نواز شریف جہاز دیکھ کر ٹھیک ہو گئے: عمران خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیرِ اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ نواز شریف جہاز دیکھ کر ٹھیک ہو گئے۔ کیا لندن کی ہوا لگی تو ٹھیک ہو گئے؟ پہلی بار پتہ چلا کہ پلیٹ لیٹ بھی کوئی چیز ہے۔ جب میں نے نواز شریف کو جہاز پر چڑھتے دیکھا تو ڈاکٹر کی رپورٹ سامنے رکھ لی، جس میں لکھا تھا کہ اتنا برا حال ہے کہ مریض کبھی بھی مر سکتا ہے، میں نےکہا اللّٰہ تیری بڑی شان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا کہ نواز شریف کا علاج یہاں ہو ہی نہیں سکتا، رپورٹ میں 15 تو بیماریاں بتائی گئی تھیں، فضل الرحمٰن کے ہوتے ہوئے کسی یہودی سازش کی ضرورت نہیں ہے، عمران خان کرسی بچانے نہیں، تبدیلی لانے آیا ہے۔

میانوالی میں مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر ان سے ڈیل کرلوں یا چھوٹ دے دوں گا تو یہ ملک سے غداری ہو گی، یہ کیسز ہم نے نہیں بنائے، یہ ماضی کے کیسز ہیں، مشرف نے احتساب ختم کیا اور این آر او دے کر شریف خاندان کو باہر بھیج دیا، مافیا رہ گیا تو ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف جھوٹے منڈیلا ہیں، حسن 8 ارب روپے کے گھر میں رہتے ہیں، یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ اسحاق ڈار کے والد کی سائیکل کی دکان تھی وہ ارب پتی ہو چکے ہیں، 10 مہینے کے دوران عدالت میں جائیداد کی 60 دستاویزات پیش کیں، وہ جو بھی دستاویز رکھتے ہیں وہ جعلی نکلتی ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ کنٹینر پر بیروزگار سیاستداں موجود تھے، وہ لوگ اس خوف سے آئے تھے کہ ان کی سیاسی دکانیں بند ہونے جا رہی ہیں، کنٹینر پر چڑھے لوگوں کو معلوم تھا کہ انہیں کہیں نہ کہیں جا کر پھنس جانا ہے، کنٹینر پر موجود لوگ مک مکا کر کے ملک کو لوٹنے کا دور واپس لانا چاہتے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ مدارس کے بچے ہماری ذمہ داری ہیں، ہم ان کی مدد کریں گے، نظامِ تعلیم بہتر بنائیں گے، وہ چاہتے ہیں کہ پھر سے لوٹ مار کا وقت آ جائے، ڈاکوؤں کا مقابلہ کر کے دکھاؤں گا، سب سے پہلے کمزور طبقے کو اوپر لانے کی کوشش کریں گے، سب سے زیادہ پیسے کمزور طبقے اور کمزور لوگوں پر خرچ کرنے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ جو نظام اب ہم لا رہے ہیں وہ بلدیاتی ہے، بیرونی دنیا کی ترقی کی ایک بڑی وجہ زبردست بلدیاتی نظام ہے، جس کے بعد ہر صوبے میں ڈسٹرکٹ اور گاؤں کا پیسہ اسی صوبے، ڈسٹرکٹ اور گاؤں پر لگے گا، گاؤں کے لوگ فیصلہ کریں گے کہ اپنا پیسہ کہاں خرچ کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •