سلسلۂ خواب: قائد اعظم سے مولانا فضل الرحمٰن تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا پلان بی کی جانب مڑ گیا ہے مگر پلان اے کی آلائشیں اب تک سمیٹے نہیں سمٹ رہیں۔ یہ غالباً نہ صرف ملکی تاریخ بلکہ دنیائے عالم کا پہلا دھرنا تھا جس میں دھرنے سے اٹھ کر جانے والوں کو ”گناہِ کبیرہ“ کا مرتکب ٹھہرایا گیا۔ دھرنا ختم کرنے کے اعلان سے ایک روز قبل جب قائد جمعیت کی تقریر سے کارکنوں میں مایوسی و بددلی پھیلی اور وہ اُٹھ کر جانے لگے تو اسٹیج سے باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ جو قائد کے حکم کے بغیر واپس جائے گا، گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہو گا۔

اس کے علاوہ بھی اس دھرنے میں جابجا مذہبی کارڈ کی تکرار سنائی دی۔ دھرنے کے شروع کے دنوں میں ایک شخص کی وڈیو آئی جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ میں نے دو دن پہلے رات ساڑھے چار بجے خواب میں نبی کریمﷺ کو دیکھا لیکن شکل و صورت اور حلیہ وغیرہ سب مولانا فضل الرحمٰن کا تھا، اور وہ روئی ہاتھ میں لیے زمین پر موجود گند صاف کر رہے تھے۔ اس پر خاصی لے دے ہوئی، کچھ لوگوں نے اس شخص کو گستاخ کہا، کچھ نے اس عمل کو مذہب کا استعمال کہا۔

ابھی یہ معاملہ تھما ہی تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) سندھ کے سیکرٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف فرمایا کہ مجھے ایک شخص جو پیر ذوالفقار نقشبندی کا خلیفہ ہے، نے فون کیا کہ میں نے گزشتہ رات خواب میں سرکارِ مدینہ کی زیارت کی ہے اور آپﷺ نے فرمایا کہ فضل الرحمٰن کو میرا سلام کہنا۔ اس پر بھی مذہبی حلقوں کی جانب سے کافی تنقید سامنے آئی۔

اگر ان واقعات کو مدنظر رکھا جائے اور وجوہ تلاش کی جائیں تو ہر مذہبی تنظیم اور جماعت میں یہی کلچر نظر آتا ہے۔ تھوڑا پیچھے چلیں تو تحریک لبیک پاکستان کے مولانا خادم حسین رضوی کے دھرنے کے دوران بھی مفتی جمال الدین بغدادی کی وڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ یہ کہتے سنے گئے کہ میں نے خواب میں رسول اللہﷺ کی زیارت کی اور رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ خادم حسین رضوی میرا (سچا) عاشق ہے۔ دھرنے کے بعد مفتی صاحب نے اس کی یہ توضیح فرمائی کہ یہ خواب اگرچہ دھرنے سے قبل کا ہے مگر میں اپنی بات پر آج بھی قائم ہوں۔

انہی مفتی جمال بغدادی کو تحریک لبیک یا رسول اللہ (ڈاکٹر آصف اشرف جلالی گروپ) کی جانب سے دجال اور کاذب قرار دیا گیا اور مفتی جمال نے اس پر یہ ردعمل دیا کہ جو بھی ”یا رسول اللہ“ کا نعرہ لگاتا ہے، ہم اس کے ساتھ ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے معتقدین کو بھی ڈاکٹر جلالی کو جواب دینے سے سختی سے منع کر دیا۔

اس کے علاوہ ایک تقریر میں خود مولانا خادم حسین رضوی نے ایک بیان میں یہ واقعہ سنایا کہ میں سانگلہ ہل میں تقریر کر رہا تھا تو منظور شاہ صاحب (جو صاحبِ جذب ہیں )، جلسے کی صدارت کر رہے تھے، میں نے دورانِ تقریر شاہ جی سے پوچھا کہ شاہ جی خود رسول اللہ اس وقت کیا چاہتے ہیں کہ میری امت کیا کرے؟ جواباً شاہ جی نے فرمایا کہ اس وقت رسول اللہ خود بھی یہی چاہتے ہیں کہ میری امت ”لبیک“ کا نعرہ لگائے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا مشہورِ زمانہ خواب تو کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ مولانا شیخ مکی الحجازی (مدرس مسجد الحرام) سے اس حوالے سے سوال ہوا تو جواباً کہا کہ میری طاہر القادری سے ایک ملاقات ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ یہ تم نے کیا کیا تھا؟ اس نے کہا کہ میں نے تو جو خواب دیکھا تھا، وہ سنایا تھا، لوگوں نے پتا نہیں کیا بنا دیا۔ تو میں (مولانا مکی) نے کہا کہ تمھیں یہ خواب بیان نہیں کرنا چاہیے تھا۔

تبلیغی جماعت کے پاس جائیں تو وہاں بھی مولانا الیاس کاندھلوی کے ”خواب کے اشارے“ کی بنیاد پر ہی ہر مہینہ میں تین دن، سال میں ایک ”چلہ“ یعنی چالیس دن اور پھر چار مہینے (تین چلے ) خدا کے راستے یعنی تبلیغ میں لگانے کا نصاب مرتب پایا۔

مشہور مبلغ مولانا طارق جمیل بھی اپنا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ مسجدِ بنوی میں حاضری کے وقت روضہ رسولﷺ پر سلام عرض کیا، جب باہر نکلا تو ایک شخص بھاگتا ہوا آیا۔ بتایا کہ اس کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے، اس نے عصر کی نماز کے وقت خواب میں رسول اللہﷺ کی زیارت کی، جنہوں نے فرمایا کہ طارق جمیل کو میرا سلام کہنا۔ تاہم مولانا طارق جمیل نے واقعہ بیان کرنے کے بعد یہ گرہ بھی لگائی کہ خواب کوئی دلیل نہیں ہوتی، یہ مرنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ کون مقبول ہے اور کون مردود۔ کس کا عمل خالص اللہ کے لیے ہے اور کس کا دنیا کے لیے۔

لال مسجد کے مولانا عبدالرشید غازی کے بارے بھی سب جانتے ہیں کہ وہ اسی لیے آخر وقت تک مسجد میں ڈٹے رہے کہ ان کے پاس بہت سے ”بشارتیں“ تھیں۔ وہ بھی اپنے انٹرویوز میں یہ بات دہراتے تھے کہ ہم حق پر ہیں اور بہت سے لوگ ہمیں آ کر بشارتیں بھی دیتے ہیں۔

جنرل ضیاء الحق کی وفات کے بعد جامعہ اشرفیہ (لاہور)کے مولانا عبدالرحمٰن اشرفی کا ایک کتابچہ شائع ہوا جس کا عنوان تھا ”جنرل صاحب کو سرکارِ دوعالمؐ کی طرف سے کئی سلام پہنچے، کئی پیغام آئے“۔ ویسے تو نام سے ہی واضح ہے کہ اس میں کیا رقم تھا لیکن اس میں ایک آدھ نہیں، درجنوں ایسے واقعات کا ذکر تھا جنہیں پڑھ کر ہم ایسے عقیدت میں ڈوبے افراد حسرت سے کفِ افسوس ملتے کہ ہم نے کیسے نابغے کو کھو دیا ہے۔

اس سے بھی پیچھے جائیں تو قیامِ پاکستان کی بنیاد میں بھی ایسے ”مذہبی“ خوابوں کا خاصا عمل دخل نظر آتا ہے۔

مولانا اشرف علی تھانوی نے 1945 ء میں الیکشن کے زمانہ میں یو پی کے تھانہ بھون کی جامع مسجد میں وعظ کرتے ہوئے فرمایا ”تم لوگ کہتے ہو کہ محمد علی جناح ایسا ہے، ویسا ہے، مگر رات کو جو میں نے خواب دیکھا ہے وہ کچھ اور ہی ہے، میں نے دیکھا کہ ایک وسیع و عریض میدان ہے، جس میں کروڑ ہا تعداد میں لوگ ہیں۔ درمیاں میں ایک مرصع تخت ہے، جس کا حسن اور خوبی بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں، وہ کسی اور دنیا کا تخت ہے، اس تخت پر حضور اکرمﷺ اور ایک داڑھی منڈھا شخص تشریف فرما ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ یہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں۔ یہ شخص آپ کے ساتھ کون ہے؟ حضور سرور کائناتﷺ نے فرمایا یہ محمد علی جناح ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •