استاد شمّو خاں


Delhi Street Scene – 1875

اپریل کا مہینہ تھا۔ اور گرمی روزبروز زور پکڑی جاتی تھی۔ گرمیوں کی دوپہر میں ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ ایک مستی اور نفسانیت، ایک گہرا نفسانی جذبہ انسان کے سارے جسم میں سرایت کرآتا ہے۔

استاد شموخاں اپنی دوکان میں بیٹھے ہوئے جوان کے گھر ہی کا ایک کمرہ تھا، ورق کوٹ رہے تھے۔ گلی کے نکڑ سے ایک ٹین والے کے ٹین پیٹنے کی آوازمتواتر اور یکساں چلی آرہی تھی۔ دور سڑک پر ٹریم کی ہموار اور کوفت دہ گھڑگھڑاہٹ بار بار ہوتی تھی۔ کچھ اور شور و شغب اور سودے والوں کی مسلسل آوازیں ایک یاس اور نا امیدی کا ساسماں پیدا کر رہی تھیں، ایک ایسی مسلسل ہمواری کا جو گرمیوں کے دنوں کی ایک خاص چیز ہوتی ہے جس کا منجمد سلسلہ صرف انسان کے نفسانی خیالات کو اور بڑھا دیتا ہے۔

ایسے حامل وقت میں جب کہ ذرا سے اشارہ سے انسان کے خیالات آگ کی طرح بھڑک اٹھتے ہیں۔ بدھو کی جھلکتی استاد شموخاں کے لیے وبا کا کام کر گئی۔ لپک کر استاد شموخاں نے آدھے بند کواڑوں کو کھولا اور گردن باہر نکال کر جھانکنے لگے۔ جب انھوں نے ادھر ادھر نگاہ دوڑا کے دیکھ لیا کہ کوئی نہیں ہے۔ تو اشارہ سے بدھو کو بلایا، چٹ بڑھ کر اپنے بیٹھنے کے گدے کے نیچے سے ایک اٹھنی نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھی۔ اور اسے سامنے والے گودام کی طرف اشارہ کیا جو خالی پڑا ہوا تھا۔ اور جس میں استاد شموخاں صبح کو کسرت کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنا گھر کا سلاہوا بنیان پہنا، اور اپنی تہبند کو سنبھالتے ہوئے دوکان میں سے نکلے اور کواڑ بند کرنے لگے۔

اتفاق کو انسان کی زندگی میں بڑا دخل ہے اور اکثر اس کی تمام کوششوں اور تدبیروں پر پانی پھیر دیتا ہے۔ اتفاق میں بڑے کمال کی بات یہ ہے کہ وہ ہر کسی شکل میں آموجود ہوتاہے، اور اس دوپہر کو جب بدھو سڑک کو پار کر رہی تھی، اور استاد شموخاں ایک ہاتھ اپنے تہبند پر رکھے ہوئے اپنی دوکان کے کواڑ بھیڑ رہے تھے تو شیخ نورالدین الٰہی اتفاق کی صورت اختیار کیے گلی کے نکڑ پر نمودار ہوئے۔ جیسے ہی انھوں نے اپنی نگاہ کے سامنے استاد شموخاں اور بدھو دونوں کو دیکھا تو وہ ٹھٹکے اور ایک مکان کی آڑ میں ہوکر یہ دیکھنے لگے کہ اب یہ دونوں کیا کرتے ہیں۔

جب انھوں نے دیکھ لیا کہ پہلے بدھو اور اس کے پیچھے پیچھے استاد شموخاں خالی گودام میں داخل ہوئے تو بغیر کچھ اور دیکھے بھالے شیخ جی پنجوں کے بل بھاگتے ہوئے ایک اور گلی میں غائب ہوگئے۔ انھوں نے اپنے دوست شیخ محمد صادق کے کارخانہ میں دم لیا۔ جہاں اتفاق سے مرغوں کا کارخانہ گرمی پہ تھا۔ شیخ نورالٰہی کی سنسنی خیز خبر سن کے سب۔ شیخ جی کی رہبری میں مقام کا رزار کی طرف بولائے ہوئے روانہ ہوگیے۔ جلدی میں ایک صاحب کی بغل میں ایک اصیل مرغا دبا چلاآیا۔ وہ تھوڑی دور چلے تھے کہ مرغے نے زور سے ایک قیں کی۔ بس بے چارے مرغ کی آواز نکلنے ہی کی دیر تھی کہ شیخ جی فوراً پلٹ پڑے اور بہت نیلے پیلے ہوکر بولے :

