استاد شمّو خاں


چوک پر پہنچ کر شیخ جی ادھر ادھر پنجروں پہ نظر ڈالتے ہوئے بھیڑ بھڑکا میں کھو گیے۔ استاد شموخاں کے پاس سے گزرتے وقت انھوں نے نگاہ ان کے پنجرے پر اپنے کبوتروں کو بھانپنے کے لیے ڈالی اور دوسری نگاہ میں غیض و غضب سے خود استاد کے چہرے کو حقارت اور غصہ سے دیکھا پھر اپنے دوست فاضل خاں کے الفاظ یاد کرکے مسکرادیے۔ اتنے میں برابر سے حکیم نظیر آنکلے۔

”ارے میاں شیخ جی، آج تو تمہارے بہت سے کبوتر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کیا بات ہے؟ سب کے سب ہی گر گیے؟ “

”حکیم صاحب کی پوچھتے ہیں آپ۔ ذری دیر ہوئی کہ نئے پٹھے کھولے تھے۔ ایک آدھ ہی بھڑی دی ہوگی کہ وس۔ شمو خاں۔ “

”اوہو شیخ جی بڑا افسوس ہوا۔ آج تو استاد شموخاں نے آپ کادھڑ بٹھادیا۔ میاں ذرا ہلدی کا گھسادے کر چکنا وتو دو، پھر دیکھیں گے۔ کیسے گرتے ہیں۔ “

برابر سے آکر بابو اکرام الدین نے شیخ جی کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا اور اظہار افسوس کرنے لگے۔ شیخ جی ان باتوں سے زمین میں گڑے جاتے تھے۔ غصہ سے سرخ ہوگئے، ”اجی حکیم صاحب میں نے کیا یہ کس طریوں کی کبوتر بازی ہے؟ کوئی وخت بھی تو ایسا نہیں ہوتا کہ نئے پٹھوں کو بھی چکر دے سکیں۔ اجی یہ بھی کوئی بات چیت ہے، وس حرام زادے۔ “

”ارے میاں شیخ جی ذری اس خالی پٹھے کا ملیائزا کرنا کیا پھڑکتا ہوا جناور ہے۔ “

بھیڑ میں سے دھکاپیل کرتے ہوئے صدیق بہشتی نے آکر کبوتر والا ہاتھ شیخ جی کی طرف بڑھایا۔ اور ذرا گردن ٹیڑھی کرکے شیخ جی کی آنکھوں کو دیکھنے لگا، جو کبوتر میں گڑی ہوئی تھیں۔ شیخ جی نے کبوتر کی گردن مروڑی، سینہ پکڑ کے اس کو پھڑپھڑایا، پرکھولے، ٹانگیں دیکھیں، چونچ کامعائنہ کیا۔ اور حکیم صاحب کی طرف بڑھا دیا۔ انھوں نے بھی بے چارے کی اسی طرح درگت بنائی۔ پھر کبوتر بابو اکرام الدین کے ہاتھوں میں پہنچا۔ غرض کہ بڑی دیکھ بھال کے بعد کبوتر پھر شیخ جی کے پاس واپس آیا۔

”بھئی پٹھا تو خوب ہے۔ “

”ارے یار کس کا مارا؟ “ شیخ جی نے بڑے استعجاب سے پوچھا۔

”اجی کیا پونچھوں ہو آپ۔ “ اور پھر شیخ جی کے منہ سے منہ لگا کر کہا، ”استاد شمو خاں کا۔ “

”اہا۔ اجی بابو جی آج تو بڑے موذی کا پالا مار لیا! اچھا یار کن داموں کا ہے؟ “

صدیق بہشتی بولا، ”اجی شیخ جی کدھری آپ سے بھی کوئی نریالی بات ہوسکتی ہے۔ جو خوشی ہو لیکن ابھی ابھی کلن ایک دھیلی دے ریا تھا۔ “

”اچھا یار اب تو ملاجی کے پنجرے میں چھوڑدے۔ دام پھر دیکھے جائیں گے۔ “

صدیق بہشتی بہت خوش خوش ملاجی کے پنجرے کی طرف چل دیا۔ ادھر سے اس کا دوست کلن آنکلا، اور بولا، ”ارے یار باشا سودا تو خوب پٹایا۔ “ اور اس نے صدیقی کے کندھے پر ایک تھپڑ امارا۔

”ارے یارو کیا پونچھ ریے ہو۔ شیخ جی کی آنکھوں میں دھول ڈال دی۔ پٹھا ون ہی کا تھا۔ استاد شموخاں کی ٹکڑی میں سے کٹ کر بھٹک رہا تھا۔ میں نے جو اپنے قبوتروں کو پھڑکایا تو سالہ گولے کی طرح یوں گر پڑا۔ اور اللہ یانے شموخاں کا کہہ کہ ون ہی کے متھے دے پٹخا۔ “ یہ کہہ کر صدیق نے زور سے کلن کی پیٹھ پر ہاتھ مارا کہ وہ اچھل گیا۔ ”وا باشا خوب چونا لگایا۔ “ اور دونوں بڑے زور سے ہنستے ہوئے آگے بڑھ گیے۔

