محبوب کے نام ادھورا خط۔ خود کلامی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنو میرے چاند! کل دوستوں کی محفل میں اچانک سے خوشبووُں کا تذکرہ ہونے لگا۔ یقین مانو میرے ذہن میں تمہاری خوشبو کے علاوہ کسی خوشبو کا گماں بھی نہ آیا تھا۔ میرا خوشبووُں اور خوشیوں سے معطر چہرہ تمہاری اچانک یاد آ جانے سے زرد پرچکا تھا۔ کیا تمہارے بھی ذہن میں وہ دن اسی انداز میں تروتازہ ہے؟

وہ وقت جب تم مجھے تحفہ دینے پر بضد تھے۔ میں جس چیز پر ہاتھ رکھتی تم اسے میرے قدموں میں ڈال سکتے تھے، مگر میری خواہش محض تمہاری خوشبو تھی۔ اور اس کو تاحیات اپنے پاس محفوظ کرکے رکھنا میرا خواب۔ تم نے میری اس معصوم خواہش کو سن کر مجھے بے یقینی سے پہلی بار گلے لگایا تھا۔ اس کے بعد وقت ہم پر کبھی دوبارہ اس انداز میں مہربان ہو ہی نہ پایا۔ یہ تحفہ کسی بھی مادی تحفے سے زیادہ بیش بہا اور قیمتی تھا۔ میں نے اپنے جسم کی خوشبو کو تمہارے چہرے کی مسکان اور خوشبو سے ملایا تھا اور یہ میرے ذہن کی سلوٹوں میں تاحیات کے لئے محفوظ ہو چکی تھی۔

تمہاری خوشبو مجھ پر آج بھی اتنی ہی شدت سے حاوی ہے۔ تمہاری بیگانگی کے وسوسوں کو یہ خوشبو کبھی بے وفا ُیوں سے منسلک ہونے ہی نہیں دیتی۔ تمہاری الجھنوں تمہاری مجبوریوں پر جب کسی کمزور لمحے میں تم سے شکایت کے بارے میں سوچتی ہوں میرے وجود کے اندر مہکتی تمہاری خوشبو مجھے تڑپا کر رکھ چھوڑتی ہے، پھر سے تمہیں میرے وجود کا حصہ ہونے کا یقین دلاتی ہے۔ جب جب تمہاری خاموشی پر میری سانس گْھٹنے لگتی ہیں تب تب یہ خوشبو سہارہ زندگانی بن جاتی ہے۔ یہ ظالم وقت ہر گزرتے دن کے ساتھ جس انداز میں مجھے موت کے قریب کر رہا ہے تمہاری خوشبو کی شدت مجھ پر بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اور مجھے اس بات کا یقین دلا رہی ہے کہ میرے وجود پر تمہارا سایہ ہوگیا ہے۔

میرے چاند! تمہاری یادیں جب سیلاب کی صورت میں آنکھوں سے بہنے لگ جاتی ہیں مجھ پر پھر سے دشت کی کیفیت کو طاری کردیتی ہیں۔ تمہارا میری محبت کی انتہاؤں کو جاننے کے بعد، مجھ سے لپٹ کر رونا مجھ پر آج بھی اسی انداز میں کپکپی طاری کر دیتا ہے۔

محبتوں کا وہ رستہ جس پر چلنے سے پہلے ہم دونوں نے ایک دوسرے سے عہد لیا تھا کہ یہاں مستقل قیام سے گریز کیا جائے گا وہاں تمہاری خوشبو نے نہ جانے کتنے خوشنما پھول اور تتلیاں پیدا کر دی ہیں اور وہ چاند جسے ہم دونوں پہروں تکتے رہا کرتے تھے وہ فلک سے اتر کر میری آنکھوں میں بس چکا ہے اور میں اپنی زندگی کی سحر ہونے سے پہلے بس ایک بار اس چاند کو اپنے پہلو میں لیٹا دیکھنا چاہتی ہوں اس کی چاندنی سے اپنے وجود کو بھگونا چاہتی ہوں۔ جانتی ہوں یہ سب اب ہم دونوں کے لیے ممکن نہیں۔ دنیاوی تعلقات کی رسیوں میں جکڑا ہوا وجود اور اس پر رسم و رواج کا پہرہ ہماری روح پر کاری ضربیں لگا رہا ہے۔ ہم دونوں بے بسی کی انتہاؤں پر جی رہے ہیں۔ مگر سوچوں، خوابوں اور خواہشات پر کبھی کسی کا بس نہیں چلتا۔

تمہاری دیوانی

Latest posts by وجیہہ جاوید (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وجیہہ جاوید کی دیگر تحریریں