”میاں تمہاری عقل بھی درست ہے۔ ابھی سارا کھیل بگڑ گیا ہوتا آیا کہیں کا مرغ باز۔ “

”ابے کیا کہا؟ آتو ذری میدان میں! “

اور یہ کہہ کر شیخ جی نے آستینیں چڑھانی شروع کردی۔ وہ تو خیرگزری کہ شیخ محمد صادق ان کے ساتھ تھے۔ انھوں نے دونوں کو ذرا ٹھنڈا کیا اور بیچ بچاؤ کرایا، نہیں تو سرپھٹول ہی کی نوبت آتی۔ اس کے بعد ساری ٹولی پنجوں کے بل خالی گودام کی طرف اس طرح بڑھی جیسے کوئی شکاری بڑی احتیاط سے اپنے شکار کی طرف بڑھتا ہے۔ وہ اتنے چپکے چپکے چل رہے تھے کہ ان کے دلوں کے دھڑکنے کی آواز دھائیں دھائیں سنائی دیتی تھی۔

گودام کے نزدیک پہنچ کر سب نے کواڑوں پر کان لگاکے سننے کی کوشش کی۔ لیکن شیخ جی نے سب کو اپنے ہاتھوں سے پیچھے ہٹایا اور آنکھیں نکال کر انگلی کے اشارے سے سب کو چپ کرانے لگے۔ ادھر لوگ سننے کے اس قدر مشتاق تھے کہ سب کے سب کواڑوں کی طرف بڑھے آتے تھے۔ بڑی مشکل سے شیخ جی نے ان سب کو ایک کونے میں چپکا کر کے کھڑا کردیا۔ لیکن ان کی بیتاب نگاہیں کواڑوں پر گڑی ہوئی تھیں۔ اب شیخ جی کان لگا کر سننے لگے۔ گلی کے نکڑ سے ٹین پٹنے کی آواز آرہی تھی۔ دور سڑک پر ٹریم کی گھڑ گھڑ اور سودے والوں کی آوازیں چلی آ رہی تھیں، اندر ایک سر سر کی سی آواز کے علاوہ کچھ نہ سنائی دیتا تھا۔

جب شیخ جی کو کوئی بات بھی صاف نہ سنائی دی تو اس قدر بیتاب ہوئے کہ انھوں نے گودام کے کواڑوں کو دھکادے دیا۔ جو اتفاق سے استاد شموخاں اندر سے بند کرنا بھول گیے تھے۔ کواڑ چوپٹ کھل گیے اور سب کے سب ایک دم سے آگے بڑھے۔ سامنے استاد شموخاں سینہ نکالے کھڑے تھے۔ شیخ نورالدین الٰہی کا مسخ چہرہ خوشی سے سخت ہو گیا۔

”کیا سالا ایڈی پولو بنا کھڑاوا ہے! “

”لیکن وہ کہاں ہے، ڈھنڈو؟ “

اور سب نے مایوسی اور غصہ سے شیخ جی کی طرف پلٹ کر دیکھا ایک آدھ نے گودام کے کونوں پر نظر ڈالی۔ لیکن بدھو کانام نشان بھی نہ تھا۔ شیخ جی شرم اور غصہ سے جل کر کباب ہوگیے۔

”حرام زادہ کسی طریوں بچ بھاگا۔ لیکن اگر توڑ نہ کیا ہو تو شیخ فضل الٰہی کا نہیں الو کا کہنا۔ “

استاد شموخان کے منہ سے ایک قہقہہ کی آواز بلند ہوئی۔ شیخ نورالہٰی کے پژمردہ چہرے سے ہوائیاں اڑ رہی تھیں لیکن زندگی اپنی پرانی رفتار سے اسی طرح بہتی رہی۔ وہی گلی کے نکڑ سے ٹین والے کے ٹین پیٹنے کی آواز آرہی تھی، وہی دور سڑک پر ٹریم کی گھڑ گھڑاور وہی سودے والوں کی آوازیں ایک یاس اور نا امیدی کا سماں پیدا کر رہی تھیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3