محلہ میں پہنچ کر شیخ جی بجائے سیدھے گھر جانے کے شیخ محمد صادق کے ہاں پہنچے۔ اور چھوٹتے ہی ان کو اپنی وہ گفتگو سنائی جو فاضل خاں سے استاد شموخاں کے بارے میں ہوئی تھی۔ پھر کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرکے اپنے گھر واپس آگیے۔ کچھ ہی روز کے عرصہ میں استاد شموخاں اور بدھو کے بارے میں چہ می گوئیاں ہونے لگیں لیکن لوگوں نے اس بات کی کوئی خاص پروا نہیں کی۔ استاد بہت ہردلعزیز تھے، اور لوگ جو شموخاں کے سے موقعہ کی تلاش میں رہتے تھے، یہ سب باتیں سن خاموش ہو رہے۔

مگر شیخ نورالدین الہی اسی تاک میں تھے کہ موقع پاکر استاد شمو خاں کو نیچا دکھائیں، اور بھرے بازار میں ذلیل کریں۔ اس تگ و دو میں وہ اپنی صید کو بھی بھول گیے۔ اس خوشی اور امید میں کہ ایک نہ ایک روز وہ استاد شموخاں سے بدلہ لے ہی لیں گے وہ ذرا اور اکڑ کر چلنے لگے۔ وہ اس خیال کو بھی نہیں بھولے تھے کہ میرسعد اللہ سے اس بات کا تذکرہ کردینا ضروری ہے۔ ایک روز اس بات کا موقعہ بھی ہاتھ آ گیا چنانچہ رات کے کوئی نو بجے شیخ جی حیران و پریشان میر صاحب کی بیٹھک میں پہنچے۔

”السلام علیکم۔ “

”وعلیکم السلام شیخ جی۔ بہت دنوں سے تشریف لائے۔ مزاج تو اچھے ہیں۔ “

”آپ کی مہربانی ہے۔ ذری کاروبار سے فرصت نہیں ہوئی۔ “

کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد بولے، ”اجی میر صاحب وس شموخاں نے تو حریان کر رکھا ہے۔ آج شام کو میں ذری یادگار توڑی چلا گیا تھا کہ میرا ایک بھٹکاوا قبوتر آن نکلا۔ گھر میں سے نیک بخت نے قبوتر کھول دیے کہ وتے میں صاحب وس شموخاں نے ایک پتھر میرے گھر میں پھینکا۔ اجی صاحب وہ تو بس بخیریت ہی ہوگئی نہیں تو وس قتل سے وس نیک بخت کا مغز ہی کھل گیا ہوتا۔ وہ بیچاری بک بول کر چپ کرگئی اور اس پر اور سنیے۔ اب تو ہماری بہو بیٹیوں کی آبرو کا بھی کچھ ٹھکانہ نہیں۔ آپ کے بھی شاید گوش گذار ہوا ہو کہ وس شموخاں کی وس بدھو درگی چماری کی لڑکی سے آشنائی ہے۔ اب کہیے؟ “

لیکن میر صاحب بولے، ”شیخ صاحب اپنے فعل اپنے ساتھ ہیں۔ آپ کیوں کسی کو کانٹوں میں گھسیٹتے ہیں؟ جو جیسا کرے گا ویسا بھرے گا۔ آپ شموخاں سے واسطہ ہی نہ رکھیے۔ “ شیخ جی بولے، ”اجی صاحب یہ تو جو کچھ بھی آپ عرض کرتے ہیں ٹھیک عرض کرتے ہیں۔ لیکن میں تو یہ فرماتا ہوں کہ وتی دور کیوں جائیے۔ یہیں سے لے لو۔ جیسے وہ مثل مشہور ہے جو آپ نے بھی سنی ہوگی۔ کہ ایک مچھلی سارے تلاؤ کو گندا کردیتی ہے۔ تو بس یہ ہی بات چیت ہے۔ اور وس حرام زادی لمڈیا کے ماں باپ بھی کچھ نہیں بولتے صاحب تو وہ سارے لمڈوں کو خراب کرویگی۔ وسکی تو چٹیا پکڑکر بارہ پتھر باہر پھنکوانا چاہیے۔ “

اس گفتگو کے بعد شیخ جی کچھ میر صاحب سے برگشتہ خاطر ہوگیے۔ اور خود ہی استاد شموخاں کی تذلیل کے موقع کی تلاش میں رہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3