا تھا کہ کس طرح سے پنجاب یونیورسٹی سے طلباء کا جلوس نکلا اور جلوس کے آگے جانے والی ایک کار خودکش دھماکہ کرنے والے کے ساتھ پھٹ گئی، تینتالیس انسانی جانیں ضائع ہوگئیں تھیں اور دو سوسے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔ یہ سناتے ہوئے کیمرہ پنجاب یونیورسٹی کی عمارت کو فوکس کررہا تھا کہ دھڑاک سے ان کا چہرہ وارد ہوا اور سامنے آکر میرے ذہن کے پردے پر چھاگیا۔ مجھے یاد آگیا کہ وہ پروفیسر لطف النساء تھیں، پنجاب یونیورسٹی میں تاریخ کی اُستاد۔ وہ ہمارے زمانے میں طلبا میں بہت مقبول تھیں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ میں انہیں اس وقت کیوں نہیں پہچان سکا۔ ان میں تبدیلیاں آگئی تھیں اور فارمرز مارکیٹ کے لباس میں وہ مختلف لگ رہی تھیں لیکن پھر بھی مجھے پہچاننا چاہیے تھا۔

انسانی ذہن بھی کیا چیز ہے۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کا ذہن کسی صاف ستھرے سلیٹ کی طرح بالکل ہی سادہ ہوتا ہے، مکمل طور پر اَن لکھا۔ پھر اس سلیٹ کے اوپر حالات اپنے چاک سے الفاظ، واقعات، تصاویر، عادات، اطوار، اعتقاد، اقدار، رسم و رواج، صحیح، غلط، انصاف، بے ایمانی، شرافت، انسانیت، حیوانیت سب کچھ لکھتے جاتے ہیں اور اس بڑی ساری سلیٹ پر یہ ساری صحیح غلط، اچھی بُری، پسندیدہ ناپسندیدہ معلومات آہستہ آہستہ جذب ہوتی رہتی ہیں۔ زندگی کے ابتدائی سال میں بنے ہوئے یہ نقوش ہی انسان کو اچھا برا بناتے ہیں، اس کے اعتقادات کی چادر کو پھیلاتے ہیں، اس کے رجحان کو متعین کرتے ہیں، اس کی زندگی کی راہوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہی سب کچھ اس کے یادداشت میں محفوظ ہوتا ہے اور اس کی بنیاد پر اس کی زندگی کی ترتیب و تنظیم ہوتی ہے۔

پروفیسر لطف النساء جو میرے یادداشت کے پردے پر کہیں خاموشی سے جذب ہوگئی تھیں جنہیں پہلی نظر میں میں نے پہچان تو لیا مگر انہیں فوراً ہی کوڑ کھود کر اپنے دماغ کے اندرونی پرتوں سے اوپر نہیں لاسکا تھا۔

اسی شام ٹیلی ویژن پر پنجاب یونیورسٹی کی تصویر کے ساتھ وہ دھڑاک سے میرے ذہن کی اسکرین پر اپنے نام خاندان اور اس بیٹی کے ساتھ آگئی تھیں جس سے ملے ہوئے، جس کو دیکھے ہوئے اور جس سے بچھڑے ہوئے تیس سال سے زائد ہوگئے تھے۔ تیس سال کے تھپیڑوں نے ان کی بھی شکل بدل دی تھی اور میں سوچتا رہ گیا تھا کہ اس عمر میں وہ ٹل کے پیچھے خریداروں سے رقم وصول کرنے کے کام پر کیوں مجبور ہوگئی ہیں۔ یہ تو ان کی ریٹائرمنٹ تھی۔

انہیں تو کسی یونیورسٹی، کسی لائبریری میں بیٹھا ہونا چاہیے تھا تاریخ کی کسی گتھی کو سلجھانے کے لئے۔ یہ یہاں کیا کررہی ہیں۔ انٹرنیشنل فارمرز مارکیٹ میں ٹِل کاؤنٹر پر بیٹھی پیسے وصول کررہی ہیں۔ میں نے سوچا گرین کارڈ کی لعنت بھی کیا لعنت ہے۔ دورِ حاضر میں غلامی کا یہ دستاویز انسانوں سے کیا کیا نہیں کراتا ہے۔ امریکہ میں گرین کارڈ غلامی کی دستاویز بھی ہے اور آزادی کا پروانہ بھی تب ہی تو لوگ ساری دنیا سے کشاں کشاں اس کارڈ کو حاصل کرنے کے لئے جوق در جوق امریکہ آتے ہیں۔

دوسرے دن میں خاص طور پر ان سے ملنے فارمرز مارکیٹ گیا مگر وہاں جا کر پتہ لگا کہ آج ان کی چھٹی ہے۔ میں مارکیٹ میں ایک چکر لگا کر واپس آگیا۔ مارکیٹ میں ہر نسل ہر قوم کے لوگ کام کرتے نظر آئے تھے، عام طور پر یہ وہ لوگ ہیں جو امریکہ مختلف اسکیموں کے تحت وارد ہوئے ہیں پھر کام دھام کی تلاش میں اس قسم کی مارکیٹوں میں کام کرتے ہیں۔ زندگی تو گزارنی ہوتی ہے۔ میں سوچتا رہا کہ پروفیسر لطف النساء کے کیا مسائل تھے کہ انہیں اس عمر میں اسٹور میں کام کرنا پڑرہا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •