پارلیمانی نظام لپیٹنے کی تیاریاں شروع: صدارتی نظام کے لئے عوامی ریفرینڈم پر سنجیدگی سے غور: صابر شاکر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف صحافی صابر شاکر نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں پارلیمانی نظام حکومت ختم کر کے صدارتی نظام حکومت نافذ کرنے کیلئے سنجیدگی سے غور شروع کر دیا گیا ہے۔ دو تہائی اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت نے صدارتی نظام کے نفاذ کیلئے قانونی طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ عوامی ریفرنڈم کروائے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
صابر شاکر کا کہنا ہے کہ ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں صرف تب ہی ترقی ہوئی جب صدارتی نظام نافذ تھا۔ ملک میں رائج پارلیمانی نظام یہاں کبھی بھی عوام کیلئے کچھ نہیں کر سکا۔ صابر شاکر کا دعویٰ ہے کہ حکومتی حلقے صدارتی نظام کے نفاذ کیلئے قانونی آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اگر حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت ہو تو وہ آئین میں تبدیلی کر کے صدارتی نظام نافذ کر سکتی ہے۔ تاہم اس وقت حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ اس لیے دوسرے طریقہ کار پر غور کیا جا رہا ہے جس کے مطابق پارلیمنٹ میں صدارتی نظام کے نفاذ کیلئے قرارداد منظور کروائی جائے اور پھر بعد ازاں عوامی ریفرنڈم کے ذریعے اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے۔ اگر حکومت پارلیمنٹ سے قرارداد منظور کروانے میں کامیاب ہوتی ہے تو پھر عوامی رائے جاننے کیلئے ریفرنڈم کروانے کا قانونی راستہ صاف ہو جائے گا۔
عوامی ریفرنڈم میں عوام صدارتی نظام نافذ کرنے کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں تو حکومت کے لئے پارلیمانی نظام کو لپیٹ کر صدارتی نظام نافذ کرنے کا راستہ کلیئر ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ ملک میں پارلیمانی نظام کو ختم کر کے صدارتی نظام حکومت نافذ کرنے کی باتیں کافی عرصے سے ہو رہی ہیں۔ حکومت اس حوالے سے ہمیشہ تردید کرتی آئی ہے۔ تاہم اب یہ افواہیں زور پکڑنے لگی ہیں کہ واقعی ملک میں صدارتی نظام حکومت نافذ کرنے کیلئے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •