پی ٹی وی کو کیسے زندہ رکھا جائے؟


آنچ

اداکار شفیع محمد کو شہرت دلانے والا یہ ڈرامہ گھریلو مسائل کو آشکار کرنے کے باعث خواتین میں تو بہت ہی زیادہ مقبول ہوا۔ ایک ادھیڑ عمر شخص کی پہلی بیوی جب اسے امریکا بسنے کے لیے طلاق لے کر چلی جاتی ہے تو اس کے بعد دوسری شادی اور بڑے ہوتے بچوں کی سوتیلی ماں سے کشمکش یہ سب عوامل صاف ظاہر ہے خواتین کے دلوں کو کچھ زیادہ ہی بھائے جب ہی یہ ڈرامہ اپنے دور میں انتہائی مقبول ثابت ہوا بلکہ سڑکوں کو سنسان کر دینے کا باعث بنا۔ ناہید سلطانہ اختر کے ایک ناول کے خیال پر مبنی اس ڈرامے کی ہدایات طارق جمیل نے دیں جبکہ شفیع محمد اور شگفتہ اعجاز نے مرکزی کردار ادا کیے۔

راہیں

مرحوم مصنف منشا یاد کے پنجابی ناول ٹاواں ٹاواں تارا کو جب اردو شکل میں پی ٹی وی کے لیے ڈھالا گیا تو وہ ’راہیں‘ کی شکل میں ایک مقبول ترین سیریل ثابت ہوا، جس نے 1998 میں پی ٹی وی نیشنل ایوارڈ بھی اپنے نام کیا۔ طارق جمیل کی ہدایات سے سجے اس ڈرامے میں شہری اور دیہی علاقوں کے مسائل کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا۔ اس میں دیہی عوام کو سیدھا اور شہری افراد کو نخریلا دکھایا گیا اور تعلیم کی اہمیت کو سمجھانے کی کوشش کی گئی۔ توقیر ناصر، سلیم شیخ، حبیب اور غیور اختر سمیت ہر اداکار اپنے کردار میں انگوٹھی کے نگینے کی طرح فٹ نظر آیا اور ان کا جادو اتنے عرصے بعد بھی لوگوں کے ذہنوں پر طاری ہے۔

اندھیرا اجالا

ایڈونچر پسند ناظرین آج تک پی ٹی وی پر نشر ہونے والے جرائم کی تحقیقات پر مبنی ڈرامے ’اندھیرا اجالا‘ کو نہیں بھولے۔ 1984۔ 85 میں یونس جاوید کی تحریر اور رشید ڈار کی ہدایات میں بننے والے اس ڈرامے کو پاکستان میں جرائم کے خلاف پولیس کی مثبت کاوشوں کے اظہار کا پہلا ڈرامہ بھی کہا جا سکتا ہے تاہم یہ درحقیقت اس دور میں کامیڈی ڈرامے کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ قوی خان نے اعلیٰ پولیس افسر کی شکل میں مرکزی کردار ادا کیا جبکہ جمیل فخری اور عرفان کھوسٹ نے بھی اپنے کرداروں کو لازوال بنایا۔ اس ڈرامے کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کے عہد کے معروف اداکار فیصل قریشی بھی اس میں چائلڈ اسٹار کے طور پر موجود ہیں۔

سونا چاندی

ایک اور کلاسیک پی ٹی وی کامیڈی ڈرامہ سونا چاندی ہے جس کے اندر اس دور کے لاہور کے حقیقی کردار نظر آتے تھے۔ بنیادی طور پر یہ ایک جوڑے یعنی سونا چاندی کے گرد گھومنے والا ڈرامہ ہے جو سادہ مزاج اور معصوم میاں بیوی ہوتے ہیں اور مختلف گھروں میں کام کرتے ہوئے متعدد افراد کے مسائل حل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ ایک حقیقی جوڑے سونا اور چاندی سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا تھا جو ضلع بھکر کے رہائشی تھے، ڈرامے کے مصنف منو بھائی نے برصغیر کی تقسیم سے پہلے اسی جگہ تعلیم حاصل کی تھی اور اس جوڑے سے متاثر ہو کر ہی انہوں نے اسے تحریر کیا جسے راشد ڈار نے انتہائی خوبصورتی سے پیش کیا۔

تنہائیاں

تنہائیاں اسٹار کاسٹ جیسے شہناز شیخ، آصف رضا میر، بدر خلیل، بہروز سبزواری اور مرینہ خان سے سجا ہوا تھا۔ اس ڈرامے کے ہر اداکار نے اپنے کردار سے مکمل انصاف کیا اور اسے شاہکار بنا دیا۔ حسینہ معین کا اسکرپٹ اور شہزاد خلیل کی ہدایات میں بننے والا یہ ڈرامہ دو بہنوں کے گرد گھومتا ہے جو ایک حادثے میں اپنے والدین سے محروم ہوجاتی ہیں اور خالہ کے ساتھ مل کر

زندگی کی مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔

زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے اور منزل کی جانب سفر جاری رکھتے ہوئے ان کا واسطہ کئی دلچسپ کرداروں سے پڑتا ہے اور یہ سفر دیکھنے والوں کو بھی اپنے ساتھ باندھے رکھتا ہے۔

الف نون

کمال احمد رضوی اور ننھا پر مشتمل ڈرامہ ’الف نون‘ جس نے بھی دیکھا ہوگا، وہ اسے کبھی نہیں بھول سکتا، کیونکہ ایک تیز شخص کی چالاکیوں کا بھانڈہ اس کا سادہ لوح ساتھی کس طرح پھوڑتا ہے وہ دیکھنے کے لائق ہوتا تھا، ڈرامے کی ہر قسط میں ہی معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کو بہت خوبصورت اور تفریحی انداز میں پیش کیا جاتا تھا چاہے وہ کوئی انگلش میڈیم اسکول ہو یا کسی بلڈر کا آفس، کمال احمد رضوی کے قلم کا نشتر معاشرتی بگاڑ کو ہی نشانہ بناتا تھا۔

گیسٹ ہاؤس

گیسٹ ہاؤس پی ٹی وی کا ایک اور ایسا ڈرامہ ہے جس نے اپنے دور میں مقبولیت کے نت نئے ریکارڈز بنا دیے تھے جس میں مسافروں کو درپیش مسائل کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کیا جاتا تھا اور جس کا اصل ہیرو افضل خان عرف ’جان ریمبو‘ تھاجس نے خاکروب کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ کردار اس قدر مشہور ہوا کہ نہ صرف لوگوں کے دل میں گھر کر گیا بلکہ افضل خان کو فن کی دنیا میں امر کر گیا۔

جنجال پورہ

پی ٹی وی کا ایک ایسا ڈرامہ جس کے کردار آج بھی پاکستان کے معاشرے اور خاص کر آج کے سیاسی حالات میں نظر آتے ہے جیسے ماسی پھتو، راجو نائی، جنجال پورے کے سب سے مشہور کردار خواجہ سرا ریما اور ریشم، کم گوہ سادہ مزاج کھری بات کرنے والا پہلوان اور اس کے بیٹے کی محبت کی اور سادگی بھری باتیں۔ فیملی پلاننگ والوں کی چالاک نرسیں اور نئی آنے والی ڈاکٹر صاحبہ، جس میں سب لوگ بظاہر ایک محلے میں رہتے ہیں مگر سب ایک دوسرے سے ناخوش، ہر کوئی ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا اپنی زندگی میں کامیابی اور اصل مقصد سمجھتا۔

عینک والا جن

ویسے تو یہ ڈرامہ بچوں کے لیے تیار کیا گیا تھا مگر بڑوں میں بھی مقبول ہوا بلکہ اب بھی لوگوں کو یاد ہے، حقیقی کہانی، سائنس فکشن اور جادو کے مکسچر پر مبنی کہانی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہی، یہ ایسے جن نسطور کی کہانی تھی جسے نظر کمزور ہونے پر زمین پر بھیجا گیا تھا تاکہ وہ علاج کراسکے اور پھر ایک دلچسپ ایڈونچر شروع ہوتا ہے، مرکزی کردار سے ہٹ کر ہامون جادوگر، زکوٹا جن اور بل بتوڑی کے کردار اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔ اس ڈرامے کو اے حمید نے لکھا تھا جبکہ ڈائریکٹر حفیظ طاہر تھے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3